تازہ ترین

جموں اور کشمیر کے خطے

تقسیم کی لکیریں مزید نمایاں

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
وادی کشمیر اور جموں کے مابین خیالات کے ٹکرائو کی اپنی تاریخ ہے۔گوکہ سیاسی قائدین عقیدے کو ریاست اور سیاست سے دور رکھنے کے بلند بانگ دعویٰ کرتے آرہے ہیں لیکن حقیقت حال یہی ہے کہ جموں اور وادی کے مابین تقسیم کی لکیروں میں ایک واضح لکیر عقیدے کی بھی ہے۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو جموں خطہ ،جموں،کٹھوعہ،ہیرا نگر،سانبہ اور ریاسی اضلاع پر مشتمل ہے اور کشمیر میںوادی کے دس اضلاع کے ساتھ ساتھ پیر پنچال ڈویژن اور خطہ چناب کے سبھی اضلاع کو شمار کیا جاسکتا ہے۔لیکن حکومتی سطح پر بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ انتظامی سطح پر پیر پنچال اور وادی چناب کوبھی صوبہ جموں کا ہی خطہ گردانا جارہا ہے جس نے مذکورہ دونوں خطوں کے اکثریتی عوام کو سالہا سال سے اضطراب کی کیفیت میں زندگی گذارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ان خطوں کے لوگوں کا تمدن،رہن سہن یہاں تک کہ سیاسی سوچ و اپروچ کشمیر کے ساتھ ہی ملتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اہل وادی اور پیر پنچال و چناب خطوں میں رہنے والوں کے دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتے رہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ صوبہ جموں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے بھی پیر پنچال اور چناب خطوں کی بھاری اکثریت کے مفادات کو بعض معلوم اور بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پیر پنچال اور چناب خطوں کے لوگ ہمیشہ سے ہی جموں اور وادی کے دو پاٹوں کے درمیان پستے آئے ہیں۔
 ابھی حال ہی میں سرینگر کے اندر سبھی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے جس ’عوامی اتحاد‘ کا قیام عمل میں لایا اُس کو بھی ابھی تک صوبہ جموں کے ان خطوں تک وسعت دینے کی کوئی سعی نہیں کی گئی ہے۔اور تو اور پیر پنچال اور چناب کا کوئی سیاسی لیڈر یا عوامی نمائندہ ’عوامی اتحاد ‘ میٹنگوں میں شامل نہیںتھا اور نہ ہی ان خطوں سے تعلق رکھنے والے کسی کو اس فورم میں نمائندگی نہیں دی ۔گوکہ’عوامی اتحاد‘ کی دو بڑی جماعتوں یعنی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی پہنچ صوبہ جموں تک بھی ہے لیکن جموں میں ایک مخصوص عقیدے اور نظریئے کی حامل پارٹیاں یا اشخاص جو صورتحال پیش کررہی ہیں وہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ جموں کشمیر،جس سے لداخ کا علاقہ پہلے ہی الگ کیا جاچکا ہے، مزید تقسیم کی راہ پر گامزن ہے۔اس ضمن میں گذشتہ ہفتے جموں میں منعقدہ وہ میٹنگ انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جاسکتی ہے جس میں اطلاعات کے مطابق جموں میں سرگرم چھوٹی بڑی20سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور جس کو ’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ‘ کے خلاف جموںکی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔مذکورہ میٹنگ میں جموں کیلئے  ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔اگرچہ اس اجلاس میں کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت شامل نہیں ہوئی تاہم ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی (جے کے این پی پی) کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ اجلاس میں تقریبا ً20 سیاسی اور سماجی تنظیموں نے ’جموں کاز ‘ کیلئے شرکت کی۔یہ اجلاس ’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ُ کا’ مقابلہ‘ کرنے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ہرش دیوسنگھ نے کہا’’ہمیں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ترقی اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن اس کے بعد جموں کو کچھ نہیں ملا‘‘۔جے کے این پی پی چیئرمین نے مزید کہا’’دہلی نے کشمیر اور لداخ سے بات کی ہے اور جموں کی کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجواسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘‘۔سنگھ نے کہا ’’ریاست جموں اسکا حتمی حل ہے، کب تک جموں کو کشمیر میں ہونے والی غلطیوں کی سزا دی جائے گی، یہاں 4 جی انٹرنیٹ سروس بھی میسرنہیں ہے، حالانکہ یہ کشمیر کی غلطیوں کی سزا ہے اور یہ ہمیںدی جارہی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کسی بھی خطے کے خلاف نہیں ہے، کشمیر اور لداخ کو مناسب حصہ دیں لیکن یہ جموں کے خطہ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔سنگھ کی باتوں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جموں کے ایک مخصوص عقیدے کے لوگوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ایسی راہوں کی تلاش شروع کی ہے جو صرف تقسیم پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ ان لوگوں کے خیالات سے عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کی واضح بو آرہی ہے حالانکہ یہ طویل عرصہ سے نام نہاد سیکولر ازام کے دم بھرتے رہے ہیں۔  
