ای اسٹامپنگ میں مقامی اسٹامپ فروشوں کو شامل کیا جائے:اپنی پارٹی

لیفٹینٹ گورنرسے28ہزار کنبوں کی روزی روٹی کوتحفظ فراہم کرنے پرزور

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر//اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے غیر منصوبہ بند اور غلط طریقہ سے ای اسٹامپنگ کے اطلاق پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے  پورے جموں وکشمیر میں 28000سے زائد کنبہ جات کی روزی روٹی چھن گئی ہے۔ ایک بیان میں میر نے کہاکہ ای اسٹامپنگ کو متعارف کرنے سے جموں وکشمیر میں ہزاروں کنبے متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ مقامی اسٹامپ فروشوں کا انحصار اسٹامپ فروخت کی کمائی پر تھا، جو اب بے روزگار ہوگئے ہیں۔ میر نے کہاکہ اگرچہ تکنیکی ترقی کی وجہ سے ای اسٹامپنگ عمل وقت کی ضرورت ہے جو محفوظ ہے اور اِس میں چھیڑچھاڑ کی گنجائش نہیں ہوتی ،اس سے گھوٹالوں کے علاوہ محصولات کے نقصانات کو روکاجا سکتا ہے ، لیکن حکومت کو چاہئے کہ الیکٹرانک اسٹامپنگ پروجیکٹ میں تبدیل ہونے سے پہلے مقامی اسٹامپ فروشوں کے روزگار کے مفادات کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہاکہ پالیسی سازوں کو ای اسٹامپنگ میں مقامی اسٹامپ فروشوں کو بھی شامل کرنا چاہئے کیونکہ وہ دہائیوں سے یہ کام کر رہے ہیں اور اب اُن کے لئے کوئی دوسرا کاروبارکرنا مشکل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بہت سارے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اسٹامپ فروخت کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہے تھے اورانہو ں نے اپنا وقت اور پیسہ اِس کاروبار میں لگایا ہے۔ اب ای اسٹامپنگ نے اُن کی روزی روٹی چھن لی ہے اور وہ بچوں کی اسکول فیس تک دینے کے قابل نہیں رہے۔حکومت کو اِن بے سہارا کنبوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور باہر کی کسی کمپنی کو  ای اسٹامپنگ طریقہ کار کی عمل آوری کے لئے مقرر کرنے سے قبل اِن اسٹامپ فروشوں کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔اپنی پارٹی سنیئر نائب صدر نے کہاکہ اس شعبہ میں بینکوں کو شامل کرنے سے یقینی طور اسٹامپ فروشوں کے کنبے روزگار سے محروم ہوجائیں گے لہٰذا حکومت کو اسٹامپ ڈیوٹی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے متاثرین کی نئے عمل میں شمولیت یقینی بنائی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مقامی اسٹامپ فروش جاری کردہ لائسنس کے قواعد وضوابط کے مطابق اسٹامپ فروخت کر رہے ہیں، انہوں نے وادی کے اندر ایک ایسے ماحول میں بھی سرکار کے لئے آمدن جمع کی جب سارا نظام مفلوج ہوگیاتھا، اب حکومت انہیں سڑکوں پر لارہی ہے جوکہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے۔ میر نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پرزور دیاکہ وہ معاملہ میں مداخلت کر کے متعلقہ محکمہ سے کہے کہ وہ مقامی اسٹامپ فروشوں کی روزی روٹی اور مفادات کو تحفظ فراہم کریں۔ مقامی اسٹامپ فروش پہلے سے تربیت یافتہ ہیں، لہٰذا ای اسٹامپنگ پروسیجر میں بھی اُنہیں کی خدمات حاصل کی جائیں۔
 

تازہ ترین