تازہ ترین

مَن دریدہ سایہ

کہانی

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ناصر ضمیر
گوتم بدھ آنکھیں بند کر کے گیان میں محو ہیں ۔
یہ پینٹنگ دیکھ کر میرے قدم خود بہ خود رک جاتے ہیں  اور میں اس تصویر کو دیکھنے میں کچھ ایسا کھو جا تا ہوں  کہ بس پھر کسی چیز کی کوئی خبر ہی نہیں رہتی ۔
کیا میں دھرم کے راستے پر چلنے والا ہوں ؟
 کہیں یہ سب اسی بات کا اشارہ تو نہیں  
پر میں نے تو کبھی بھی  ان باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔میرے نزدیک تو دنیا میں صرف دو ہی مذہب ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے ایک امیری اور دوسرا غریبی ۔
میں بھی کن باتوں میں الجھ گیا ہوں اُف میرا بازو دکھ رہا ہے یہ موٹی کتاب کافی دیر سے ایک ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوں ۔
واہ یہ پینٹنگ ۔۔۔۔
بس یہ پینٹنگ دیکھتے ہی میری دنیا رک سی جاتی ہے ،تھم سی جاتی ہے ۔
کیا آٹھ چالیس کی گاڑی ابھی ہوگی یا پھر نکل چکی  ہوگی ۔ذرا گھڑی دیکھتا ہوں ۔۔۔ارےابھی تو ٹائم ہے۔
اس مصّور کو داد دینی ہی پڑے گی جس نے یہ غضب کی تصویر بنائی ہے ۔
"ارے بھائی جگہ چھوڑو۔۔۔۔۔۔کیوں بیچ راستے میں کھڑے ہو؟"  
راہ چلتا ہوا لیک شخص مجھ پر کچھ غرایا ۔
ٹی سٹال کے اندر دیوار پر لٹکتی ہوئی یہ پینٹنگ  روز میرے پیروں میں زنجیر ڈالتی ہے اور میں ایک مجبور قیدی کی طرح بے بس و لاچار ہوجاتا ہوں اور  اسے گھورنےلگتاہوں۔۔ ۔اور پھر گھورتا ہی رہتا ہوں ۔ٹی سٹال میں بیٹھے لوگ اس شہکار پینٹنگ سے بے خبر چائے پیتے رہتے ہیں ، سگریٹ  پھونکتے رہتے ہیں۔ سگریٹ سے یاد آیا مجھے بھی سیگریٹ  کی بڑی طلب لگی ہے ۔
واہ کیا  پینٹنگ ہے
سگریٹ کا پیکٹ کہاں ہے؟۔۔۔کہاں ہے؟ ۔۔۔کہاں ہے؟۔۔۔۔۔  ارے یہ رہا۔
دنیا کو گیان دھیان کا مارگ دکھانے والا، سچائی  اور امن کا دیوتا۔۔ دیکھو کس طرح گیان میں محو ہے ۔
بھلا کیوں نہ ہو۔
پر  اس کی بتائی ہوئی چار سچایاں اوراس کے دکھاے ہوے آٹھ راستے کہیں کھو گیے ہیں ہم سے ۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی لوگ دھان دھرم  بھول  ہی گئے ہیں  ۔ میں بھی تو کچھ بھول رہا ہوں۔
کام 
 کام ۔؟۔۔۔ہاں وہ کام ۔۔۔۔۔۔جس کے لیے میں  نکلا ہوں 
پر ابھی تو فرصت ہے ۔۔۔
 فرصت ! 
 آج کی اس مصروف دنیا میں کیا واقعی کسی کو  فرصت ہے جو مجھے ہوگی ۔؟  کسی کو بھی تو نہیں ۔ مجھے بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اوروں  کی طرح مجھے بھی فرصت نہیں ہے ۔۔۔۔۔بالکل ہی نہیں ہے ۔۔۔ذرا بھر بھی نہیں ہے ۔
 اسی لیے مجھے آگے بڑھکر اپنے کام پر جانا  ہوگا ۔۔۔۔۔
 کام ؟؟؟؟؟.
