تازہ ترین

ملازمین کی جبری سبکدوشی پر سیاسی رہنمائوں کا شدید ردعمل

منصوبہ بند سازش:ساگر،آمرانہ حکم: تاریگامی، مکروہ عزائم پس پردہ:قدفین،ناقابل قبول:قیوم وانی

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سری نگر//جموں کشمیر کے ملازمین کو 48برس کی عمر یا22سال نوکری کرنے کے بعد حکومت کی طرف سے سبکدوش کئے جاسکنے کے حالیہ فیصلے کی سیاسی رہنمائوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اِسے آمرانہ اور ملازمین کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریڑی علی محمد ساگر نے کہاملازمین کواڑتالیس سال کی عمر میں سبکدوش کرنے کرسکنے کاحکومت کا حالیہ فیصلہ کوئی معمولی کارروائی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے اور اِسے سنجیدگی سے نہ لینا بہت بڑی غلطی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کل ایک اور حکمانے کے ذریعے حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48سال کی عمر میں سبکدوش کرسکتی ہے۔ یہ فیصلہ کوئی معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے اور اسے سنجیدگی سے نہ لینا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ آئے روز ایسے فیصلوں سے لوگ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ ایس آر او 324  کے تحت جموں و کشمیر انتظامیہ کی حالیہ نوٹیفکیشن  جس کے مطابق ملازمین کو  48 سال کی عمر یا 22 سال نوکری کرنے کے بعد ریٹائر کیا جاسکتاہے ، آمرانہ حکم ہے اورخطے میں کام کرکررہے لاکھوں ملازمین کے مفادات کے منافی ہے۔ نوٹیفکیشن / ایس آر او کا مقصد ملازمین کو دباؤ میں رکھنا ہے جو ان کے لئے عدم تحفظ کا باعث بنے گا۔ یہ حکومت اور بیوروکریسی کو اپنے ماتحت عملہ کو دبانے کے لئے ایک آلہ کاربنے گا۔ غیر یقینی صورتحال کی تلوار ملازمین کے سروں پرلٹکتی رکھی گئی ہے جس سے ان کے اعلی افسران بھی ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے لئے پہلے ہی متعدد قوانین موجود تھے اور ایسے سخت قانون کو جاری کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ اس طرح کے قوانین کا مقصد صرف ملازمین کی یونینوں کو حکومت اور انتظامیہ کی ملازم کش پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا ہے۔بی جے پی کے زیر قیادت حکومتوں نے متعدد ریاستوں میں مزدور قوانین معطل کرکے کارکنوں کے کئی حقوق پہلے ہی واپس لئے ہیں۔ پارلیمنٹ  کے حالیہ مون سون اجلاس میں منظور کردہ تین مزدور قوانین ملک کے مزدور طبقے پر شدید حملہ ہیں۔ مودی حکومت نے کرونا وائرس کے دوران ہی ان تینوں اینٹی ورکر بلوں کے ذریعے  مزدور طبقے کے حقوق چھین لئے۔ مرکزی سرکار کارپوریٹ نواز اور مزدور مخالف طبقاتی نو لبرل اصلاحات کو جارحانہ انداز میں نافذ کرنے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر آؤٹ سورسنگ، اسامیاںمعرض وجود میںلانے پر پابندی، تقریبا ًسات لاکھ خالی اسامیاںپُر نہ کرنے پر، حکومت کے مختلف کاموں کو کارپوریٹ کرنے کا اقدام، مہنگائی الاؤنس اور مہنگائی سے متعلق امداد کو روکنا، مرکزی حکومت کے مختلف اداروں کو بند یا انضمام سے انکار، ساتویں پے کمیشن کی ریٹروگریڈ سفارشات میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان تمام اقدامات نے ملازمین کی صفوں میں غصے اور عدم اطمینان کو اور گہرا کردیا ہے۔ملک میں ٹریڈ یونینوں اور ملازمین فیڈریشنوں کے مختلف پلیٹ فارموں نے اپنے مطالبات کے لئے 26 نومبر کو عام ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ملک کی ٹریڈ یونین موومنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ  اس آمرانہ  ایس آر او کو ختم کرنے کے مطالبہ کو اپنے ڈیمانڈ چارٹر میں بھی شامل کریں۔ادھرکانگریس قدفین چودھری نے جموں کشمیرمیں ملازمین کی سبکدوشی سے متعلق حکومت کے حالیہ فیصلے پربرہمی کااظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلے کے دوررس نتائج برآمدہوں گے اور ایسا فیصلہ جموں کشمیرکے لوگوں کو پریشان کرنے کیلئے لیاگیا ہے ۔قدفین نے کہا کہ لوگوں کوپریشان کرنے کیلئے احتیاط سے درپردہ ہاتھ کام کررہے ہیں تاکہ انہیں ایک سے زیادہ طریقوں سے خوفزدہ کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد لوگوں کو پریشان کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ رشوت خوری کو قابو کرنے کیلئے پہلے ہی انسدادرشوت خوری ادارے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ہیں ۔لوگوں کو سبکدوش ہونے کیلئے مجبور کرنا نہ صرف غیراخلاقی اورغیرقانونی ہے،بلکہ مکمل طور ناقابل قبول ہے ۔  انہوں نے کہا کہ جولوگ اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں یاتووہ اس مکروہ ایجنڈا کاحصہ ہے یا اس کے نتائج سے بے خبر ہیں ۔یہ افسروں کو ہاتھو ں میں پیسے کمانے کا ذریعہ بن جائے گااوروہ رشوت خوروں کو کلین چٹ دیکر غلط طور سے معصوموں کو پھنسائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپوں کو اس فیصلے کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوکر ایسے حکم اجراء کرنے والوں کی ناقابلیت کو بے نقاب کرناچاہیے۔ادھرملازمین کو اڑتالیس برس کی عمر یابائیس سال کی نوکری مکمل کرنے کے بعد سبکدوش کرسکنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کوملازموں کے حقوق پر کلہاڑی مارنے سے تعبیر کرتے ہوئے جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین اور سابق ٹریڈ یونین رہنماعبدالقیوم وانی نے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملازمین کو اب سپیئر پارٹس کی طرح استعمال کیاجانے لگا ہے اورانہیں استعمال کرکے پھینک دیاجائے گا۔انہوں نے اس فیصلے کو حیران کن اور مبہم قرار دیتے ہوئے مزیدکہا کہ اس ترمیم کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی ۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں ملازم برادری ایک حقیقی آواز ہے لیکن اس قانون کی موجودگی میں کیسے ملازم آواز بلند کرسکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک ملازم کو ایک بااختیار اتھارٹی مقررہ مدت جو سب کو معلوم ہے ،کیلئے منتخب کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملازم کی کارکردگی جانچنے کیلئیے پہلے ہی سروس قاعدے ہیں اور ان کے تحت انہیں ترقی دی جاتی ہے یاانہیں تنزل کیا جاتا ہے ۔وانی نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ اس نئے قانون کی کیا ضرورت ہے ؟کیا یہ ملازموں کو ذہنی وطور پریشان رکھنے کا حربہ ہے ۔انہوں نے اس فیصلے کو فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

تازہ ترین