تازہ ترین

مسابقتی امتحانات اور کشمیر ی اُمیدوار

ذرا نَم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی!

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


آصف اقبال شاہ
 وادیٔ کشمیر کی مردم خیز بستی میں زرخیز نسل نو گزشتہ تیس برسوں سے تیغوں کے سائے میں پل کر جوان ہوچکی ہی۔گزشتہ تیس برسوں سے چل رہے نامساعد حالات کی وجہ سے ایک غیر یقینی صورتِ بن چکی ہے۔ وادی میں کبھی ہرتال،کبھی کرفیو،کبھی کریک ڈاون،کبھی لاک ڈاون،کبھی انکاونٹر اور کبھی اور کوئی نا خوش گوار واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے تعلیمی ادارے اکثر مقفل رہتے ہیں۔ چنا نچہ اس شورش زدہ علاقہ میں گزشتہ کہیں دہائیوں سے زندگی کے جملہ شعبہ جات کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ بْری طرح سے متا ثر ہوچکا ہے۔ہزاروں نوجوان طرفین کی تنا تنی کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکے۔ ایک طرف سے سیاسی اْتھل پتھل اور دوسری طرف سے تعلیمی اداروں میں تد ریسی عملہ کی کمی،بہتر تعلیمی ماحول کی عدم دستیابی اور غربت و عسرت کے باوجود بھی وادی کے ہزاروں طلباء ہر سال مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ عصر حاضر میں جموں و کشمیر دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں فی الوقت انٹرنیٹ کی رفتار کچھوے کی چال رہی ہے۔ اس طرح سے جموں و کشمیر میں ایک نہیں بلکہ ہزاروں گھمبیر مسائل ہیں۔ پوری وادی میں قایم بیسیوں تعلیمی ادارے ایسے ہیں جہاں کلاس روموں کی کمی کے ساتھ ساتھ تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ معیاری لیبارٹریز،جدید کتب خانے اور عصرِحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب نہ ہونے کے باوجود بھی جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلباء اپنی بیدار مغزی کا مظاہرہ کررہے  ہیں۔ سچ یہ ہے کہ نسلِ نو کو بلند پروازی عطا کرنے میں جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہاں اکثر نایاب ہیں لیکن اس کے باوجود ہر سال ان گنت طلباء بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نو خیز نسل ایک زرخیز نسل ہے جو بے شمار مسایل کے ہوتے ہوئے بھی تمام قسم کی دشواریا ں فتح کرنے کا جذبہ رکھتی ہے ۔
امسال جموں و کشمیر کے 12 لوگوں نے IAS امتحان پاس کرنے کے ساتھ ساتھ 70  امیدواروں نے KAS امتحان میں کامیابی حاصل کی۔اس کے علاوہ JEE امتحان میں درجنو ں طلباء نے کا میابی حاصل کی۔ اور ابNEET-2000 میں ایک ہزار سے زاید طلباء نے نیشنل ایلجیبیلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ امتحان میں شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس میں کوئی مبا لغہ آرائی نہیں ہے کہ ہماری نو خیز نسل بے پناہ صلا حیتیوں سے لبریز ہے لیکن ان صلا حیتیوں کو پروان چڑھانے کے لئے مناسب اور خوشگوار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے یہ صلا حیتیں ضایع ہوجاتی ہیں۔ ایک ایسی بد نصیب وادی جہاں تیغ و تفنگ اور زاغ و زغن ہونے کے باوجود بھی سینکڑوں طلباء ملکی اور مقامی سطح کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لے کر اپنی زہانت کا ڈھنکا بجاتے ہیں،اپنے آپ میں قابل فخر کارنامہ ہے۔
 ایک رپورٹ کے مطابق 2018 ء کے KAS امتحان میں 1750 امیدواروں نے حصہ لیا تھاجبکہ 2019 ء میں انڈین ایڈمنسٹریٹو امتحان میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے بہت کم لوگوں نے حصہ لیا تھا جس میں سے 12 خوش نصیب امیدواروں نے اس امتحان کوکوالیفائی کیا۔امسال NEET میں 13500 طلباء نے حصہ لیا جن میں سے ایک ہزار سے زاید طلباء نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اسکے ساتھ ساتھ باقی شعبہ جات میں بھی جموں و کشمیر کے طلباء کسی سے کم نہیں۔ نییٹ2020ء میں باسط بلال نے 695 نمبرات حاصل کرکے ایک ریکارڈ قایم کیا۔بڈگام کے رہنے والے شرجیت سنگھ نے 682نمبرات حاصل کرکے ایک مثال قایم کی اور کنزر بارہمولہ کے دو جڑواں بھائیوں شارق اور گوہر نے پورے علاقے کا نام روشن کیا۔
انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ،غربت کی مہاماری اور غیر یقینی حالات کے باوجود بھی ان لوگوں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور با لآخر کامیابی انکے پیر چومی۔دادِتحسین کے مستحق ہیں یہ لوگ جنہوں نے نامساعد حالات میں جہاں تعلیمی ادارے مقفل ہیں، انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے،بہتر تعلیم و تربیت کا فقدان ہے اور بجلی کی آنکھ مچولی کے باوجود بھی کامیابی حاصل کی۔ پتہ چلتا ہے کہ اگر انسان میں لگن ہو،حوصلہ ہو،ہمت ہو اور جذبہ ہو تو کوئی چیز ناممکن نہیں۔ لیکن اکثر لوگ جلدی نا امید ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ ذہنی انتشار کے شکار ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی جہدِمسلسل کا نام ہے۔ بزدلی اور نا امیدی سے انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے، اسلئے جو لوگ اس سال NEET کو qualify نہیں کر پائے، انہیں ہمت نہیں ہارنی چاہئے بلکہ ایک نئے جذبے کے تحت باریک بینی سے مطالعہ شروع کرنا چاہیے۔ شرجیت سنگھ نے گزشتہ سال صرف 284 نمبرات حاصل کئے تھے اور اس سال 684 نمبرات حاصل کئے۔
موجودہ دور میں ضرورت ہے مسابقتی امتحانات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی لیکن بد قسمتی سے بہت ہی کم طلباء ان امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں شعبہ تعلیم اور والدین پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ایک خوشگوار ماحول پیدا کرکے زیادہ سے زیادہ بچوں کو مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے کے لئے تیار کریں۔ سوال یہ ہے کہ چھ لاکھ گریجویٹ امیدواروں میں صرف دو یا تین ہزار لوگ ہی کیوں KAS اورIAS جیسے مسابقتی امتحان میں شریک ہوجاتے ہیں۔لاکھوں زیر تعلیم طلباء میں سے پندرہ سے لے کر بیس ہزار طلباء ہی کیوں NEET امتحان میں حصہ لیتے ہیں اور کامیاب امیدواروں سے غریب طلباء کی شرح آٹے میں نمک کے برابر کیوں ہوتی ہے کیونکہ بنیادی طور تعلیمی ادروں میں مناسب گائیڈینس اور کونسلنگ کا فقدان ہے اور اس فقدان کو دور کرانے کے سلسلے میں سرکار کو نت نئے کونسلنگ سیلز شروع کرنے ہونگے۔ سکولوں میں تعلیمی معیار کو بڑھانا ہوگا اور ماہوار بنیادوں پر مختلف پروگراموں کاانعقاد کرانا ہوگا جس سے چھپی ہوئی صلاحیتیوں کو باہر نکال کر نکھارا جا سکے۔
 ہزاروں ذہین لیکن غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کوچنگ کی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں جسکی وجہ سے انکی صلاحیتیں دفن ہوجاتی ہیں۔ کوچنگ کے بغیر بھلا کیسے کامیابی حاصل کی جاتی ہے کیونکہ یہ ہے ایک نیا ماینڈ سیٹ بنا ہوا ہے۔اسطرح لاکھوں طلباء ہرسال جمووکشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے مشہور کوچینگ سینٹرس میں کوچنگ لیتے ہیں۔ یہاں قایم درجنوں کوچنگ سینٹرس میں زیر تعلیم لاکھوں طلبا کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر تربیت کی ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پندرہ ہزار طلباء میں سے صرف ایک ہزار طلباء نے ہی شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور کامیابی حاصل کی اور باقی چودہ ہزار امیدوار کوالیفائی نہیں کر پائے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ محنت،جذبہ اور لگن سے کام نہیں لیا گیا ہے۔وقت کا صحیح استعمال نہ کرتے ہوئے امتحان میں کامیابی حاصل نہیں ہو پائی ورنہ یہ لوگ بھی زرخیز ذہن کے مالک ہیں۔ان حالات میں سرکار،شعبہ تعلیم کے افسران،اساتذہ صاحبان اور والدین حضرات کو مل کر اس زرخیز نسل کی آ بیاری کے لئے اپنا رول نبھانا ہوگا جسکے نتیجے میں ہماری قوم ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیوں کو ضایع ہونے سے بچا یا جاسکتا ہے۔