پر کام پر تو روز ہی جاتا ہوں ۔کیوں نہ آج ۔۔۔۔       
کیوں نہ آج آوارہ گردی کی جاے ۔
بھلا مجھے کسی اور کو بتانےکی ضرورت ہی کیا ہے کہ میں دن کہاں گزار آیا ہوں -
"ارے تم"
"تم پھر آگئے"
"کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑتے؟" جب بھی کہیں جاتا ہوں  وہیں پر نظرآتے ہو ۔"کیوں مجھے اکیلے نہیں چھوڑتے؟" ۔میں روشنی میں آیا نہیں کہ چلے آتے ہو۔آخر کیوں میرا پیچھا  کر رہے ہو ۔ ہر جگہ ہر طرف مجھے گھیرے رہتے ہو ۔مجھے اکیلا چھوڑ دو بالکل اکیلا ۔۔۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔
کمبخت کہیں کا۔
پاگل کر رکھا ہے اس نے ۔۔۔۔۔۔سارا موڈ خراب کر دیا ۔
ایک اور سگریٹ سلگانی پڑے گی ۔
آہ یہ پینٹنگ
اس کو دیکھنے میں کتنا آنند ہے ،کتنا سکون ہے جیسے موکش کا مارگ مل گیا ہو ۔
موکش !
کاش موکش کا مارگ مل جاے بس ایک بار موکش کا مارگ مل جاے تو
میں اس پت پر چلنے کے لیے تیار ہوجاوں اور دنیا کے سارے سکھ سارے دکھ۔۔۔
" مجھے برگد کاپیڑ اچھا لگتا ہے پتا ہے کیوں ؟"
کیوں بھلا ؟ 
"کیونکہ میں بھی  اس کے نیچے بیٹھ کر سادھنا کروں گی۔ ہاں! برسا برس سادھنا کروں گی اور پھر مکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"تم کیوں ایسی باتیں کرتی ہو 
 مجھے خوف آتا ہے۔ کیا یہ کوئی عمر ہے ایسی باتیں کرنے کی ،ایسا کچھ سوچنے کی ۔؟"
"کیوں ؟"
"اس میں کیا خرابی ہے ۔؟"
"خرابی ؟"
"خرابی ہی تو  ہے ۔تبھی تو کہہ رہا ہوں ۔"
"کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تم وقت سے پہلے ہی  بوڑھی ہوگئی ہو ۔؟"
"اچھا جی ! تو آپ کو ایسا لگتا ہے ۔چلیے جیسے آپ کی مرضی ،نہیں کروں گی آئندہ ایسی باتیں ،پر۔۔۔"
"پر کیا ؟"
" ایک بات یاد رکھیئے گا اگر مجھے آپ نہیں ملے تو میں ساری دنیا تیاگ کر نروان کی تلاش میں نکل پڑوں گی ۔"
"یہ کیا بکواس ہے ؟"۔
"حضور یہ بکواس نہیں سچ ہے خیر آپ نہیں سمجھیں گے "۔
"آجایئے یہاں اوپر بیٹھئے میرے پاس ۔"
"نہیں میں یہیں پر ٹھیک ہوں ۔تمہارے چرنوں میں ،مجھے یہیں پر رہنے دو۔ یہی میری جگہ ہے۔ یسس مجھے یہیں پر رہنے دو ، اپنا داس بن کر ۔"
"کیوں ؟ "
"کیونکہ تم دیوی ہو اور میں تمہارا داس "
"ایسا نہیں کہتے ۔"
"کیوں نہ کہوں ؟یہی تو سچ ہے اور تم سچائی کی ہی تو دیوی ہو"
"کیا میں تمہارے ہاتھ چھو سکتا ہوں۔؟"
شرم اور جھکی نگاہیں۔
 " ہاے  آپ کے ہاتھ کتنے کھر درے ہیں  شاید  خشک سردی کی وجہ سے، رکو میں ذرا کریم  ملتی ہوں ۔"
پھر اس نے میرے ہاتھوں پر کولڈ کریم ملی اور میرے ہاتھوں کو  سہلانے لگی۔ کریم کی چکناہٹ اور اس کے نازک ہاتھوں کے لمس  سے میرے اندر عجیب سی کیفیت ،ایک عجیب سی سر شاری سرائیت کرنے لگی اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں  آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو بہت ہی پیار سےدیکھا۔اُف وہ بڑی بڑی نیلی آنکھیں۔  پھر یک لخت ہم دونوں نے اپنے اپنے ہاتھ چُھڑائے۔
"ارے تم !"
