تازہ ترین

گوشہ اطفال|24اکتوبر 2020

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بے زبان پر رحم

 
کہانی
 
عائشہ یاسین
علی اپنے محلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کو تنگ کرتا رہتا۔ کلاس میں بھی سب اس سے بہت پریشان رہتے تھے۔ استانی صاحبہ بھی روز اس کو کسی نہ کسی بات پر سزا دیتی تھیں۔ کبھی کرسی پر کھڑا کر دیتی تو کبھی کلاس سے باہر بھیج دیتی اور کبھی مرغا بھی بنا دیا کرتی تھیں لیکن علی اپنی شرارتوں سے باز نہ آتا۔ اسکول سے آتے ہی وہ دن بھر گلی میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتا رہتا۔ کبھی کسی کے گھر کی بیل بجا کے بھاگ جاتا تو کبھی کسی بچے کی چیز چھین لیتا۔
آج جب علی اسکول سے واپس آیا تو کھانا کھاتے ہی باہر کھیلنے چلا گیا۔ آج محلے میں سناٹا تھا۔ سخت گرمی ہورہی تھی۔ علی راستے میں پتھروں کو ٹھوکر مارتا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ کہ اچانک اس کو ایک گھر کے کونے میں ایک بلی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ علی نے دور سے اس کو ڈرانے کی کوشش کی پر وہ بیچاری ہل بھی نہیں پائی۔ شاید اس کی طبیعت خراب تھی پر علی کو اس پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ جب اس نے دیکھا کہ بلی ہل بھی نہیں پا رہی تو اس کو ایک شرارت سوجھی۔ اس نے بہت سارے پتھر اپنے جیب میں جمع کئے اور اپنی بوریت دور کرنے کے لئے بلی پر نشانہ بازی کرنے لگا۔ جب بھی بلی درد سے کراہتی تو اس کو اور بھی مزہ آتا۔
بیچاری بلی تو بے زبان تھی اور بیمار ہونے کی وجہ سے بھاگ بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ وہیں روتی رہی لیکن علی کو اس پر رحم نہ آیا۔ کچھ دیر بعد کچھ کتوں کی بھونکنے کی آواز آئی۔ علی نے مڑ کر دیکھا تو کتے اس کی جانب ہی آرہے تھے۔ علی نے آئو دیکھا نہ تائو جلدی سے دوڑ لگادی۔ وہ دو کتے تھے اور دونوں ہی علی کی طرف دوڑ رہے تھے۔ علی جیسے ہی گھر کے پاس پہنچا تو اس کو ٹھوکر لگی اور وہ زور سے وہ زمین پر گر پڑا۔ درد اور خوف سے وہ زور زور سے رونے لگا۔
ا س کی رونے کی آواز سن کر اس کے ابو باہر آگئے اور کتوں کو بھگایا۔ علی کے گھٹنوں سے بہت خون بہہ رہا تھا۔ علی کے ابو نے اس کو گود میں اٹھایا اور اندر لے جا کے مرہم پٹی کی۔ علی کو بہت تکلیف ہورہی تھی اور وہ روئے جارہا تھا۔ جب ابو نے اس کو دوا لگا دی تو اس سے سارا ماجرہ پوچھا۔ علی نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا تو اس کے ابو نے کہا، ’’بیٹا کبھی کسی بے زبان جانور کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہیے ورنہ بد دعا لگ جاتی ہے۔ دیکھو اللہ نے تم کو تمہارے کیے کی سزا دی۔ اگر میں وقت پر نہیں آتا تو وہ آوارہ کتے تمہارے ساتھ کیا کرتے؟‘‘ یہ سن کر علی اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوا اور ڈر کے مارے رونے لگا۔ 
ابو نے اس کو روتا دیکھ کر کہا، ’’چلو بیٹا ہم اس بلی کو گھر لے آتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب وہ صحیح ہوجائے گی تو تم کو دعائیں دے گی اور اللہ بھی تم کو معاف کردے گا‘‘۔ یہ سن کر علی بہت خوش ہوا اور ابو کے ساتھ جا کے بلی کو اپنے گھر لے ایا۔ ابو امی نے مل کر اس کو دوا لگائی اور علی فورا دودھ کا کٹورا لے آیا۔ 
علی دن رات بلی کی دیکھ بھال کرتا اور اس سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا۔ آہستہ آ ہستہ بلی صحت یاب ہوگئی اور علی نے اس کا نام کیٹو رکھا۔ پتا ہے بچوں اب علی اور کیٹو پکے دوست ہیں اور علی نے اب ہر برے کام سے توبہ کرلی ہے۔ کلاس میں اب سب اس کے دوست ہیں کیونکہ علی اب نہ کسی کو تنگ کرتا ہے نہ کوئی شرارت کرتا ہے بلکہ وہ سب کا خیال رکھتا ہے۔
 

