تازہ ترین

جذبات اور منطق

قلم کمان

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


جنید الاسلام مضطربؔ
جذبہ (Emotion)اُردو میں عربی سے ماخوذ لفظ ہے جس کے معنی کشش یا کھنچاو کے ہیں۔جذبات جمع ہے جذبہ کی او ر جذبہ اُس وقت پیدا ہو تا ہے جب بیرونی عوامل(Factors)انسانی شعور کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر عشق ایک جذبہ ہے او ر یہ اُس وقت تک اپنا صحیح اثر نہیں دکھا سکتا جب تک یہ انسانی شعور کو اپنے اندر جذب نہ کرلے۔ ہم ہر لمحہ کسی نہ کسی جذبہ کے تجرِبے سے گزر رہے ہوتے ہیںیا کوئی جذباتی کیفیت محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں…مثبت یا منفی(Positive or Negative) اور  تعمیری یا تخریبی (Constructive or Destructive) ۔
انسان کی خوشی ، راحت او ر کامیابی میں در حقیقت اُس کے جذبات یا جذباتی کیفیات سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جذبات ہو نا کوئی بُری چیز نہیں ہے۔ آخر ایمان بھی تو ایک جذبہ ہی ہے۔لیکن جذبات میں بہہ کر کوئی غلط قدم اُٹھانا غلط ہے۔جذباتی ذہانت یعنی Emotional Quotient یا EQجن افراد میں زیادہ ہوتا ہے وہ اپنے جذبات کو قابو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔جو اشخاص ہر خلافِ توقع بات کا جواب غصّہ میں دیتے ہیں اُن کا EQکم ہو تا ہے۔کم EQوالے لوگ فوری ردِعمل(Isntant Reaction)دکھانے کے عادی ہوتے ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ وہ فوری ردِعمل ظاہر کرنے کے لئے گو یا مجبو ر ہوتے ہیں۔اس کے بر عکس زیادہ جذباتی ذہانت والے لوگ ذمہ دارنہ رَوِّیہ(Responsive Behaviour)کے مالک ہو تے ہیں۔جذبات کو قابو میں رکھنے والے عمل کو صبر سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔قرآن اور حدیث میں صبر کی بہت تلقین کی گئی ہے۔ صابر شخص Reactiveنہیںہوتا بلکہ Responsiveہوتا ہے۔مطلب یہ کہ وہ کسی بات یا عمل کا جواب تب ہی دیتا ہے جب جواب دینے کا فائدہ ہو اورجواب بھی مَوْ عِظَتہِ حَسَنَہ (بہترین نصیحت) کے مصداق ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو منطق (Logic)ہی ایک انسان کو صبر کر نے پر آمادہ کرتی ہے۔انسان سوچتا ہے کہ اس ردِعمل کا نتیجہ کیا ہوگا یعنی وہ اپنی بات پہلے تولتا ہے پھر بولتا ہے۔اگر جواب میں بات وزنی ہو تو بولے گا ،نہیں توخاموش رہے گا۔جیسا کہ پہلے ہی عرض کیا جا چکا کہ جذبات کا ہونا کوئی قابلِ عار بات نہیںہے۔ کوئی بھی کام کرنے کے پیچھے کوئی نہ کوئی جذبہ ہی کار فرما ہوتا ہے۔اگر جذبہ منطق اور قرآن و سُنّت کے تابع ہو تو سونے پہ سہاگہ، نہیں تو فتنہ اور ظلم۔جب انسان غصّہ میں ہو یا اداس ہو تو اُس وقت خاموشی اختیار کرنا بات کرنے سے کہیں بہتر ہے۔یہ بات جانتے تو سب ہیں لیکن اس بات کو عملانا مشکل ترین عمل ہے۔البتہ کوشش اگر جا ری رہے توانسان کی نفسیات میں بدلاؤ بالکل ممکن ہے۔
