تازہ ترین

لیفٹنٹ گورنر کی جمہور نوازی

فرمودات پر پیہم عمل ہو تو بات بنے

تاریخ    23 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


  جموں و کشمیریونین ٹریٹری کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے گناہوں کو نہ چھیڑو اور مجرموں کو نہ چھوڑو کے طریقہ کار کو اپنائیں۔بدھ کو پولیس یادگاری دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے بیک وقت سیکورٹی سے جڑے معاملات پر لب کشائی ۔انہوںنے جہاں مذہبی بنیاد پرستی پر مفصل بات کی وہیں سائبر سیکورٹی پر بھی مدلل گفتگو کی۔چونکہ تقریب پولیس کی تھی تو امن و قانون سے لیکر سیکورٹی کے معاملات پر بات کرنا غیر فطری نہیں تھا لیکن چند باتیں ہیں جن پر مزید بات کی جاسکتی ہے ۔ لیفٹنٹ گورنر کا یہ کہنا کہ بے گناہوں کو نہیں چھیڑا جانا چاہئے ،ایک مثبت پیغام ہے کیونکہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران اکثر و بیشتر پولیس و سیکورٹی فورسز پر عام لوگوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔اس بات سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں ہے کہ جہاں پولیس جرائم کا خاتمہ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے غلطیاں بھی سر زد ہوسکتی ہیں اور ماضی بھی ہوئی بھی ہیں۔حال میں شوپیاں فرضی تصام کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح محض شاباشی اور تمغوں کے خاطرفوج کی ایک یونٹ نے راجوری سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کا ماورائے عدالت قتل کرکے اُنہیں جنگجو قرار دیا ۔یہ اور بات ہے کہ حقائق سے پردہ سرک گیا اور یہ حقیقت سامنے آگئی کہ شمالی کشمیر کے سرحدی علاقہ گانٹہ مولہ بارہمولہ کے قبرستان میں دفن کی گئی تین بے نام نعشیں عسکریت پسندوں کی نہیں بلکہ عام مزدوروں کی ہیں، جو اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کیلئے راجوری سے کشمیر آئے تھے ۔اس طرح کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں جہاں اختیارات کا بے جا استعمال کیاگیا ہے ۔پولیس فورس سے بھی ایسی شکایات ہیں کہ کبھی کبھار عام لوگوں اور بے گناہوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں ستایا جاتا ہے ۔گوکہ ایسے واقعات کی تعداد زیادہ نہیں ہے تاہم اس طرح کے واقعات سے مجموعی طور اُس فورس کی بدنامی ہوتی ہے جو قانون کے تابع ہونے کے ساتھ ساتھ منظم بھی ہے ۔اگر لیفٹنٹ گورنر کہتے ہیں کہ بے گناہوں کے ساتھ چھیڑا نہیں جانا چاہئے تو یہ اُمیدپیدا ہوجاتی ہے کہ اب آئندہ کسی بے گناہ کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا نہیں دی جائے گی اور نہ ہی امشی پورہ شوپیاں کی طرح کسی اور غریب مزدور کا بیٹا یوں کسی فرضی تصام میں محض انعامات و اکرامات کی خاطر مارا جائے گا۔
جہاں تک مذہبی بنیادی پرستی کا تعلق ہے تو بلاشبہ اگر حکومت محسوس کرتی ہے کہ ایسا کچھ ہے تو اصلاحات شروع کی جائیں اور جامع پیمانے پر ہی ہوں تاہم اگر حکومت اُن عوامل پر بھی غور کرنے کی زحمت گوارا کرے جو نوجوان کو انتہا پسندی کی جانب لیجاتے ہیں تو شاید علاج خود بخود مل جائے گا۔کشمیری قوم بنیاد پرستی یا انتہا پسندی سے کل تک نامانوس تھی اور بحیثیت مجموعی آج بھی ایسی سوچ یا ایسے رجحان سے لاتعلق ہی ہے تاہم اگر کچھ لوگوں میں ایسی سوچ امنڈ آئی ہے تو اس کے عوامل جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کیوں اس انتہا تک پہنچ چکے ہیں ۔ظاہر ہے کہ صوفیوں کی سرزمین پر اپنی اعتدال پسندی کیلئے معروف اس قوم کے کچھ لوگ اگر بقول لیفٹنٹ گورنر بنیادی پرستی کی جانب مائل ہیں تو اس کی کوئی وجہ ضرور ہوگی ۔ضرورت ہے کہ وجوہات تلاش کی جائیں تاکہ علاج کرنے میں آسانی ہو۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر نگرانی کا معاملہ بھی لیفٹنٹ گورنر کی تقریر کا مرکزی نکتہ رہا ۔بلا شبہ سوشل میڈیا کو بے لگام نہیں چھوڑا جاناچاہئے کیونکہ لامحدود آزادی کبھی دوسروں کی عزت ریزی پر بھی منتج ہوتی ہے تاہم سوشل میڈیا کو کنٹرول کرتے وقت اظہار رائے کی آزادی کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے ۔سوشل میڈیا چونکہ موجود دور میں اظہار رائے کا سب سے بڑا وسیلہ بن چکا ہے تو لازمی ہے کہ اس کو قابو میں رکھنے کے دوران اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کہیں اظہار رائے کی آزادی سلب تو نہیں ہورہی ہے ۔بلا شبہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر قدغن لگائی جائے لیکن اتنی بھی سختی نہ برتی ہے کہ یہ عالمی سطح کے نکتہ ہائے نظر کے حقائق پر مذاکراتی میدان ایک خاموش قبرستان بن جائے ۔جمہوری نظام میں خاموشی کواستحسان کی نگاہوں کی دیکھانہیں جاتا ہے اور عموماً کہتے ہیں کہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے ،اسی لئے سوشل میڈیا کو منضبط کرنے کے دوران یہ بھی خیال رکھا جائے کہ اتنی بھی جکڑن نہ ہو کہ کہیں بات بھی نہ ہو ،جو گھٹن پر منتج ہوسکتی ہے اور یہ گھٹن پھر کوئی خطرناک کروٹ بھی لے سکتی ہے۔
جمہوری ماحول میں حکومت جمہور پسند ہونی چاہئے اور ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ لیفٹنٹ گورنر جمہور نوازی کو مقدم مانتے ہیں جو قابل تحسین سوچ قرار دی جاسکتی ہے ۔لیفٹنٹ گورنر کی سرگرمیوں سے مسلسل یہ تأثر مل رہا ہے کہ وہ عوامی خواہشات اور جذبات کو مقدم سمجھتے ہیں کیونکہ وہ بار با ر عوام سے جڑُ جانے کی باتیں کررہے ہیں تاہم زمینی سطح پر ان کے فرمودات پر عمل ہونا چاہئے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کی راحت رسانی یقینی بن جائے جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام کا مستحکم ہونا طے ہے جو ملک و قوم کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے ۔