جدید ٹیکنا لوجی انسانی زندگی کا ایک اہم جزو

سائنس و ٹیکنالوجی

تاریخ    26 اکتوبر 2020 (00 : 12 AM)   


محمد اشرف
انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ وہ قدرت کے مظاہر کو اظہار کا لبادہ بخش سکے ،سائنس کے عجائب اور ٹیکنا لوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کس قدر عظیم ہوگا جس نے مٹھی بھر انسانی ذہن کو اس قدر خصائل سے نوازا ۔یہ سب کمال میرے رب کا ہے ،ورنہ انسان کی اور اس کی بساط کیا ۔مٹی اور راکھ کا ساٹھ سالہ ڈھیر جو بالآخر خود بھی مٹی میں مل جاتا ہے ۔اس کے بنائے ہوئے کارنامے کئی سو سال تک زندہ و تابندہ رہ جاتے ہیں ۔
 اُس دور کو گذرے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے جب زندگی سادہ ضرور ہوا کرتی تھی لیکن مشکلات سے بھری پڑی تھی ۔جب سفر مختلف صعوبتوں کے ساتھ گذار کر کئی دنوں پر محیط ہوا کرتا تھا اُس وقت کو گذرے بھی زیادہ وقت نہیں ہوا جب ہم دنیا ومافیہا سے بے خبر رہا کرتے تھے اور یہ بات بھی کل کی ہی لگتی ہے جب کافی عرصہ تک دور بیٹھے اپنے پیاروں کی آواز سننے کے لئے کان اور شکل دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس جایا کرتی تھیں ۔انسان نے اپنی سوجھ بوجھ اور سوچ وچار سے اپنے مسائل سے نکلنے کا راستہ نکالا اور ایسی ایسی ایجادات کیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جائے جس کو ٹیکنا لوجی کا نام دیا گیا ،جس نے ہماری اس دنیا کو گاؤں میں بدل کر رکھ دیا ۔اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت کئی دنوں کا سفر چند گھنٹوں پر محیط ہو گیا اپنے پیاروں کو دیکھنے اور سننے کی آرزو ویڈیو اور آڈیو کال کی بدولت صرف ایک بٹن دبانے کے فاصلے پر رہ گئی ۔دنیا و مافیہا سے بے خبر اب دنیا بھر کی خبریں اور معلومات انٹرنیٹ کی بدولت کسی بھی وقت حاصل کر لیتے ہیں جو محض ایک بٹن دبانے پر منحصر ہے ۔حتی کہ اب علم کی پیاس بجھانے کے لئے در بدر پھرنے کے بجائے آن لائن ایجوکیشن کے نام سے درس و تدریس کا اہتمام بھی موجود ہے ۔انٹر نیٹ کی دنیا ایک ضرورت بھی بن چکی ہے اور اگر آج کل کے دور کے حساب سے اگر اس کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
موجودہ دور میں جدید ٹیکنا لوجی جوں جوں ترقی کر رہی ہے ،انسان کی انسانیت و اخلاقیات ،محبت و الفت ،شرافت و دیانت ،عبادت و ریاضت ،عدالت و صداقت ، اخوت وہمدردی ، آداب و احترام ،اطعام و اکرام ،غریب پروری و تیمارداری میں رفتہ رفتہ واضح کمی بھی رونما ہوتی جا رہی ہے اور اب انسان انسانیت سے نکل کر مشین کا روپ دھار رہا ہے ۔ایسی ایجادات کے نمود سے پہلے یہ تمام اخلاقی اقدار کافی حد تک برقرار تھیں ۔انسانیت کہ جگہ اب مادیت لے رہی ہے ۔محبت کی جگہ اب نفرت اپنا گھر بسا رہی ہے ، شرافت و دیانت کے مقام پر بدمعاشی اور خیانت قابض ہوتی جا رہی ہے ،عبادت و ریاضت کی جگہ اب ساز و سرود غصب کر رہا ہے ،عدالت و صداقت پر اب ظلم و فریب شب خوں مار رہا ہے ، اخوت وہمدردی کی جگہ اب شقاوت و نفرت حاکم ہوتی جا رہی ہے ۔اِن ساری چیزوں کے باوجود موجودہ دور میں ٹیکنا لوجی ہمارے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس میدان میں اب اپنے پرچم کو بلند کریں ۔