فورسز صحیح راستے پر، مقامی جنگجو سرنڈر کریں: جنرل راجو

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
بڈگام//جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) 15کور لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا ہے کہ  وادی میں ایک خوبصورت ماحول ہے اور سیکورٹی فورسز صحیح راستے پر ہیں۔انہوں نے  کہا کہ ہتھیار بند نوجوانوں کی خلاف سخت کارروائی کی جائیگی تاہم مقامی جنگجوئوں کو موقعہ فراہم کیا جارہا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں  اور پر امن زندگی گزاریں ۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں یوسمرگ فیسٹیول کے موقع پر 15ویں کور کے کمانڈرنے صحافیوں کو تقریب کے حاشیہ پر بتایا کہ موسم گرما میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی حفاظت کرنے والے دستوں کی سخت نگرانی کے سبب دراندازی کم ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر صورتحال قابو میں ہے اور رواں سال جنگجوئوں کے ذریعہ دراندازی کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلہ میں کم تھی۔انہوں نے تاہم کہا کہ آئندہ دو ماہ زیادہ اہم ثابت ہوں گے کیونکہ  شدید برف باری کی وجہ سے دراندازی کے راستے بند ہونے سے قبل پاکستان مزید شدت پسندوں کو اس طرف بھیجنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی جنگجوؤں کو اس جانب دھکیلنے کے لئے جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں ، اور وہ لانچنگ پیڈ وں پر منتظر ہیں تاکہ اس طرف داخل ہوں۔
وادی کے میدانی علاقوں کی صورتحال کے بارے میں   جنرل راجو نے بتایا کہ فورسز نے جنگجوئوںکے خلاف متعدد کامیاب آپریشن کئے۔انہوں نے کہا ، ’’ہم ایک بار پھر مقامی نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں ، جو جنگجویت کی راہ پر گامزن ہیں ، بندوق کی راہ چھوڑیں ،قومی دھارے میں واپس آئیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ پرامن زندگی گزاریں‘‘۔تاہم انہوں نے کہا  جن لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔کور کمانڈر کا کہنا تھا’’ جو تشدد کے راستے کو چھوڑ کر قومی دھارے میں آناچاہے گا اسکا خیر مقدم کیا جائے گااور انکی واپسی کو آسان بنائیںگے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں اس وقت ماحول ساز گار ہے اور فورسز صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔جی او سی نے بتایا کہ جنگجوئیت نے کشمیر کو کچھ نہیں دیا ہے ۔ راجو نے کہا جنوبی کشمیر میں صورت حال نار مل ہے ۔انہوں نے کہا وہاں معاشی سرگرمیاں وہاں بڑھ رہی ہیں۔ سیب کی تجارت میں بھی تیزی جاری ہے۔ اگر کورونا کم ہوگیا تو مجھے یقین ہے کہ اسکول بھی دوبارہ کھل جائیں گے۔

تازہ ترین