تازہ ترین

’بکھرے رنگ ‘

کتابی جائزہ

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


گلشنؔرشید
''بکھرے رنگ'' ڈاکٹر عقیلہ کے خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر عقیلہ دل والوں کے شہر یعنی دلّی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری کی یونیورسٹی بابا غلام شاہ بادشاہ میں بحیثیت معلمہ کم کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر عقیلہ کا یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے۔ اس کتاب کے کل صفحات 141 ہیں اور یہ مجموعہ حسب ترتیب گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔پیڑ کا جن، بکھرے رنگ، قاتل، طلاق، فریب، آخر میں نے پا لیا تجھے، سرجو، چھوٹی سی محبت، شادی کا تحفہ، پچھتاوے کا  بھنور اور چال۔ ان سبھی افسانوں میں کسی نہ کسی سماجی پہلو کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ نگار چونکہ عورت ہیں، اس لئے ان افسانوں میں خواتین کے مسائل کو ابھارنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے دوران قاری کبھی زور زور ٹھاٹھے مارتا ہے تو کبھی آہ بھرتا ہے، کبھی رومانٹک بات آئے تو شرماتا ہے اور جن کا ذکر آئے تو ڈر جاتا ہے۔
افسانہ ''پیڑ کا جن'' کا مرکزی کردار رقیہ ہے جو ہر وقت کام کام بس کام کرتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے خاوند کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی رہی۔ جب رقیہ اپنے خاوند کے اس روئے سے کافی تنگ آئی تو اس کے دماغ میں ایک زبردست فکرہ جاگا پیڑ کے جن کے بارے میں اور افسانہ نگار نے بڑے خوبصورت اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔قاری جب پڑھتا ہے تو وہ اپنی ہنسی کو روک نہیں پاتا ہے۔رقیہ زبردست جن کی ایکٹنگ کرتی ہیں تبھی اسکو اس ظلم و ستم سے نجات ملی۔ 
افسانہ ''بکھرے رنگ'' میں افسانہ نگارنے لڑکی کی بے بسی اور بے کسی کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح سے ایک اکیلی لڑکی کسی بھی درندے کی زیاتی کا شکار ہو سکتی ہے اور اس کی عزت و عصمت کو تار تار کر سکتا ہے اور جب عزت جاتی ہے، تب اتنی مجبور ہوتی ہے کہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے، اب وہ زندہ لاش بن جاتی ہے ،نہ اُسے جینے کی خوشی ہوتی ہے اور نہ مرنے کا غم۔ آخر میں جب اسکو خوشی ایک راہ نظر آتی ہے شادی سے، لیکن وہ راہ دور تک نہیں جاتی ہے۔وہ راہ اسے اسکے ارمانوں اور خوابوں کو توڑنے کے لئے دکھائی گئی تھی کہ جب سیما کی نظر آنند کی انگوٹھی پر پڑتی ہے تو گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر ٹوٹتے ہوئے سیما کے خواب رنگ ارمانوں کو بھی چکنا چور کر گیا کیوں کہ یہ وہ انگوٹھی تھی جب سیما گھر پہ اکیلی تھی تو تب جس شخص نے اس کی عزت لوٹی تھی ،تب اس شخص نے یہی انگوٹھی پہنی تھی اور پھر اسی شخص کے ساتھ سیما کی شادی طے ہوتی ہے اور سہاگ رات کے وقت جب سیما اپنے پتی کو پانی کا گلاس دینے کے لئے ہاتھ بڑھاتی ہے، تبھی اس کی نظر اس انگوٹھی پر پڑتی ہے۔ اس وقت سیما کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسکی عزت لوٹنے والا اور اسکا پتی دونوں ایک ہی ہیں۔ 
افسانہ ''طلاق'' سے ہمیں بہت بڑی نصیحت ملتی ہے کہ ہمیں اپنے غصے پر ہمیشہ قابو رکھنا چائیے اس سے پہلے کہ ہمیں پچھتانا پڑے جیسے کہانی کے مرکزی کردار شاداب کو پچھتانا پڑا۔ وہ ہمیشہ غصے میں رہتا تھا اور اسی غصے کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کی زندگی میں اندھیرا چھا گیا۔ جب ایک صورت نظر آئی لیکن اس امید نے بس اسکا ساتھ رات تک ہی دیا اور صبح جب رحمت چاچا کے دروازے پر دستک دی تو رحمت چاچا اس طلاق یافتہ بیوی کو لے کر فرار ہوچکا تھا۔ اب شاداب کے پاس پچھتانے کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔
