تازہ ترین

جبری ریٹائرمنٹ

ناقص کارکردگی پر سزا ملے تو درست فیصلہ

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
حکومت نے سِول سروس ضابطوں میں ترمیم کرکے سرکاری افسروں کو فعال اور مزید جوابدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کوئی افسر ملک کی سالمیت اور سلامتی کے حوالے سے باغیانہ افکار کا حامل ہوکر ان خیالات کا کھلے عام اظہار کرے تو اْسے 48 سال کی عمر یا 22 سالہ سروس کو پہنچتے ہی تین ماہ کا نوٹس اور تنخواہ واگذار کرکے جبری ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔
 اس ضمن میں اگر افسر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اْس پر بھی نئے ضابطوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے سروس رْولز پہلے ہی بہت سخت تھے اور کوئی بھی افسر یاملازم سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتا نہ ہی وہ ایسے خیالات کا پرچار کرسکتا ہے جو عوام میں حکومت مخالف رجحانات کو بھڑکانے کا سبب بنے۔ 
اس نئے فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ اظہار رائے اور عوامی خدمت۔ یعنی حکومت مخالف خیالات کی تشہیر اور عوامی خدمت میں لیت و لعل یا ناقص کارکردگی کا مظاہرہ۔
 اول الذکر شق کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ ظاہر ہے حکومت خزانہ عامرہ کی خطیر رقوم افسر کی تنخواہ اور ٹھاٹ باٹ پر خرچ کرے اور پھر افسر بدظنی پھیلانے کا مرتکب ہو، یہ حکومت قطعی برداشت نہیں کرے گی۔ اور پھر سرکاری ملازمت اختیار کرنا کوئی جبری بھرتی نہیں، بلکہ ہر فرد کا رضاکارانہ ذاتی فیصلہ ہوتا ہے، وہ اْن تمام قوائد و ضوابط کو تسلیم کرکے ہی گورنمنٹ سروس جوائن کرتا ہے۔ 
فیصلے کے دوسرے پہلو پر روشنی ڈالنا اور اس بارے میں عوام کو بیدار کرنا نہایت ضروری ہے۔ میں اس کی تاریخ میں نہیں جائوں گا کہ سرکاری افسر کو پبلک سرونٹ یعنی عوامی خدمت گار کیوں کہتے ہیں، لیکن یہ باقاعدہ سرکاری لہجہ ہے اور مسلمہ بات ہے کہ افسر بنیادی طور پر عوام کی خدمت کے لئے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عوامی ٹیکس سے بنے خزانہ عامرہ سے اْسکی تنخواہیں، مرعات اور ٹھاٹ باٹ چلتے ہیں۔ظاہر ہے سبھی افسران خدمتِ خلق کے جذبے سے عاری اور حرام خْوری پر آمادہ نہیں ہوتے، لیکن ایک معلوم حقیقت ہے کہ افسرشاہی کا جو کلچر پچھلے سو سال سے برصغیر میں پروان چڑھا ہے اس کے تحت افسران کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ وہ حاکم ہیں اور لوگ محکوم اور اْن کی ٹھاٹ باٹ، موٹی تنخواہ، مرعات اور ماتحتوں کی جی حضوری اْنہیں ورثے میں من و سلویٰ کے طور ملے ہیں۔ اور پھر ستم دیکھئے کہ ایک بار افسر کْرسی پر براجمان ہوگیا تو اْسے کوئی نہیں ہلا سکتا۔ 
ترقیاں، بونس، مرعات اور تنخواہ میں اضافہ کبھی بھی افسر کی کارکردگی کے ساتھ مشروط نہیں کی گئی۔ کسی محکمے میں جونیئر افسر جان فشانی کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن اس کا کریڈٹ اپنے نئے بنگلے کی ڈرائنگ بنانے میں مصروف سینئر افسر لے جاتا ہے۔ اور جونیئر افسر سینیارٹی لِسٹ میں اپنا نام تلاش کرنے میں برسوں گزارتا ہے۔ سینیارٹی ایک وائرس ہے جو کارکردگی کو کھا جاتا ہے۔ گدا اگر تیس سال تک زین پہنتا رہے تو اْسے گھوڑا نہیں کہہ سکتے۔ بدقسمتی سے ہماری افسرشاہی اسی مرض کا شکار ہے۔ افسر راشی ہو، کاہل ہو، خدمت خلق کے جذبے سے خالی ہو، لیکن سینئر ہو تو وہ سبھی مرعات کا خودبخود حق دار ہوجاتا ہے۔ نئے ضابطوں میں سینیارٹی کے بجائے کارکردگی کو ہی ترقیوں اور مرعات کا سبب قرار دیا جاتا ہے تو یہ اعلان مزید عوام دوست ہوسکتا تھا۔ 
انتظامیہ کو فعال ، جواب دہ اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار بنانے کی ہر کوشش قابل ستائش ہونی چاہیے۔ اس پس منظر میں جبری ریٹارئرمنٹ کا فیصلہ درست ہے۔ مگر عوام یہ خدشہ رکھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ اعلانات کتنے ہی عوام دوست اور خوش کن کیوں نہ ہوں، اْن پر یا تو عمل نہیں ہوتا یا پھر عمل کا رْخ کہیں اور مْڑ جاتا ہے۔ 