اطلاعات کے مطابق میٹنگ میں شامل ’ایک جٹ جموں‘ کے چیئر مین انکور شرما نے بتایا ’’ ایک جٹ جموں کامطالبہ ہے کہ کشمیر کو دو مرکزکے زیر انتظام خطوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے،ایک مہاجرپنڈتوں کے لئے کشمیر کے اندر ایک یوٹی بننی چاہئے اور باقی ماندہ کشمیر دوسرا یو ٹی ہونا چاہئے تاکہ کشمیری پنڈت کسی خوف کے بغیر وادی لوٹ کر آرام سے زندگی زندگی گذار سکیں‘‘۔ان کا مزیدکہناتھاکہ گپکار اعلامیہ کا’ مقابلہ‘ کرنے کے لئے وہ جموں کے ’ہم خیال‘ لوگوں میں اتحاد چاہتے ہیں کہ وہ جموں کیلئے’ مکمل ریاست ‘کے لئے تحریک چلائیں گے۔شرما نے کہا’’اُن کی میٹنگ کا اہتمام ریاست کے حصول کے لئے کیا گیا تھا، جس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ’’ گپکار اعلامیہ ایک نظریاتی بیان ہے اور اس کا جموں سے نظریاتی جواب ہی دیا جانا چاہئے ،تب ہی جموں کیلئے ریاست کا حصول ممکن ہوسکتا ہے‘‘۔شرما کی ان باتوں سے اندازہ ہورہا ہے کہ جموں میں منعقدہ اس میٹنگ میں کس طرح کے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ۔شرکائے میٹنگ کا مطالبہ تھا کہ وادی کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو کشمیری پنڈتوں کیلئے مخصوص کیا جائے!قابل ذکر ہے کہ حکومت کے سامنے پہلے ہی پنڈتوں کیلئے الگ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس کو لیکر اہل وادی نے شدید اضطراب کا اظہار کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ جموں کے سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس طرح کی تجاویز سے حکومتی منصوبوں کی عمل آوری کی راہ ہموار ہورہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جموں میں منعقدہ اس اہم اور معنی خیز میٹنگ میں’ ڈوگرہ صدر اسمبلی سبھا‘ (ڈی ایس ایس)  چیئرمین گل چین سنگھ چاڑک، چیئرمین’ سینک سماج پارٹی‘ کرنل ایس ایس پٹھانیہ، ریٹائر ڈائریکٹر کالجز پروفیسر جئے کمارشرما،ریٹائر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سدھیر سنگھ، شیوسینا بالاصاحب ٹھاکرے، بجرنگ دل، یونائیٹڈ ڈیموکریٹک الائنس (یو ڈی آئی) راجیو مہاجن، بٹوال کیموٹی اور دیگران سمیت 20 سماجی اور سیاسی تنظیموں نے حصہ لیا۔
وادی کشمیر اور جموں خطے کے ایک مخصوص علاقے کی سیاسی سوچ اور فکرکے باہم ٹکرائو کے بیچ اہل پیر پنچال اور وادی چناب کے لوگوں کے مفادات کی کسی کو فکر نہیں ہے۔بلکہ ایک بہت بڑے رقبے پر آبادان لوگوں کی خواہشات کا نہ جموں میں احترام کیا جارہا ہے اور نہ وادی میں۔ کشمیر میں تب بھی مزاحمتی خیمے کے اندر راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن،بھدرواہ وغیرہ علاقوں کے بارے میں بات ہورہی تھی لیکن اس خیمے کا ناک میں دم کئے جانے سے اہل پیر پنچال اور چناب کا جذبات کا خیال رکھنے والوں کا بھی قحط و رجال پیدا ہوا ہے۔آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ اگر یوں ہی اہل وادی اور اہل جموں اپنے اپنے مفادات کی فکر میں سرگرداں رہے تو وہ دن دور نہیں ہے جب اہل پیر پنچال اور چناب بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنانے کی فکر کرنے لگیں گے جو صرف تقسیم در تقسیم کاہی عمل ہوگا اورجو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہوگا۔تجزیہ نگار ایسی صورتحال کو صرف نئی دلی کے حق میں قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں نئی دلی کیلئے الگ الگ خطوں کے ساتھ الگ الگ بارگین کرنے کی راہ آسان ہوجائے گی۔ایسے بھی مبصرین ہیں جن کا ماننا ہے کہ سابق ریاست جموں کشمیر کو عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو اطمینان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر ان مبصرین کی رائے کو ہی بہتر اور مناسب سمجھا جائے تو پھر ’ڈکسن پلان‘ کے نقوش پر سنجیدگی سے سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔شاید مذکورہ پلان سے پیر پنچال اور چناب خطوں کے لوگوں کے جذبات کی بھی تسکین ہوجائے!
�������������