تازہ ترین

مہنگائی کا بازار گرم

سبزیاں خریدنا لوگوں کے بس کی بات نہیں

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر// شہر میں موسم سرما کی آمد سے قبل ہی سبزیوں کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے عام لوگوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سبزیاں خریدنا بھی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں رہ گئی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ محکمہ کی طرف سے بازاروں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے موثر کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ بازاروں میں سبزیوں کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ آلو 60 روپے فی کلو، پیاز 50 روپے فی کلو، ٹماٹر 50 روپے فی کلو، مٹر 135 روپے فی کلو، کشمیری ندرو 240 روپے فی کلو، شلجم اور مولی 40 سے 50 روپے فی کلو اور انڈے 60 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت کئے جا رہے ہیں۔بتادیں کہ محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری کی طرف سے جولائی 2020 میں جاری نرخ نامے کے مطابق آلو کی ریٹ 28 روپے فی کلو، پیاز کی ریٹ 20 روپے فی کلو، ٹماٹر کی ریٹ روپے فی کلو طے ہے۔محمد اشرف نامی ایک شہری نے بتایا کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ عام طور پر موسم سرما کے دوران اس وقت دیکھا جاتا تھا جب برف باری کی وجہ سے شاہراہ بند ہوجاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ بعض سبزیوں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ مرغ خریدنا ہی سستا ہوجاتا ہے۔فدا محمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ بازاروں میں تمام چیزوں خاص طور پر اشیائے خوردنی میں اضافے کی وجہ متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بازاروں میں باقاعدہ اور ایمانداری سے مارکیٹ چیکنگ ہوتی تو شاید مہنگائی کا بازار اس قدر گرم نہیں ہوتا۔لوگوںکا کہنا ہے کہ اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے  خاص طور پر ایک مربوط میکانزم ہونا چاہئے تھا کیونکہ ان کی ضرورت سماج کے ہر خاص و عام کو ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جب مہنگائی کا یہ عالم ہے تو وسط سیال میں کیا حال ہوگا۔یو این آئی