غیر ریاستیوں کو بڑے پیمانہ پر ڈومیسائل اسناد کی اجرائی تشویشناک: ناصر وانی

تاریخ    23 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر//نیشنل کانفرنس کے کشمیر کے صوبائی صدر ناصراسلم وانی نے کہا ہے کہ جموںوکشمیر میںبڑے پیمانے پر غیر ریاستیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجراء کی جارہی ہیں جس کا مقصد یہاں کے نوجوانوں سے مقامی روزگار کے وسائل بھی چھیننا ہے۔پارٹی ہیڈکوارٹر پر مختلف علاقوں سے آئے نوجوانوں کے وفداور پارٹی عہدیداران و کارکنان کے یساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے ناصر وانی نے کہاکہ سیاسی انتشار، انتظامی خلفشار اور اقتصادی بدحالی نے جموں و کشمیر کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ سب کچھ مرکزی حکومت کے غلط اور غیر آئینی اقدامات کا نتیجہ ہے جبکہ یہاں کی سیکورٹی صورتحال کو بد سے بدتر بنایا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں اس وقت بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ انتظامیہ اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہے، خصوصی بھرتی عمل تو دور کی بات گذشتہ برسوں سے یہاں معمول کی بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔ ناصروانی نے کہا کہ گذشتہ برسوں سے جاری غیر یقینیت اور بے چینی سے یہاں کا نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوا ساور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نئی پود کو مزید پشت بہ دیوار کر کے رکھ دیا ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوہرے لاک ڈائون سے یہاں کا پرائیویٹ سیکٹر بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور ایک سروے کے مطابق کشمیر میں 5لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک سنگین صورتحال ہے اور حکومتی سطح پر بھی اس کا تدارک کرنے کیلئے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ ناصر وانی نے کہاکہ گذشتہ سال 5اگست 2019کے بعد بھی یہاں ایک لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کے اعلانات کئے گئے لیکن ابھی تک اس اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا ۔ ناصر وانی نے کہا کہ مسلسل بے چینی اور غیر یقینیت نے سے یہاں کا ہر ایک شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ سیاحتی شعبہ ہو ، دستکاری شعبہ ہو یا پھر ٹرانسپورٹ سیکٹر، 5اگست 2019کے فیصلوں کے بعد وہ تمام شعبے مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں جو یہاں روزگار کے کلیدی ذرائع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت یہاں کے باغبانی شعبہ کو نقصان پہنچانے کیلئے شاہراہ پر مختلف بہانوں کے ذریعے ٹرکوں کو چلنے سے روکا جاتا ہے اور نتیجتاً میوہ منڈیوں کو پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہوجاتا ہے۔ 
 

تازہ ترین