جب انسان کے اندر کسی چیز کو حاصل کرنے کی سچی طلب ہو اور وہ اسے ہر حال میں حاصل کرنا چاہتا ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روک نہیں سکتی چاہئے وہ محبت ہو یا اور کچھ ۔یہ سبق ہمیں افسانہ ''آخر میں نے پا لیا تجھے'' سے ملتا ہے۔ ندیم آسیہ کو سچے دل سے چاہتا تھا اور اس سے حاصل کرنا چاہتا تھا تبھی اس کا پیار کامیاب ہوا اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ ان کی چاہت کے مطابق اگرچہ آسیہ کے ماموں شادی کے خلاف تھے لیکن انکا پیار سچا تھا ،دونوں نے ہمت کر کے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اگر آسیہ کے ماموں پہلے ہی مان جاتے تو ان دونوں کو ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں تو ان کی شادی کرا دینی چاہیے، ان کے بیچ میں رکاوٹ ڈال کر انہیں غلط قدم اٹھانے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔
افسانہ "شادی کا تحفہ" ایک اچھے انسان کے جذبات کو ابھارتا ہے اور اُسے اچھے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔جب شہلا کے بھائی ماجد کو اسکی دوست کے بارے میں سب پتہ چلا تو ماجد کے دل سے ہمدردی کی چنگاری بھڑکی اور اس نے دل میں یہ ٹھان لیا کہ میں اس لڑکی کا سہارا بنوںگا جس کا اللہ کے کوئی سہارا نہیں۔ چونکہ انسان کا اکیلے زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ماجد کے دل میں اس بے سہارا لڑکی کے لئے ہمدردی پیدا کر دی اور ماجد اپنی بہن کی شادی پر اس سے سب سے قیمتی تحفہ دینے کا سوچ رہا تھا کیونکہ ماجد کی بہن بے حد پریشان تھی اپنی دوست کی وجہ سے۔ اس لئے ماجد نے سوچا کیوں نہ میں اپنی بہن کو اسکی سب سے خاص دوست مریم کو شادی کا تحفہ دوں۔اس طرح شہلا کی خوشی دوگنی ہوگئی، ایک اپنی شادی کی اور دوسری اپنی دوست کی ۔
 افسانہ ''چال'' کے جو خیالات ہیں، وہ سارے کے سارے ہمارے اس معاشرت سے میل کھاتے ہیں۔ جب کسی لڑکی کی شادی ہونے والی ہوتی ہے تو اس کی ماں اسے پہلے ہی تربیت دیتی ہیں کہ کس طرح سے اپنے خاوند کو قابو کرنا ہے، کس طرح سے اپنی ساس سسر کو زیادہ توجہ نہیں دینی ہے اور جب گھر میں بہو لانی ہو تو اگر وہ بہو ایسا ہی سلوک کرے ،جو سلوک وہ اپنی بیٹی کو سکھا چکی ہوتی ہے تو محلے میں سب سے بولتی رہتی ہے کہ میری بہو ایسی ہے میری بہو ویسی ہے ،وہ نافرمان ہے، میرا ایک بھی کام نہیں کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب ہم کسی اور کے لئے اچھا نہیں چاہتے ہیں تم ہم یہ امید کیسے کر سکتے ہیں کہ فلاں میرے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ یہ تو دنیا کا دستور ہی ایسا ہے کہ جیسا بوؤگے ویسا کاٹوگے۔جتنی بھی مائیں ہیں ان کو ہمیشہ بیٹی اور بہو دونوں کو ایک جیسا پیار دینا چاہیے ۔جیسے وہ اپنی بیٹی کے لئے اچھا سوچتی ہے، اسی طرح سے اُسے اپنی بہو کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے ۔یہی اصل انسانیت ہے اور انسانیت ہمیں یہی درس دیتی ہے۔ 
بکھرے رنگ افسانوی مجموعہ پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوتاہے کہ ڈاکٹر عقیلہ نے بڑے خوبصورت انداز میں معاشرے کے مسائل کو ابھاراہے۔ اس مجموعے کا مطالعہ کرنے کے بعد پتا چلا کہ ڈاکٹر عقیلہ اچھا خاصا افسانہ نگاری کا مزاج رکھتی ہیں۔یہ انکی سب سے پہلے کوشش ہے جو کافی حد تک متاثر کن ہے۔ بڑے منفرد انداذ میں ہر ایک افسانہ لکھا گیا اور تما کرداروں کا رول بڑے زبردست انداز میں نبھایا گیا ہے۔ اگر ابتدا سے ہی کوئی ایسے افسانہ لکھتا ہے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ آگے جاکرڈاکٹر عقیلہ اس میدان میں اپنا لوہا منوائے گی۔
���
رابطہ۔ریسرچ سکالر ،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر۔9596434034ای میل۔gulshanlone786@gmail.com