تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کیا قرآن و سائنس میں مطابقت ہے؟

ساتویںقسط

تاریخ    26 اکتوبر 2020 (00 : 12 AM)   


شہباز رشید بہورو
قرآن اور سائنس میں آپسی مطابقت کے حوالے سے ایک حقیقت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے جو انسان کو اس دنیا میں اپنی اصلی حیثیت سے متعارف کرانے کا معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔وہ یہ کہ انسان سائنس کا فیصلہ حتمی تسلیم نہ کرے بلکہ اس کو محض انسان کی ذہانت و فطانت کا ایک رخ سمجھے جس کا مقصد مادی کائنات کی مسلسل تسخیر ہے۔اس عملِ تسخیر میں تیر کا خطا کرنا یا تیر کا نشانے پر لگنا دونوں امکانات موجود ہیں ۔سائنس انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور انسان چونکہ ہر اعتبار سے محدود ہے اس لئے اس کا اخذ شدہ نتیجہ بھی محدود اور ناقص ہو سکتا ہے تاآنکہ مسلسل کوششوں کی وجہ سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائے جو قرآن سے مطابقت رکھتا ہو۔انسان کا علم چونکہ محدود ہے اس لئے اس کے علم کی ہر کامیابی کو حتمی تسلیم نہ کیا جائے ۔اسی پس منظر میں سائنس کی کامیابیوں کی وجہ سے سائنسی علوم کو علمِ وحی سے بالاتر سمجھنااور بالآخر انسان کو مذہب سے برتر گرداننے کی کوشش کرنا احمقانہ فعل ہے۔مذہب کا کامل اور صحیح ترین ذریعہ قرآن مجید ہے اس لئے سائنس کے علم کو علمِ قرآن پر فوقیت دینا انسان کی ایک عظیم خطا ہے جس کا نتیجہ آج کے دور میں لادینیت و دہریت کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔البتہ سائنس کے علم کو بقول ڈاکٹر اسلم پرویز(سابق وائسچانسلر اور سائنس اور قرآن کے موضوع پر کئی تصانیف کے مصنف)"قرآن کی آفاق و انفس کی آیات کو سمجھنے کے لئے سائنس کو ایک Tool کے طور پر استعمال کرنا چاہئے"۔سائنس کی بنیاد قانونی سطح پر چونکہ وحی پرنہیں ہے اس لئے اس میں ہر وقت بدلاو کا امکان موجود رہتا ہے ۔جس طرح انسان مختلف ظاہری حالات کو دیکھ کر اپنی سوچ اور فکر بدلتا رہتا ہے اسی طرح سائنس بھی مختلف لوگوں کے ذہن میں جاکر اپنی صغریٰ کبریٰ بدلتی رہتی ہے۔لیکن یہ تبدیلیاں سائنس کی اصلی ہیئت کے طور پر تسلیم نہ کی جائیں بلکہ حقیقت تک پہنچنے کے لئے محض ذرائع کی تبدیلی سمجھی جائیں جیسے ہمیں کسی پہاڑی مقام تک پہنچنے کے لئے مختلف ذرائع آمدورفت بدلنے پڑتے ہیں ۔اگر کوئی سائنسی تحقیق قرآن کی واضح آیات سے ٹکراتی ہے تو آیات کی غلط تاویل و تعبیر کرنے سے  مسلم دانشوروں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور وہاں پر اپنی کم علمی کا اقرار کرکے عزت محسوس کرنی چاہئے ۔علمائے کرام کو اس کے برعکس قرآن کی مذکورہ حقیقت کی روشنی میں اپنے متعلقہ محققین کو اُس تحقیق کا تنقیدی جائزہ لینے کا مشورہ دیں جس کو قرآن کی آیات سے مطابقت دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔کیونکہ قرآن کی آیات انسان کی اس دنیا میں مسلسل سائنسی و تحقیقی سفر میں کامل راہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک منزل بھی مقرر کرتی ہیں۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں" اے گروہ جن و انس اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو  ۔  نہیں بھاگ سکتے  ۔  اس کے لیئے بڑا زور چاہیے."قرآن نے اس ایت میں انسانوں کو زمین کی سرحدوں سے باہر نکلنے کی تعدی دی ہے اور ساتھ ہی مذکورہ سرحدکو عبور کرنے کے لئے طاقت یا سلطان کی حاجت کا ذکر کیا ہے۔اس ایک آیۃ مبارکہ میں انسان کے لئے ترقی کی حدود کو متعین کیا گیا ہے کہ آپ زمین کی حدود سے باہر نکل سکتے ہو بشرطیکہ کہ اتنی طاقت حاصل ہو۔آج سے چودہ سو سال پہلے اس ایک مبارکہ تفسیر جو بیان کی جا سکتی تھی وہ قدیم مفسرین نے ایک بہترین اسلوب میں پیش کی ہے ۔