تازہ ترین

’سرینگر ایک عظیم شہر ‘

عظمتِ شہرِ سرینگر کی والہانہ ترجمانی

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی
شہر سرینگر کشمیر کا دارالخلافہ ہے۔کشمیر ریشیوں اور منیوں کا مسکن رہا ہے۔اس کو رشی واری بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ ریشیوں کا گلشن ہے۔اس گلشن میں کتنے صوفی اور ریشی پیدا ہوئے، وہ اَن گنت ہے۔وادیٔ کشمیر کو جنت بے نظیر بھی کہا گیا ہے اور ایران صغیر بھی۔اس وادی کشمیر کی جتنی تعریفیں تاریخوںمیںکی گئی ہیں کسی اور جگہ کی شاید ہی کی گئی ہو۔کشمیر پر وقتاً فوقتاً تاریخیں لکھی گئیں۔جن میں راج ترنگنی،تاریخ کشمیر،واقعات کشمیر،ہسٹری آف کشمیر،تاریخ کبیر ،تزک جہانگیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں صرف شعر و شاعری کا ذوق و شوق نہیں تھا بلکہ تاریخ نویسی بھی یہاں کا ایک مشغلہ رہا ہے۔یہاں اکثر و بیشتر ادب کی آبیاری کی گئی اور ادب کو نکھارا اور نہارا گیا۔یہاں صرف کشمیری میں نہیں بلکہ اردو اور فارسی بھی کشمیری کے برابر چلتی رہی اور چلتی ہے۔
زیر نظر کتاب ’’سرینگر ایک عظیم شہر‘‘ جناب شفیع احمد قادری کی تصنیف کردہ ایک تاریخی کتاب ہے۔شفیع صاحب سابق ڈپٹی کنزرویٹر آف فارسٹ رہے ہیں۔ان کو ایک مورخ اور تاریخ دان کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔انکی ایک کتابDiscovering Kashmir ہے جس کو قارئین نے بہت سراہا ہے۔’سرینگر ایک عظیم شہر‘ اْن کی تازہ اور نئی تصنیف ہے۔جو2019میں چھپ کر آگئی ہے اور اسمیں460صفحات ہیں۔اس کی قیمت 895 روپئے ہے۔اس کے سر ورق پر خانقاہ معلی کی تصویر دی گئی ہے۔جس سے کشمیر کے بانی اسلام کو درشایا گیا ہے اور اس کتاب کے پچھلے ورق پر’’ مٹھ‘‘  کی تصویر دی گئی ہے جو زینہ کدل میں واقع ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے’’اپنے ہم وطنوں کے نام ‘‘معنون کیا ہے۔اس کتاب کا سر ورق کس نے بنایا ہے اس کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا پیش لفظ محمدشفیع پنڈت صاحب اور محمد علی شجاع  صاحب کے علاوہ ناشر شیخ محمد فیاض نے لکھا ہے جو مالک میسرز حاجی شیخ غلام محمد اینڈ سنز ہے۔
اس کتاب کو رقم کرنے کے بارے میں خود شفیع صاحب کا کہنا ہے۔’’میں نے یہ کتاب تحریر کی تاکہ یہاں کے طلبہ کو اپنے شہر کی عظمت کے بارے میں معلوم ہو۔۔۔۔یہ کتاب کشمیریوں اور باہر سے آنے والے سیاحوں کے لئے فائدہ مند ہوگی جو سرینگر شہر کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ہوں۔‘‘
