تازہ ترین

اولاد کا درد

تحریر

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
آج وہ بہت خوش تھی ۔اُس سے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید دنیا کی ساری خوشیاں اللہ نے آج اس کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔وہ بات بات پے قہقہ لگا کر جیسے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔اس سے دیکھ کر کوئی بھی یہ گماں نہ کر پا رہا تھا کہ اُس نے کل ہی اپنے چاند جیسے بیٹے کو در گو ر کیا ہے۔اپنے غم کو  قہقوں میں چھپاتے چھپاتے اس کی نظر ایک دس سالہ بچے پر پڑی ۔اس بچے کو دیکھ کر وہ جیسے پاگل ہونے لگی اور اس کی ہنسی، جو کچھ لمحہ پہلے بالکل اصلی معلوم ہورہی تھی، اچانک سے اس کے چہرے پر سے غائب ہوگئی۔وہ کافی مدت تک اس بچے کو دیکھتی رہی ،پھر خودسے  ہی باتیں کرنے لگیــ’’نہیں نہیں یہ شاہد نہیں ہے ۔اُسے تو میں نے صبح ہی خاک کے حوالے کر دیا۔اب وہ واپس کیسے آسکتا ہے ۔‘‘یہ جملے دہراتے دہراتے وہ جیسے سوچ کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔اُسے شاہد کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت تک کے اوقات یاد آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب میرے بطن سے لڑکا ہوا ہے کہ لڑکی۔۔۔۔۔۔اگر لڑکی ہے تو مجھ سے زیادہ خوش قسمت کوئی نہیں اور اگر میں نے لڑکے کو جنا ہے تب بھی اپنے رب کی شکر گزار ہوں ۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے اُسے جب لڑکے کی خوش خبری سنائی تو اُسے انتہائی مسرت حاصل ہوئی ۔۔۔۔۔۔یہ سچ ہے کہ وہ اُتنی خوش لڑکا پا کر نہ ہوئی جتنی شاید لڑکی پاکر ہوتی لیکن پھر بھی اپنے بطن سے اولاد جننا ایک عورت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔۔۔۔صادیہ آئی اور کہنے لگی ، دیدی !میں ماسی بن گئی ۔۔وللہ دیدی میں اپنے بھانجے کو دنیا کا ہر ایک آرام دوں گی ۔اُس کے لیے روز نئے نئے کھلونے لادوں گی ۔۔۔۔اور آپ کو دیدی اس کے ساتھ کھیلنے تک کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔۔دیدی آپ شاہد کو جھولے میں رکھ کر آرام کرو۔۔۔کیوں کہ آپ نے کل سے آرام بھی نہیں کیا۔۔۔۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر میری چھوٹی بہن صادیہ۔۔۔۔۔
اماں دوڑی دوڑی آکر میرے گلے لگ گئی اور بولی کہ تو نے شاہد کے روپ میں مجھے اور اپنے باپ کو ایک حسین تحفہ دیا ہے۔۔۔۔۔اللہ تیری گود ہمیشہ بھری رکھے ۔۔اباجان بھی اماں کے ساتھ ساتھ چل کر میرے روبرو ہوئے اورمیرے والدین میری بلائیں لینے لگے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد دن گزرتے گئے ۔۔۔مہینے رخصت ہوگئے ۔۔۔سال بدلنے لگے اور شاہد دن بہ دن ان کی آنکھ کا تارا ہوگیا۔ شاہد جیسے میری زندگی بن گیا ۔۔وہ میری روح میں اس طرح تحلیل ہوگیا کہ مجھے شاہد کے سوا جیسے کچھ نظر نہ آنے لگا۔۔۔۔