حکومت نے بیک ٹْو وِلیج نام کی مْہم نہایت طمطراق سے شروع کی۔ اخبارات میں سْرخیاں اور ٹی وی پر مناظر بہت اچھے لگتے ہیں۔ لیکن بعد میں دیہات کی حالت وہی ہوتی ہے جو تھی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پینے کے پانی کی قلت شہروں یا قصبوں ہی نہیں بلکہ دْور دراز دیہات میں بھی سنگین مسئلہ بن کر اْبھری ہے۔ کیا اس مہم سے یہ مسئلہ حل ہوگیا؟ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے حوصلہ مندوں نے سرکاری زمینوں پر قبضہ جمارکھا ہے اور سڑکوں کی کشادگی مشکل ہورہی ہے، کیا اس بارے میں کبھی بیک ٹْو وِلیج مہم نے کچھ کیا؟ ڈومیسائل اسناد جاری کرنے سے متعلق نچلے درجے کے افسر نت نئے بہانے تراشتے رہتے ہیں، اعلی حکام بار بار وضاحتیں جاری کرتے ہیں، لیکن پرنالہ پرنالے کی جگہ ہے، کیا اس ضمن میں بیک ٹْو وِلیج مہم سے کوئی فرق پڑا؟ بعض ٹھیکداروں کے اعلی سیاسی درباروں کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے لوگ اْن سے سوال نہیں کرپاتے کہ وہ تعمیراتی کاموں میں ناقص مواد کیوں استعمال کرتے ہیں، کیا اِن مہمات سے یہ مسئلہ حل ہوگیا؟ 
شکایتی سیل، عوامی دربار وغیرہ میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لاکھوں عرضیاں ڈسپوز کی گئیں، لیکن اس کا مطلب کیا ہے۔ کسی علاقے میں بجلی نہیں تو کہیں پینے کا پانی نہیں، کسی گاوں میں سڑک نہیں تو کوئی علاقہ پْل کے لئے ترس رہا ہے۔اگر غذائی اجناس کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لئے باقاعدہ محکمہ ہے تو گوشت کے نرخ طے کرنے کے لئے برسوں سے عدالت کیوں سرگرم ہے؟ درخواست پر متعلقہ افسر کو سْرخ سیاہی سے ’’ارجنٹ ایکشن‘‘ لکھ دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مسائل سْننا مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اخباری سْرخیوں اور ٹی وی سے باہر بھی اک دْنیا ہے، جہاں ضابطوں اور فالو اپ سے کام ہوسکتا ہے۔ 
جبری ریٹائرمنٹ کے نئے اعلان سے کم از کم یہ ہوا ہے کہ لوگوں کو اطمینان ہوگیا کہ کوئی افسر اگر کام نہیں کرے گا تو سبکدوش کیا جائے گا۔ لیکن اس نئے ضابطے میں مزید شقوں کی ضرورت ہے۔ یہ کون طے کرے گا کہ افسر نااہل ہے؟ چار بڑے بابو بیٹھ کر کسی کو سبکدوش کرسکتے ہیں، لیکن کسی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی برسوں سے چیخ و پکار پر ایک تھانے دار تبدیل نہیں ہوسکتا۔ فیصلہ یقینادرست ہے، لیکن کشمیر کی تاریخ رہی ہے کہ قانون کسی اور مرض کی دوا کے لئے بنتا ہے لیکن استعمال کسی اور رنگ میں ہوتا ہے۔ شیخ محمد عبداللہ نے جنگل چوری اور قدرتی وسائل کے لوٹ کھسوٹ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ بنایا تھا، لیکن سب جانتے ہیں کہ پی ایس اے کا استعمال کس طرح ہوا۔ 
حکومت کو اس اہم فیصلے کو مزید واضح کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں پبلک سروس گارنٹی ایکٹ کو بھی ساتھ ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ جل شکتی کے کسی انجینئر کے علاقے میں اگر برسوں سے پینے کے پانی کی قلت ہے تو اْسے سبکدوش کیا جانا چاہیے، بجلی محکمہ کے کسی حاکم کے حدود اربعہ میں لوگ برسوں سے بجلی کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے ہیں تو مطلب صاف ہے کہ وہ نااہل ہے۔ ایسے کتنے افسر ہیں جو سیاسی لہجے میں اظہار رائے کرتے ہیں، ظاہر ہے سرکاری افسر اس بارے میں نہایت حساس ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس فیصلے کی اصل حرکت پبلک سروس کو فعال بنانا ہے۔ 
اچھی بات ہے کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ’’ایل جی ملاقات‘‘ عنوان سے لوگوں کے ساتھ رابطے اْستوار کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ لیکن پھر وہی بات ہے کہ یہ سب محض نمائشی نہ ہو۔ تبدیلی اخباروں یا ٹی وی پر نہیں آنی چاہیے، تبدیلی لوگوں کو دِکھنی چاہیے۔ اگر واقعی نیت لوگوں کو راحت پہنچانا ہے تو نیا فیصلہ قابل تعریف ہے اور اس میں حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل ہے بشرط یہ کہ نئے ضابطوں کا وہی حشر نہ ہو جو شیخ عبداللہ کے پی ایس اے کا ہوا تھا۔ 
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں، رابطہ 9469679449، abdulqayoomshah57@gmail.com)