میں نے جہاں تک اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے اور سمجھا ہے یہ تاریخ سے زیادہ سرینگر گائیڈ ہے جو ہر ایک شہری کے لئے فائدہ مند اور موزون ہے۔جسمیں یہاں کے اولیائے کرام،شعرا اور ادباء ،آستانے،مسجدیں ،مزارات،خانقاہیں اور یہاں کے باغوں ،سکولوں ، تمام اہم جگہوں اور مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی شروعات سرینگر شہر اور اس کی تاریخ اور تعارف سے کی گئی ہے اور اسکے بعد ہی کشمیر کے اولیائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔جسمیں بانیٔ  اسلام المعروف بلبل شاہ،میر سید علی ہمدانی ؒ،عبد القادر جیلانی دستگیر صاحب خانیارؒ، درگاہ غوثیہ سرائے پائین ؒ،سلطان العارفین ِخانقاہ نقشبندیہؒ  شیخ یعقوب صرفی ؒ،بابا دائودخاکیؒ،اویسی صاحبؒ اور خوشا صاحب ؒکا ذکر بڑے انہماک سے کیا گیا ہے۔انکے ساتھ ہی یہاں کے جتنے بھی آستانے اور مساجد ہیں ان سب کا ذکر مع تاریخ  اس میں درج ہے۔جس میں جامع مسجد نوہٹہ کے علاوہ مسجد عالی کدل، آثار شریف حضرت بل درگاہ،پتھر مسجد،شاہی مسجد سرینگر وغیرہ کے بارے میں اطلاعات موصول کی گئیں ہیں۔یہاں کی خاص جگہوں کا ذکر بھی جن میں امام باڑہ حسن آباد،ملہ کھاہ،کھیر بھوانی،روپہ بھوانی،شنکر اچاریہ یا تخت سلیمانی  کے بارے میں بتا یا گیا ہے۔(اسکا صرف ٹائٹل میں تخت سلیمانی لکھا گیا ہے مگر اسکے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے صرف شنکر اچاریہ کے مندر کا ذکر کیا گیا ہے)۔مندروں میں بھی درگا مندر،وچار مندر گنپت یار،پری ہاس پورہ اشبر گنگا وغیرہ  کی تفصیل دی گئی ہے۔چرچ اور گردواروں کا بھی خاصا ذکر کیا گیا ہے۔ان ساری مسجدوں،آستانوں ،مندروں گردواروں اور کلیسائوں کی تعمیری اور تاریخی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے۔تاریخوں کے ساتھ انکی تاریخ بھی دی گئی ہے۔
کشمیر کے چند چیدہ چیدہ شاعروں ،مصنفو ں، تاریخ نویسوں اور سلاطین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جس میں غنی کشمیری،مہجور،کلہن ،عبد الاحد زرگر،ارنِ مال ،والٹر لارنس، ابھینو گپتااور زین العابدین کے بارے میں بتا یا گیا ہے۔انکی شاعری کا نمونہ اور ان شاعروں اور مصنفوں کی حالات اور واقعات درج کئے ہیں۔
کشمیر ایک قدرتی مناظروں کی جگہ ہے اور دور دور سے سیاح یہاں قرتی مناظر دیکھنے آتے ہیں۔اس کی دھوم پورے جہاں میں ہے اور اسی لئے اس جگہ کو کشمیر جنت بے نظیر کہا جاتا ہے۔ان خاص مقامات اور تفریحی جگہوں کا ذکر بھی اس میں ملتا ہے، جیسے نشاط ،شالیمار، ہارون کے علاوہ برزہامہ،نسیم باغ،چارچناری ،بادام واری،عجائب گھر میوزیم۔ایمپوریم کی بھی سیر کرائی ہے اور بہت خوب کرائی ہے۔
اتنا ہی نہیں بلکہ یہاں کے سکولوں اور کالجوں کا تذکرہ اور تاریخ بھی اسمیں ملتی ہے۔۔جیسے اسلامیہ ہائی سکول،بسکو میموریل،میلنسن اور کشمیر یونیورسٹی کا ذکر بھی ہے۔ جموںوکشمیر یونیورسٹی  کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کب جموں و کشمیر یونیورسٹی معرض وجود میں آئی اور کس طرح سے یہاں ایس پی کالج کے پرنسپل خواجہ غلام احمد عشائی جو قابل اور ماہر تعلیم تھے حکومت نے سپیشل آفیسر مقرر کیا۔کشمیر کی طبی سہولیات کا ذکر بھی ضمناً کیا گیا ہے۔