یہ سچ ہے کہ والدین اور اولاد کا رشتہ ہی ایسا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔شاہد آج پانچ سال کا ہوگیا ۔اُس کے بچپن میں مجھے جیسے اپنا آپ دکھنے لگا ۔وہ جو بھی حرکتیں کرتا وہ میرے دل کو بھا لیتی ۔رفیق نے مجھے کئی بار کہا کہ شاہد کی غلطی پر اُسے ڈانٹا کرو ںورنہ وہ پھوہڑ بن جائے گا۔۔۔۔ اس کی لگام کھینچ کے رکھا کروں وگرنہ وہ بے لگام بن جائے گا۔مگر میں بھلا تب کسی کی باتیں کب ماننے والی تھیں ۔۔۔میں ہی کیا شاید دنیا کی ہر ماں اپنی اولاد سے اسی حد تک محبت کرتی ہے کہ اولادکی غلطی بھی ماں کو نظر نہیں آتی۔اسی طرح میں نے بھی شاہد کی پرورش میں چار چاند لگائے۔ہر کوئی رشتہ دار شاہد کو مہینے میں ایک بار ضرور دیکھنے آتا اور آتا بھی کیوں نہیں؟ شاہد جو ہمارے خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔۔۔۔ہمارے خاندان میں اگرچہ لڑکیوں نے ہی جیسے ڈیرا ہی ڈالا تھا لیکن پھر بھی مجھے شاہد کی پیدائش سے پہلے لڑکی کا ہی شوق تھا۔۔۔لیکن شاہد کی پیدائش سے مجھے لڑکی کا خواب بھول گیا اور شاہدسے اس قدر محبت ہوئی کہ وہ جیسے میری روح میں تحلیل ہوگیا۔۔۔یہ سب باتیں دہراتے دہراتے وہ اچانک سے گر پڑی ۔جب پاس بیٹھے لوگوں نے اس سے اٹھایا اور اس کے دہن میں پانی ڈالا تو جیسے کسی نے اس کا حسین خواب توڑ ڈالا تھا۔ اُسے یہ دنیا بالکل ویران نظر آئی ۔اُس نے اپنے قریب بیٹھے بچے کی طرف دوبارہ دیکھ کر اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔۔ایسا انسان تب کرتا ہے جب ہمیں حقیقت پر شبہ ہو۔۔۔آنکھیں موند کر یہ عورت بچے کے اور قریب آکر اُسے غور سے دیکھنے لگی۔’’ارے یہ کیا، یہ تو میرا لعل نہیں ہے ،اگر یہ میرا لعل نہیں ہے تو کس نے میرے لعل کو مارا۔اُسے کس گناہ کی سزا ملی؟کون اس کا اصل قاتل ہے ؟ وہ تو ایک ایسا پھول تھا جو ابھی تک پوری طرح کھلا بھی نہیں تھا ۔تو پھر اُ سے کھلنے سے پہلے کیوں مسل دیا گیا ؟۔۔۔آخر وہ کس کی گولی کا شکار ہوگیا ؟۔۔۔۔وہ تو اس قدر کم سن تھا ۔آخر وہ اتنی ساری عمر قبر میں کیسے بتائے گا؟ وہ تو شام کے بعد گھر سے اکیلے باہر نکلنے سے بھی ڈرتا تھا ۔۔اب آخر وہ قبر کے اندھیرے سے کیسے مقابلہ کرے گا؟۔۔۔آخر کیسے۔۔۔۔آخر کیسے۔۔۔۔۔۔۔؟۔
اس عورت کے تھرتھراتے ہونٹ ،اس کی اُداس آنکھیں ،اس کا مصیبت زدہ چہرا مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آخر یہ دنیا کن ہاتھوں نے بنائی ہے۔ کیا اُ سے اس کی رونق کو ختم کرتے وقت ذرا بھی ترس نہیں آتا ۔۔۔۔اس عورت کے نالے تادیر میرے ساتھ رہے ۔میں گھر کی طرف چل دیا اور میں کافی حدتک اس عورت کی باتیں بھولنے کی کوشش کرتا  گیالیکن کاش میں ایسا کر پاتا ۔کچھ چیزیں اور کچھ احساسات انسان کے بس سے باہر ہوتے ہیں ۔انسان چاہ کر بھی کچھ یادوں اور کچھ پلوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کر پاتا ۔