 فکرِ اطفال

شیر خوار بچوں کی صحت کیلئے خصوصی ٹپس…!!!
 نجف زہرا 
مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔
بچوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے چند احتیاطی تدابیر اورگھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں۔
طاقت کے لیے جائفل کو تین گلاس پانی میں آٹھ سے دس منٹ تک اْبالیں اور اس پانی کو بچوں کے دودھ میں استعمال کریں۔بچوں کی جسمانی مضبوطی کے لیے اور ان کی ہڈیاں مضبوط کرنے کے لیے تیل اور دودھ کی کریم سے بچوں کا مساج کریں۔چھوٹے بچوں پر موسمی بیماریاں جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔لہٰذا انہیں نزلہ ،زکام سے محفوظ رکھنے کے لیے زعفران کو پانی میں بھگو دیں اور یہ پانی ان کے سینے پر لگائیں۔چھوٹے بچے دانت نکلنے سے پہلے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔اس دوران ان کی طبیعت میں چڑ چڑا پن بھی آ جاتا ہے،بچوں کے دانت آسانی سے نکل آئیں اس کے لیے تھوڑا سا شہد نمک کے ساتھ ان کے مسو ڑھوں پر مل دیں۔بچوں کے پیٹ کے درد کے لیے زیرہ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر اسے چھان لیں،تقریباً ایک چائے کے چمچ کے برابر یہ پانی بچوں کو ہر تھوڑی دیر کے بعد پلانے سے انشاء اللہ پیٹ کا درد دور ہو جائے گا۔چونکہ چھوٹے بچوں کی جلد نرم اور حسا س ہوتی ہے اس لیے انہیں ڈائپر باندھنے سے نیپی ریش ہو جاتے ہیں۔ریش دور کرنے کے لیے ڈائپر باندھنے سے پہلے ذرا سا کورن فلور پائوڈر کی طرح لگا دینے سے آرا م رہے گا۔
دودھ کی بوتل کی چکنائی بچوں کی دودھ کی بوتل کے نپل پر جم جاتی ہے،جو نہ صرف بچے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے نپل بھی خراب ہو جاتا ہے۔اسے صاف کرنے کے لیے نپل کے اندر نمک ڈال کر خوب تیز گرم پانی سے دھوئیں ساری چکنائی نکل جائے گی۔چھوٹے بچوں کو قبض کی شکایت ہو تو چھ سے آٹھ کشمش گرم پانی میں بھگو دیں،جب پانی ٹھنڈا ہو جائے تو کشمش کو مسل کر چھان لیں۔یہ پانی شیر خوار بچوں کو روزانہ دیں ان کے لیے مفید ہے۔ بچوں کے دانتو ں میں کیڑا لگنے سے بچانے کے لیے ہفتے میں دو،تین مرتبہ امرود کے پتے اچھی طرح دھو کر اْبال لیں،پھر بچوں کو اس پانی سے کلیاں کروائیں کیڑا لگنے سے محفوظ رہیں گے،اور دانتوں کا کیڑا بھی ختم ہو جائے گا۔بچے کا وزن بڑھانے کے لیے روزانہ صبح بادام کے ساتھ چند دانے کشمش کے کھلانے سے ان کا وزن بڑھنے لگے گا۔آپ کے بچے کو اگر بھوک نہیں لگتی تو ایک سنگترے کی کی پھانک تھوڑا سا کال نمک چھڑک کر کھلانے سے بچے کی بھوک کھل جائے گی۔سکول جانے والے بچوں کا حافظہ تیز کرنے کے لیے روزانہ صبح سات بادام اور دو کالی مرچ بھون کر بچوں کو کھلا دیں۔
 

کہاوت کہانی…!!!

محمد بلال
 
’’نائو میں خاک اڑانا‘‘ نائو کا مطلب ہے کشتی۔ اب آپ کہیں گے کہ کشتی میں خاک یعنی مٹی بھلا کوئی کیسے اڑا سکتا ہے۔ یہ تو بے تکی بات ہوئی، تو جناب اس کہاوت کا مطلب ہے بے تکا بہانہ بنانا۔ یہ کہاوت ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب کوئی شخص ایک نا حق بات کہے اور پھر اسے صحیح ثابت کرنے کے لئے الٹے سیدھے بہانے تراشے یا کوئی کسی پر ظلم کرنے کے لئے بے تکی دلیل دے۔
اس کا قصہ بھی سنئے۔ ایک کشتی میں شیر اور بکری اکٹھے دریا پار جارہے تھے۔ بکری کو دیکھ کر شیر کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے سوچا کہ کسی بہانے سے اسے ہڑپ کرنا چاہیے۔ آخر کوئی بہانہ نہ ملا تو بولا، ’’اے نالائق! نائومیں خاک کیوں اڑا رہی ہو؟ اگر میری آنکھ میں خاک چلی گئی تو؟‘‘بکری نے جواب دیا،’’نائومیں بھلا خاک کہاں؟‘‘اس پر شیر بولا،’’بد تمیز، زبان چلاتی ہے۔‘‘ اور اسے کھا گیا۔
 

سائنسی معلومات...!!!