ان سب مضامین کے علاوہ اس میں بہت سارے مضامین ملتے ہیں۔جن کی تواریخ اور تاریخ پس منظر بھی بیان کیا گیا ہے۔اسمیں کل ملا کر 109موضوعات دئے گئے ہیں۔ان سب کا احاطہ کرنا یہاں پر مشکل ہے۔
کہنا چاہئے کہ قادری صاحب نے بہت محنت اور عرق زیری سے کام کیا ہے اور یہ تاریخ ہمارے سامنے رکھی ہے۔اسکو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قادری صاحب سچ مچ کے تاریخ دان ہیں اور مورخ کا کام کیا ہے۔یہ تاریخ یہاں کے سکالروں اور شاگردوں کے بہت کام آئے گی جو آئے دن کشمیر اور اسکے گرد و نواح پر تحقیقات کرتے ہیں۔ان کے لئے یہ کتاب رہنمائی کا کام کرسکتی ہے۔اسکے علاوہ یہاں کے اولیائوں اور پیروں اور بزرگوں کے بارے میں بھی جانکاری حاصل ہو سکتی ہے۔کشمیر کی زبوں حالی کا ذکر بھی کہیں کہیں دیا گیا ہے کہ کس طرح کشمیر کے لوگ دانہ پانی کو ترستے تھے اور ان کو بیگار پر لیا جاتا تھا، اور ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا تھا۔انکی زبوں حالی اور غربت اور مسکینی پر رابرٹ تھورپ نے کتاب لکھی اور آواز اٹھائی کیونکہ اسکی ماں کشمیری الاصل تھی۔لیکن اسکو زہر دیکر مار ڈالا گیا۔انکی مشہور کتاب ’’مِس گورنمنٹ ان کشمیر ‘‘ہے۔
محمد شفیع پنڈت اس کتاب پر طائرانہ نظر کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛
’’ روابط کشمیر اور مختلف ممالک خاص طور سے ایشیا مرکزی اور راہ ابریشم بہت بڑا وسیلہ بنی۔تجارت کے لئے نیز بدھ مت کی تبلیغ کے لئے اسکو آغاز و اہمیت سب کو خوبصورت سے سحر آفرین انداز سے انہوں نے اپنی کاوش میں سمو کر نہ صرف قاری کو اچھے گائڈ کی طرح انگلی پکڑ کر قدم بہ قدم چلایا ہے بلکہ ساتھ  ہی اپنی حب الوطنی کے جذبے پر ایک دلنواز مہر’سرینگر ایک عظیم شہر‘کے عنوان سے لگا دی ہے‘‘۔
محمد علی شجاع کشمیری کی نظر میں’’زیر نظر کتاب کا مواد جمع کرنے میں قادری صاحب کو کافی محنت مشقت اور سفری مشکلات اٹھانی پڑی ہیں اور کتاب کو پوری دیانت داری ،غیر جانبداری اور جذبہ حب الوطنی کے تحت مرتب کیا ہے‘‘ص19کتاب کے آخر میں ماخذات نہیں دئیے گئے ہیں مگر کتاب کے اندر مقامات کا ذکر کرتے ہوئے اکثر تاریخ حسن،راج ترنگنی یا سر والٹر کا نام آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے ان کی کتابوں سکا مطالعہ کیا ہے اور ان سے استفادہ بھی کیا ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہوگا کہ شفیع صاحب کی محنت رائیگان نہیں ہوئی ہے۔یہ کتاب اس لایق ہے کہ ہم خود بھی پڑھیں اور ہمارے بچے بھی پڑھیںتاکہ ان کو بھی اپنے شہر سرینگر کے بارے میں معلومات ہو جائیں۔میں شفیع صاحب کو اس کتاب کے لکھنے پر اور سرینگر شہر کو عظیم بنانے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!