خیر میں نے اپنے کام میں مشغول ہونے کی ہر ممکن کوشش کی ۔میں اب پھر سے معمول کے مطابق آفس جانے لگا ۔میں جس راستے آفس جاتا یہ عورت کئی دنوں تک مجھے اُسی راستے پر ملتی۔یعنی ہر دن میرا اس عورت سے سامنا ہوتا۔ وہ ہر دن ایک الگ بچے کو پکڑ کر اس سے یہ کہنے پر اصرار کرواتی کہ وہ شاہد ہے ۔دو چار دن لگاتا ر میں اس عورت کو یہی فعل کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔چند دنوں بعد مجھے آفس کے کام سے شہر سے باہر جانا پڑا ۔ایک مہینے بعد لوٹ کر میں گھر واپس آیا ۔دوسرے دن مجھے اپنے آفس میں رپورٹ کرناتھا ۔اس لئے میں صبح سویرے آفس کے لیے روانہ ہوا تو میں نے جوں ہی دو آدمیوں کو اس عورت کو زبر دستی لے جاتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں ان آدمیوں کے پاس اس فعل کی وضاحت کے لیے گیا ۔انہوں نے مجھے قریب آتے دیکھ کر ہی میرا ارادہ بھانپ لیا اور میرے سوال پوچھنے سے پہلے ہی بولے’’بھائی جگہ دو ہم اس عورت کو پاگل خانے لے جارہے ہیں ۔بھائی یہ عورت پاگل ہوگئی ہے اور کچھ دنوں سے مقامی اسکول کے باہر اسکول کے بچوں کو پکڑ پکڑ کر انہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے۔‘‘اب مقامی لوگوں کی شکایت پر ہم سے اپنے ساتھ لے جانے آیئے ہیں۔
میں نے جوں ہی یہ الفاظ سننے میں ہکا بکا رہ گیا ۔یوں تو ماں کی عظمت سے میں پہلے ہی باخر تھا لیکن اس واقعے کے بعد میں ماں کی عظمت کا اور زیادہ قائل ہوگیا ۔واقعی ماں ہی ایک ایسی نعمت ہے جو اپنی اولاد کی خوشی میں خوش اور اس کے غم میں دکھی ہوتی ہے ۔ماں سے بڑی ہستی اس دنیا میں واقعی کوئی نہیں ۔کوئی انسان چاہ کر بھی اپنی ماں کا قرض نہیں اُتار سکتا ۔بے شک ماں اللہ کی طرف سے ایک حسین تحفہ ہے ،لیکن کاش ان ننھے پھولوں کو مسلنے سے پہلے لوگوں کو ایک بار بھی اس حسین نعمت یعنی ماں کا خیال آجاتا ۔کاش وہ ایک بار اس بات کی طرف غور کرتے کہ ان ماؤں کا کیا حال ہوگا جب ان کے جان سے زیادہ عزیر لختِ جگر ان سے دور کئے جائیں۔کتنے بے رحم ہونگے وہ ہاتھ جو چند لمحوں میں ان ماؤں کی دنیا کو اُجاڑ کر انہیں نفسیاتی مریض بناتے ہیں۔۔۔۔۔یہ سب باتیں سوچتے سوچتے میں ہمت کر کے آفس پہنچا۔دن بھر اسی عالم میں رہتے ہوئے میں نے گھر کی راہ لی۔ میں نے کھانا کھا کر سونے کی بہت کوشش کی لیکن میری آنکھوں سے نیند جیسے غائب تھی۔نیند نہ آنے کے سبب میں اپنے کمرے کی ہر چیز کا بغورِ جائزہ لینے لگا۔مجھے نہ جانے کیوں آج اپنے کمرے کی ہر ایک شئے اُداس لگ رہی تھی۔ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔میں نے اس تاریکی میں اپنے وجود کو ڈھونڈنے کی کافی کوشش کی لیکن مجھے اپنے وجود تک کا بھی سُراغ نہ مل سکا۔
���
ریسیرچ اسکالر شعبۂ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر 
ای میل:Shaheenayusuf44@gmail.com