افسانچے

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


خالد بشیر تلگامی

سپنے

اُسے اپنی بڑھتی عمر کا احساس تھا، لیکن وقت پر کس کا پہرہ رہا ہے۔ آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ 
اسی شش و پنج میں وہ آئینہ کے سامنے جابیٹھی، اپنے سراپا کاجائزہ لینے کے بعد ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنگار دان اُٹھا لیا۔ پہلے اپنے چہرے کا میک اَپ کیا، پھر بالوں کو کلر کرکے آئینہ پر نظر پڑتے ہی شرما گئی۔
اُف۔۔۔ جوانی کی دستک سے دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔
���
 

بھوک 

 
بھکاری دن بھر گلی کوچوں میں بھوک کی لاحاصل صدائیں بلند کرتا رہا ۔سلیم کے دروازے پر عین اس وقت دستک دی جب وہ کھانا شروع کرنے والا تھا ۔یہ بات سلیم کو سخت ناگوار گزری ۔وہ غصے میں اٹھا تو سالن کی پلیٹ الٹ گئی ،باہر جا کر اس نے سارا غصہ بھکاری کو گالیاں سناتے ہوئے نکالا۔صحت مند بھکاری دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اس کی بھوک گھونسوں سے مٹائی جائے ۔مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے ہوٹل کی جانب نکل گیا ۔قریب ایک گھنٹے بعد جب وہ واپس آ رہا تھا تو  بھکاری کو کچرے کے ڈھیر سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے پایا ۔وہ متجسس نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ۔چند لمحوں بعد بھکاری کو اپنی مطلوبہ چیز مل گئی اور وہ بے تابی سے باسی روٹی کاٹکڑا کھانے لگا سلیم سر جھکا جانے ہی والا تھا کہ ایک کتے کو بھکاری کی طرف جاتے دیکھ کر رک گیا۔ بھکاری نے کتے کو بھوکا جان کر ہاتھ میں پکڑا ہوا ٹکڑا اسکے سامنے پھینک دیا ۔۔۔سلیم کو لگا جیسے بھکاری نے  اسے زمین پر پٹخ دیا ہے ۔
 

یہ کیا ہو رہا ہے

ارشد نے اردو کے معروف افسانہ نگار کے افسانے کا انگریزی میں ترجمہ کر کے فیس بک پر اپلوڈ کیا۔کمینٹس میں بہت سارے لوگوں نے افسانے پر اپنی اپنی رائے دی۔لیکن افسانہ نگار کا کمینٹ سب کے لئے حیرت کا باعث بن گیا۔
افسانہ نگار نے لکھا تھا 
"اس میں افسانہ یا کہانی کہاں ہے..ذرا ناچیز کو بھی سمجھایئے...مجھے لگتا ہے انگریزی ادب میں افسانے کے نام پر انگریزی کے اُدبا مذاق کر رہے ہیں..میں غلط بھی ہو سکتا ہوں..چھوٹا طالب علم ہوں"
ارشد افسانہ نگار کا کمینٹ پڑھ کر حیران رہ گیا. اور جواب میں لکھا
"سر آپ کو کیا ہو گیا۔ یہ آپ کے ہی افسانے کا ترجمہ ہے جس پر آپ کو کچھ سال پہلے ایوارڈ ملا تھا!!!
���
 
موبائل نمبر9797711122
 

 

تازہ ترین