"تم پھر آگئے۔ کتنی بار کہا ہے تم سے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو 
 مجھے مت گھیرے رہو "۔
"میں تنگ آچکا ہوں تم سے ۔کتنی بار کہوں ۔میں تنگ آچکا ہوں تم سے ۔"
"جاؤ دفاں"
"جاؤ دفاں یہاں سے "
"محبت بڑی نعمت ہے حضور، پر اس کی قدر ہونی چاہیے اور جو اس کی قدر کرے  وہ شاہ  اور جو اسکی توہین کرے  وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"وہ کیا ؟ "
"کچھ نہیں ،آپ  نہیں سمجھیں گے ۔"
"اتنا بتایئے "
"کیا؟"
"کیا آپ  اس نعمت کی قدر کریں گے  ؟"
"ہاں ہاں بالکل ۔"
"ویسے بھی میں تمہارے بغیر جی نہیں سکتا ۔"
"صرف کہتے ہی رہیں گے یا پھر کبھی کر کے بھی دکھائیں گے "
"کیوں نہیں !"
"تم دیکھنا ایک دن میں کر کے بھی دکھاؤں گا ۔بس تم میرا انتظار کرنا ۔
بہت جلدی وہ دن آے گا جب تم  ہمیشہ کے لیے میری ہوجاو گی ۔"
"پر وہ دن کب آےگا ؟ "
"بہت جلد "
"میرا یقین کرو "۔
"کیا میں تمہارا ہاتھ پھر سے چھو سکتا ہوں ؟"
پھر تھوڑی ہی دیر میں ،نہ صرف اس کے نرم و نازک ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے بلکہ اس کا سر بھی میرے شانوں پر تھا ۔
میں دنیا کا سب سے بڑا  خوش نصیب ہوں ۔
"ارے تم  "
" تم پھر آگئے "
"مت کرو تنگ مجھے "
"کتنی بار کہوں مت کرو تنگ ۔مجھے مت غصہ دلاؤ  ۔مجھے تنہا چھوڑ دو 
مہر بانی کر کے مجھے تنہا چھوڑ دو"
"اب کافی وقت گزر گیا ہے جناب اب  آپ کو کوئی قدم اٹھانا چاہیے ورنہ ہم ایک دوسرے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اور وہ روپڑی 
"روتی کیوں ہو ؟"
"دیکھئے اگر ہم ایک نہ ہوئے، تو میں ٹوٹ جاؤں گی، بکھر جاؤں گی ۔"
"اچھا چلو روؤ نہیں "
"سچ کہتی ہوں ۔"
"کبھی کبھی من کرتا ہے سب تیاگ کر بھاگ جائوں، موکش کے مارگ پر اور نروان  پراپت کروں "۔
"یہ سب کیا سوچتی رہتی ہو؟ کہیں پاگل تو نہیں ہوگئی ہو ۔تم ایک اچھی خاصی پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی  ہو اور میں بھی اگر اللہ نے چاہا تو جلد ڈاکٹریٹ ہو جاؤں گا۔   ہمیں ان سب گیان دھیان کی باتوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے ۔"
اُف جلتی سگریٹ سے انگلیاں جل گئیں۔
جن سب باتوں کو بکواس سمجھتا تھا ۔اب اُس سب کے لیے ترس رہاہوں ۔
اب خود ترس رہا ہوں ۔موکش کے مارگ کے لیے ،نروان کے لیے 
