تازہ ترین

۔ 370 بحالی تک انتخابات میں حصہ لینا نا ممکن

لوگوں کے بعد اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

   اپناپر چم واپس آنے تک اور کوئی جھنڈا نہیں اٹھا سکتی ،بھاجپا نے ڈاکہ زنی سے خصوصی پوزیشن چھین لی: محبوبہ مفتی

 
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا  ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کا پرچم واپس نہیں ملتا وہ اور کوئی جھنڈا نہیں اٹھائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک خصوصی آئینی پوزیشن بحال نہیں ہوتی وہ کسی الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتی۔ سرکاری رہائش گاہ فیئر ویو واقع گپکار میں 14ماہ سے زائد عرصہ تک نظربندی سے رہائی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروںسے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کہا ’’ بی جے پی نے ملک کا آئین منہدم کردیا تاہم آمرانہ حکمرانی کا موجودہ طرز عمل ہمیشہ کیلئے قائم نہیں رہیگاکیونکہ ہٹلر کی حکمرانی بھی اختتام کو پہنچی تھی تھی۔
دفعہ 370
 محبوبہ نے کہا ’’دفعہ370کو منسوخ کرنے پرجو بھی آواز اٹھا رہا ہے، اسے دبایا جارہا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت لوگوں کی توقعات پر کھرا نہیں اتر رہی ہے اور توجہ ہٹا رہی ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں اور کشمیریوں کے راستے میں رکاوٹیں حائل کر رہی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا’’ہماری لڑائی دفعہ370کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی ہے، مسئلہ کشمیر ایک مسئلہ ہے اور کوئی بھی اس حقیقت سے آنکھیں موند نہیں سکتا ‘‘۔محبوبہ نے مزید کہا کہ’’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم  دفعہ370 کو بھول جائیں گے وہ احمقوںکی جنت میں رہ رہے ہیں،کیونکہ لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب لیڈروں کی قربانیوں کا وقت آگیا ہے‘‘۔ سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ لیڈرشپ میں وہ پہلی شخص ہونگی ،جو ضرورت پیش آنے کی صورت میں اس مقصد کیلئے اپنا خون دے گی۔تاہم انکا کہنا  تھا’’ ہم تشدد نہیں چاہتے بلکہ پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے،یہ بہت لمبی لڑائی ہے، یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کیلئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے‘‘۔ ان کا کہنا تھا’’ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے، پانی پہلے ہی لے چکے تھے، ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں، ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں، مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے، مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، فیس بک استعمال کرنے پر بچوں کو پابند سلاسل بنایا جارہا ہے، ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے‘‘۔  انہوں نے کہا کہ’’ ہم ( لیڈرشپ) متحد ہیں اور لوگوں کو بھی اتحاد سے مقابلہ کرنا چاہئے،یہ ڈاکٹر فاروق ، سجاد لون یا کسی اور لیڈر کی لڑائی نہیں ہے،بلکہ ہم سب کی ہے‘‘۔ سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا’’ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد حکومت نے عوام دشمن فیصلے کرکے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو نہیں چاہتے،بلکہ جموں کشمیر کے لوگ ان کے لئے اخراجات ہیں‘‘۔موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔انہوں نے کہا: 'پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے'۔
الیکشن میں حصہ لینا
 محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ان کا کہنا تھا’’میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں، جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔ تاہم ساتھ ہی کہنا تھا’’میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے سنیچر کو پیپلز اتحاد میٹنگ میں چناوی سیاست کے ایجنڈا پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز اتحاد کے دستخط کنندہ  بیٹھ کر اس حوالے سے کوئی فیصلہ لیں گے۔انہوں نے کہا ’’ جب تک جموں و کشمیر کا جھنڈا واپس نہیں آتا تب تک وہ کوئی دوسرا پرچم نہیں اٹھائیں گے‘‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا’’ حکمران جماعت نے پہلے ہی آئین کو پرچم سمیت منہدم کیااور پارٹی نے جھنڈے(ترنگا) کو جموں میں عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی کے دوران استعمال کیا‘‘۔
جن بوتل میں بند تھا
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: 'مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی'۔ انہوں نے کہا: 'انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا'۔محبوبہ مفتی نے کہا’’ہم نے اقتدار کیلئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کیایا  بی جے پی کے ساتھ اتحادکی وجہ سے آرٹیکل 370 کو منسوخ نہیں کیا گیا کیونکہ سب کچھ پارلیمنٹ سے ہوا ، پارلیمنٹ کا غلط استعمال ہوا اور پارلیمنٹ کو ایساکام کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ 
لڑائی سڑکوں پر
محبوبہ نے کہا کہ پتھرائو کرنے والوں اور جماعتیوں کو رہا کرنے اور جنگجوئوں کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کو واپس کرنے کا معاملہ بی جے پی کو کھٹکا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں اتحاد قائم کرنے پر کوئی ندامت ہے ، محبوبہ نے کہا ’’ وہ اس پارٹی کے اس لیڈر پر اعتماد کرنے پر نادم ہیں ،جس نے ملک کا آئین منہدم کیااورجس نے جموں و کشمیر سے سب کچھ چوری کیا ‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’’ میں سڑکوں پر لڑائی لڑی ہوں، سڑکوں پر آنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے‘‘۔جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: 'بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے'۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ، محبوبہ نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ دفعہ 370 کا معاملہ فی الحال عدالت میں ہے لیکن آپ کو زمینی سطح پر ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔گیلانی کی جانب سے مرکز ی وفد سے بات کرنے سے انکار کے بارے میں پوچھے جانے پر ، محبوبہ نے کہا کہ وفد سے ملاقات سے انکار کرنے پر بہت زیادہ نقصان ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ بی جے پی  لیڈراں کا وفد نہیں تھا، اگر گیلانی صاحب بات کرنے پر راضی نہیں تھے ، تو انہیں کم از کم انہیں گھر میں داخل ہونے دینا چاہئے تھا، لیکن گھر میں ان کے داخلے پر پابندی لگانے سے کشمیر کی مختلف تصویر پیش کی گئی ۔
شرئط رکھی گئی
انہوں نے کہا: 'جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن  برابر کھڑے ہیں'۔محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ 'کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی' تو ان کا جواب تھا: 'پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے'۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: 'میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں'۔