اِس میدان میں مہارت پیدا کرنے والے آج پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں کر چکے ہیں ،بغیر کسی ظاہری طاقت ، دولت، فوج اور ظاہری اسباب کے باوجود ٹیکنا لوجی کے ماہرین آج پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں ۔وہ طاقتور ،مضبوط اور غالب ہیں اور یہی چیزیں آج مجموعی طور پر غلبہ کی وجہ بن چکی ہیں ۔اس لئے ٹیکنا لوجی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس میدان میں زیادہ سے زیادہ مہارت پیدا کریں ۔آگے بڑھیں اور عزم و حوصلہ کے ساتھ کام کریں۔
 اگر چہ جدید ٹیکنا لوجی کی بدولت ہمیں بے شمار فوائد مل رہے ہیں اور ان ایجادات کو انسانیت کی خدمت اور مدد کے لئے ہی بنایا گیا ہے ،لیکن یہ انسان کی سوچ ہی ہے جس نے اس کے صحیح اور غلط استعمال کے فرق کو بالکل متاثر کر کے رکھ دیا ہے ۔خاص طور پر نوجوان نسل پر جدید ٹیکنالوجی نے منفی اثرات مرتب کئے ہیںاور اس کو وقت کے زیاں کا سبب بنا ہوا ہے ۔کسی بھی چیز کے فائدے و نقصانات ہماری اپنی سوچ پر ہی منحصر کرتے ہیں ۔اگر انٹر نیٹ کی دنیا سے مستفید ہو رہے ہیں تو اس کے لئے اچھے برے دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے لئے وہی چننا چاہئے جو ہمیں فائدہ دے ناکہ وقت کے زیا ں کا سبب بنے ۔اس کے لئے نوجوان نسل میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور وہ شعور تعلیم کے ذریعہ ہی آ سکتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ تعلیم کے شعبے میں جدید ٹیکنا لوجی اور سائنس کو اہمیت دی جائے کیوں کہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں جدید ٹیکنا لوجی کی بڑی اہمیت ہے ۔
 کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم سب بخوبی واقف ہیں جس کے چلتے معاشی ،سماجی طور پر پوری دنیا مکمل طریقے سے کورونا کے شکنجے میں آ چکی ہے ۔ پوری دنیا میں ابھی تک لاک ڈاؤن جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے طلبا کا تعلیمی سال بہت زیادہ متاثر ہوا مگر اسی ٹیکنا لوجی نے کورونا جیسی وبا میں بھی تعلیم سے کلی طور پر محروم ہونے سے بچا لیا۔چھوٹے شہروں اور دور دراز کے علاقوں سے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد شہروں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھی۔ہاسٹلز میں رہنے والے ان طلبا کو کیمپس کی بندش کے بعد اپنے آبائی علاقوں کو جانا پڑاجس کی وجہ سے طلبا کا یہ تعلیمی سال بری طرح متاثر ہو گیا۔ لہذاآن لائن کلاسز کے علاوہ دوسرا کوئی ایسا حل پیش نظر نہیں تھا جس کے ذریعہ تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے ۔آن لائن کلاسز میں انٹرنیٹ پر پہلے سے موجود ذرائع جن میں گوگل پلس، زوم، یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا اپلیکیشنز کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آن لائن کلاسز میں وہ تمام عوامل تو موجود نہیں کہ جو ایک طالب علم براہ راست سیکھتا ہے اور اس کی علمی اور سماجی نشو نما ہوتی رہتی ہے لیکن موجودہ سنگین صورتحال کے پیش نظر آن کلا سز ٹیکنا لوجی کا ایک مؤثر اور احسن اقدام ثابت ہوا۔
(مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد میں ایم سی اے کے طالب علم ہیں)
 

تازہ ترین