اور اب برسوں بیت گئے ۔
نہ مجھے موکش کا مارگ ملا نہ ہی نروان پراپت ہوا ۔
بھلا ہوتا بھی کیسے 
عین اسی دن، بالکل اسی دن جس دن کا وعدہ کیا تھا میں نے ،وعدہ کیا تھا اسے ہمیشہ کے لیے  اپنا بنانے کا ، ہاں اسی دن میں ۔۔۔۔
میں بھاگ کھڑا ہوا ۔
وہ انتظار بس انتظار کرتی رہی ۔
میرا نام بھگوڑا ہونا چاہیے یا پھر بزدل ؟۔ابھی تک طے نہیں کر پایا ۔
مجھے لگا میں نےاسے  دھوکا دیا ہے پر نہیں  دراصل  میں نے اسے نہیں  بلکہ خود کو  دھوکا دیا ۔
اب بھاگ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔چھل سے ۔۔۔۔۔۔۔کپٹ سے ۔۔۔۔۔۔۔موہ سے۔۔۔۔۔۔۔ مایا سے۔۔۔۔۔۔یا پھر خود۔۔۔۔۔۔۔ دور ایک پراسچت کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔پر نصیب نہیں ہو رہا، کچھ  بھی نصیب نہیں ہو رہا ہے ۔
 ایسے میں بس مجھے یہ مہاتما بدھ کی پینٹنگ ۔۔۔۔۔۔
یہ شانت اور گیان میں ڈوبا ہوا مکھ ۔۔۔
پتا نہیں کیوں مجھے اب لگ رہا ہے کہ میں اب اس سنگھرش میں کامیاب ہوجائوں گا ۔۔۔۔۔۔  
ہاں بالکل مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے اب میں جلد ہی اس شنگھرش میں کامیاب ہوجاوں گا اور مُکتی پاؤں گا ۔
"ارے تم "
" تم پھر آگئے ؟" 
"کیوں پریشان کر رکھا ہے ؟"
"کتنی بار کہا ہے تم سے مجھے تنہا چھوڑ دو ۔"
"کیا کروں میں اس کا ،اسی کا ،جو  مجھے  کہیں اکیلا نہیں چھوڑتا  ؟"۔ہمیشہ میرے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے ۔مجھ سے چپکا رہتا ہے۔
"کتنی بار کہا ہے تم سے  مجھے اکیلا چھوڑ دو"
پر  نہیں مانتا ہے ۔
 " دیکھ ،دیکھ میں آج تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں ۔"
"یہ دیکھ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ" 
یہ چپت۔۔۔۔۔،یہ لات۔۔۔۔۔۔ یہ مُکا  
اور لے۔۔۔۔۔۔ اور لے
سڑک پر بھیڑ اکٹھا ہورہی ہے ۔
"پر آج میں تجھے مزا چکھاتا ہوں" 
 یہ لات۔۔۔۔۔ یہ مُکا۔۔۔۔۔ اور یہ ٹھوکر بھی۔
سڑک پر بھیڑ اور بڑھ رہی ہے۔ 
کچھ لوگ ہنس رہے ہیں کچھ اس تماشے کا لطف اٹھارہے ہیں ۔
"کیوں نہ ہوں ۔"
کیونکہ میں اب بیچ بازار سر راہ  اپنے سائے کے ساتھ گُتھم گتھا ہوں ۔
گوتم بدھ کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہیں ۔
 
���
جلال آباد سوپور 
موبائل نمبر؛9419031183,7780889616