لیکن دور جدید میں اس آیت کی واضح تفسیر سمجھ میں آتی ہے کہ انسان نے راکٹ، اسپیس شیٹل اور اسپیس کرافٹ بنا کر وہ سلطان (Escaped velocity )کسی حد تک حاصل کی ہے جس کے بل بوتے پر وہ زمین کی گریویٹیشنل کشش کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔20نومبر 1998کو انسان نے انٹر نیشنل اسپیس اسٹیشن (International space station)کا ایک حصہ لانچ کیا جو زمین سے 420کلومیٹر کی بلندی پر واقع زمین کے اردگرد 93منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس اسٹیشن پر خلائی ریسرچ کے حوالے سے اعلیٰ کام کیا جارہا ہے۔چاند پہ انسان کا قدم بھی اسی سلطان کی نسبت سے ہے۔قرآن مجید نے  مادی و روحانی اعتبار  سے انسان کے سامنے منزلیں مقرر کی ہیں اور جن کی تحصیل کے لئے انسان کو ایک لائحہ عمل اپنانے کی تلقین بھی کی ہے۔قرآن نے انسان کو محنت و مشقت کے ذریعے اعلیٰ مراتب حاصل کرنے کی راہنمائی فرمائی ہے۔قرآن مجید میں ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا، جس کی اس نے کوشش کی ہو۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جاں فشانی‘ محنت و مشقت‘ سعی و کوشش کے بغیر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی‘ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے محنت وسعی لازم ہے۔ عرب کے بادیہ نشینوں نے اسلام کی راہنمائی میں محنت و مشقت کا رویہ اپنا کر عمل کے ہر میدان میں انقلاب برپا کیا۔تاریخ، سیاست، حکومت، ریاضی، سائنس اور ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کیا۔
قرآن مجید نے ساڑھے چودہ سو سال قبل جن سائنسی حقیقتوں کو بے نقاب کیا تھا آج سائنس ترقی کرتے کرتے اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ ان آیات سے مطابقت حاصل کرچکی ہے یا کرنے کے قریب ہے۔کائنات مستقل بڑھ رہی ہے یہ بات بیسویں صدی میں اسٹیفن ہاکنگ نامی سائنسدان نے کہی ہے اس سے پہلے دنیا اس بات کا تصور بھی نہیں رکھتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمایا:آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور بے شک ہم اس میں وسعت دینے والے ہیں (الذاریات). انیسویں صدی تک دنیا اس بات کو مانتی تھی کہ یہ سورج ایک جگہ رکا ہوا ہے جبکہ سیارے اور زمین اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ لیکن یہ تھیوری غلط ثابت ہوئی۔ اب سائنس کہتی ہے کہ سورج بھی اپنے مدار میں گردش کر رہا رہا ہے اور یہ بات قرآن نے پہلے ہی بتا دی تھی ۔"اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے۔سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں" (یسین). 
درد محسوس کرنے کی صلاحیت ہماری پوری جلد میں ہوتی ہے۔یہ بات انیسویں صدیں میں سائنس نے ثابت کی اس سے پہلے سائنس کہتی تھی کہ درد دماغ کے ذریعے محسوس کیا جاتا ہے۔ اب یہ تھیوری غلط ثابت ہو گئی ہے۔ جب کہ قرآن نے چودو سو سال پہلے ہی بتا دیاتھا۔
"جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے۔ تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں،اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے" (النساء)
قرآن مجید نے لوہے کی پیدائش کے متعلق فرمایا ہے کہ "ہم نے لوہا لوگوں کے فائدے کے لئے اتارا جس میں بڑا ہی زور ہے (الحدید). اس کا مطلب یہ ہے کہ لوہا اس زمین کی پیداورا نہیں ہے بلکہ باہر سے لایا گیا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ لوہے کو ہم نے نازل کیا ہے ۔نزول کے لغوی معنی ہے ہی اتارنے کے ۔جیسے قرآن کو آسمان سے نازل کرنے کے لئے لفظ "نزل "استعمال ہوا ہے۔قرآن کہتا ہے "انا انزلنہ فی لیلۃ القدر "۔اسی طرح سے لوہے کی زمین پر پیدائش کے حوالے نازل کر نے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔آج سائنس کے مطابق لوہا زمین پر خلا سے سپر نوا (Giant Supernova )کے دھماکے سے یا میٹورائٹ (Meteorite) کے گرنے سے  آیا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ابھی سائنس اس مقام تک بھی نہیں پہنچ چکی ہے کہ ہر آیت کا مفہوم سمجھانے کا رول ادا کرے۔بہت ساری ایسی آیات بھی ہیں جن پر سائنس بالکل خاموش ہے اور اپنی مزید ترقی کی منتظر ہے ۔
 
جاری۔۔۔۔۔۔۔رابطہ .7780910136