1۔چاند پر بھی دن رات ہوتے ہیں اور چاند کا ایک دن اور ایک رات ہمارے دو ہفتوں کے برابر ہیں۔
2۔ اسٹار فش کی ٹانگیں اگر کاٹ دی جائیں تو وہ دوبارہ نمودار ہوجاتی ہیں۔
3۔alimeter ایسا آلہ ہے جو ہوائی جہاز کی سطح سمندر سے بلندی ناپنے کے کام آتا ہے۔
4۔ لیوائزے 1743-1799) نے دریافت کیا پانی آکسیجن اور ہائڈروجن سے مل کر بنتا ہے۔ یہی سائنسدان تھا جس نے آکسیجن بھی دریافت کی تھی۔
5۔صفر مطلق سرجہ حرارت 273C یا 0k کو کہتے ہیں جو کہ انتہائی ٹھنڈا درجہ حرارت ہے۔ اسے zero   Absolute بھی کہتے ہیں۔
6۔ سائنس میں ناپ کے یونٹ کو CGS کہا جاتا ہے جو کہ سینٹی میٹر، گرام اور سیکنڈ کا مخفف ہے۔
7۔ چاند کی کشش کی وجہ سے سمندر میں مدوجزر اٹھتا ہے۔ اگر چاند سورج کی روشنی کو منعکس کرنا بند کردے تو ہمیں اس کا 1.33 سیکنڈ بعد علم ہوگا۔
8۔ Optophone ایسا آلہ ہے ،جس سے اندھے لوگ اخبار و کتب پڑھ سکتے ہیں۔
9۔ Hydrosphere زمین کی سطح پر پانیوں کے ہر قسم کے مجموعے کو کہتے ہیں۔
10۔ چیونٹی کے کاٹنے سے جلن فارمک ایسڈ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
 

ایک چالاک مُرغا  !