آج کے دور میں پڑھے لکھے لوگ نوجوان اور عمر رسیدہ ، اسلام پسند اور سیکیولر، عالم ِ دین اور لبرل سب جذبات ہونے کو کج فہمی سمجھتے ہیں۔خاص طور پر وہ حضرات جو یہ سمجھتے ہیں کہ آج تک جس انداز سے اسلام پیش کیا گیا اس نے صرف جذبات کو اُبھارا ہے اور اس سے ہمیں نقصان کے سِوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ کچھ حد تک ’’تبدیلی‘‘ کے متمنی یہ لوگ صحیح بھی ہیں لیکن جذبات کو کُلّی طور پر غلط کہنا اور صرف ’’امن‘‘ ’’امن‘‘ کی رَٹ لگا کر اپنے آپ کو روشن خیال یا Rationalیا دین کی صحیح روح کو سمجھنے کا دعویٰ کرنا بھی ایک ’جذباتی‘ بات ہے۔دین تو دین ہے یعنی زندگی گزارنے کا مکمّل طریقہ ۔ اس میں صُلح بھی اور حرب بھی۔ دین کو دین ہی کی طرح پیش کر نا صحیح طرزِ عمل ہو سکتا ہے ۔ مَصْلِحَت کے نام پر دین کو من پسند رنگ میں رنگنا بالکل غلط اور غیر منطقی بات ہے۔بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے آپ کو صِبْغَۃَ اللّٰہ (یعنی اللہ کے رنگ )میں رنگ لیا جائے۔
زمانہ قریب میں ہمارے یہاں وعظ سُننا عام تھا۔ لوگ بہترین واعظوں کو مدعو کرتے اور ایمان کی تازگی و حلاوت سے سیر ہوتے۔وعظ بھی انسان کے جذبات کو فوکس( Focus)کرتاہے جو ایک انسان کو خاص کرایک مسلمان کو نیک کام کرنے یا نیک کام پر ثابت قدم رہنے اور زندگی میں مُثبت تبدیلی لانے پر اُبھار تا ہے اور عملاً تیار بھی کرتا ہے۔جب پہلے دل کی دنیا نرم ہو جائے جب ہی تو وہاں ایمان کی تخم ریزی ہو پائے اور پھر نیکی کا شجرِ طیبہ نشو و نما پا ئے گا ۔آج کل لوگ خاص کر نوجوان صرف بات سمجھنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی وعظ و نصیحت کا انداز اپنائے تو لا محالہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ یار یہ تو وعظ کر رہا ہے بات کو سمجھا نہیں رہا ہے۔بھائی میرے بات تو سُنو ان اللہ والوں کی۔ اپنے قلب کی زمین کو نرم تو ہونے دو، پھر جو بات منطق اور علم کی بنیاد پر سمجھ میں آئے گی اور اُس سے جو تبدیلی آئے گی وہ دیر پا( (Long Lastingہو گی۔ صرف بات سمجھنے سے دماغ میں تو تبدیلی آتی ہے جبکہ عمل (action)نہیںہوتا ۔اس کے بر عکس دل کی دنیا تبدیل ہونے سے قبولیت (Acceptence)کا مادّہ بھی اُبھر آتا ہے۔سوچ اور فکر کی کایا پلٹ جاتی ہے اور اس کے مطابق عمل بھی ہونے لگتا ہے۔تاہم یہ بات واضح ہے کہ دل کی دنیا جذبات اُبھار نے سے بدلتی ہے خالص منطق سے نہیں  ؎
 شائد کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات 
 اس طرح سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ جذبات کے دلنشین راستے سے گزر کر جو منطق انسان کی سمجھ میں رَچ بس جا تی ہے وہی حقیقی اورمثبت جذبہ ہوتا ہے اور تبدیلی کا ضامن بھی۔بقولِ اقبال
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوزِ دماغ
اہلِ دانش عام ہیں کم یا ب ہیں اہلِ نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ
���
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ ارضیاتی سائنس میں محقق ہیں)
 
 
 
 
 
 
 

تازہ ترین