 
کہانی
 
 رئیس صدیقی
 
 بہت دنوں پہلے کی بات ہے کہ ایک کُتّا اور ایک مُرغا، دونوں ایک ساتھ، جگری دوستوں کی طرح، بڑے پیار سے ایک ہرے بھرے جنگل کے قریب ایک بڑے سے کھیت میں بنی ایک چھوٹی سی جھوپڑی میں رہ رہے تھے۔ ایک دن میاں کُتّے صاحب بولے۔بھئی ہم دونوں کو آج جنگل چلنا چاہیے۔ممکن ہے تمہیں تمہاری پسند کا کوئی چھوٹا موٹا شکار مل جائے اور مجھے کوئی تندرست اور مزیدار خرگو ش ہاتھ لگ جائے! بھئی خیال تو نیک ہے۔ اس کھیت میں رہتے رہتے جی اوب گیا ہے۔ آج کچھ نیا ہو جائے!
میاں مرغے نے جمھائی لیتے ہوئے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ بس پھر کیا تھا۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے جنگل کی طرف چل پڑے۔ جنگل میں وہ دونوں اپنا اپنا شکار تلاش کرتے رہے مگر کوئی  بھی شکار دونوں کے ہاتھ نہ لگا۔ یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ بھئی ہم لوگ اب رات سے پہلے اپنے گھر نہیں پہنچ پائیں گے کیونکہ سورج ڈوب چکا ہے اور اندھیرا بھی ہو چکا ہے ۔اندھیرے میں سفر کرنا مناسب نہین ہے ۔
 میاں کُتّے صاحب  نے اپنی تشویش ظاہر کی ۔تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آج رات ہم لوگوں کو یہیں رکنا پڑے گا ۔ خیر کوئی بات نہیں۔ اِتفاق سے یہاں ایک پُرانا اور مظبوط کھوکھلا درخت بھی ہے ۔ تم ایسا کرنا کہ تم درخت کی کھوہ میں سوجانا اور میں اس پیڑکی ایک شاخ پر بیٹھ کر آرام کرلوںگا۔
مرغے میاں نے مسئلہ کا حل پیش کیا۔بھئی خیال تو نیک ہے۔ اس طرح ہم دونوں آرام سے رات گزار لیںگے۔ میاں مرغے صاحب اس درخت کی ایک شاخ پر چڑھ گئے اور میاں کُتّے صاحب اسکی ایک کھوہ میں آرام سے سوگئے۔ صبح میاں مرغے صاحب بیدار ہوئے اور اپنے پَر جھاڑتے ہوئے اپنے خاص انداز میں بانگ دینے لگے۔ککڑوں کوں … ککڑوں کوں … کوں… ککڑوں … کوں۔
اتفاق سے اسی جنگل میں ایک لومڑی صاحبہ بھی شکار کی تلاش میں رات سے گھوم رہی تھیں۔ اسے بھی کوئی شکار نہیں ملا تھا۔ اس لئے اس کے پیٹ میں چوہے کود رہے تھے۔ وہ بہت بھوکی تھی۔جب اس نے میاں مرغے کی بانگ سنی تو اس کے کان کھڑے ہوئے اور دل ہی دل میں وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔
ہا… ہا… ہا… یہیں کہیں ایک شکار ہے۔ مجھے اس کو تلاش کرنا چاہیے۔ ممکن ہے وہی صبح صبح میرے ہاتھ لگ جائے۔اس نے اس امید پر مرغے کی آواز کا پیچھا کیا۔ آخر کار اسے ایک درخت کی بلند شاخ پر میاں مرغے صاحب نظر آگئے۔آداب عرض ہے محترم!  لومڑی صاحبہ نے لکھنوی انداز میں سلام پیش کیا۔ میاں مرغے نے بڑے غور سے نیچے دیکھا۔آپکی بانگ ، آپکی آواز کتنی میٹھی ہے۔ کتنی دلکش ہے ۔ بھئی کیا آپ میرے ساتھ ناشہ کرنا گوارا کریںگے؟لومڑی صاحبہ نے دوبارہ مخاطب کرنے کے بعد اپنا مقصد عرض کیا۔
محترمہ… بہت بہت شکریہ !  میں آپ کے ساتھ ناشتہ کرنا اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ اگر آپ میرے ایک ساتھی کو میرے ساتھ آنے کی اجازت دیں ، تو نوازش ہوگی۔ اُمید ہے آپ کو  بارِ خطر نہ ہوگا۔میاں مرغے صاحب نے بہت ادب سے عرض کیا۔ارے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔ وہ صاحب کہاں تشریف فرما ہیں؟لومڑی صاحبہ نے بڑی بے چینی سے پوچھا۔ میرا دوست اِس درخت کی کھوہ میں آرام کررہا ہے۔ آپ ذرا  اندر جاکر ان کو بیدار کردیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔ میاں مرغے صاحب نے گزارش کی۔
بہت خوب۔ واقعی میں بڑی خوش قسمت ہوں! لومڑی صاحبہ یہ سن کر باغ باغ ہوگئیں کہ آج انہیںدو شکار ملنے والے ہیں۔ رات کا بھی انتظام ہوجائے گا!دل ہی دل میں یہ سوچتے  ہوئے ، لومڑی صاحبہ کھوہ کے اندر اپنا منھ آگے بڑھاتے ہوئے  بولیں۔جنابِ عالی آداب عرض ہے… کیا آپ میرے ساتھ ناشتہ کرنا قبول کریںگے؟  ویسے آپ کے دوست صاحب تو راضی ہوگئے ہیں۔آپکی رضامندی درکار ہے ۔اس کے جواب میں،  میاں کتیّ صاحب اچانک اس لومڑی پر جھپٹے اور اس کی ناک ’’کٹ‘‘ سے کاٹ لی۔
لومڑی صاحبہ اس اچانک حملہ سے بدہواس،  اپنی قسمت پر ماتم کرتی ہوئی ، بڑی تیزی سے رفو چکر ہو گئیں۔ہوں… لومڑی صاحبہ   اپنے آپ کو بڑی چالاک سمجھتی تھیں !لیکن میں ان سے بھی زیادہ چالاک نکلا!! میا ں مرغے صاحب کے چہرے پر اپنی کامیابی کی مسکراہٹ بکھر گئی اور لومڑی سے خود اور اپنے جگری دوست کو بچانے کی کامیاب ترکیب پر، انہوں نے  مارے خوشی کے،  ایک زور دار قہقہہ لگایا  جو  چند لمحوں کے لئے  پورے جنگل میں گونج اُٹھا۔!!!
( کہانی کار ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو دلی؍ بھوپال کے سابق آئی بی ایس افسر،ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکادمی ایوارڈ یافتہ   ادیبِ،  پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار، شاعرو ادیبِ اطفال،  واٹس ایپ گروپ  بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں) 
ای میل۔rais.siddiqui.ibs @ gmail.com
 
 

تازہ ترین