تازہ ترین

ویکسین حلال ہے یا حرام؟ انڈونیشیا میں نئی بحث شروع

تاریخ    21 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


جکارتہ//انڈونیشی عوام میں یہ پریشانی پائی جاتی ہے کہ کورونا ویکسین حلال ہو گی یا حرام۔ اس حوالے سے انڈونیشیا کے صدر نے عوام کو بے چین اور پریشان ہونے سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔اس پریشانی و بے چینی کی وجہ انڈونیشی علماء کونسل کا 2018 میں دیا گیا وہ فتویٰ ہے، جس نے خسرہ بیماری کی ویکسین کو حرام قرار دے کر اس کا استعمال ممنوع کر دیا تھا۔ انڈونیشیا کے صدر نے اپنے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے انسداد کی ویکسین کے حوالے سے قبل از وقت پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ حکومت اس وبا کے انسداد کے لیے برطانیہ اور چین سے دستیاب ہونے والی ویکسین کی منظوری رواں برس نومبر میں دینے والی ہے۔ادھر عالمی ادارہ صحت نے کرونا ویکسین سے متعلق اچھی خبر سنا دی ہے، ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی ویکسین رواں برس کے آخر تک آنے کی امید ظاہر کردی۔عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ سے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم کا کہنا تھا کہ ہمیں ویکسینز کی ضرورت ہے اور قوی امید ہے کہ سال کے آخر تک کورونا ویکسین مل جائے گی۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی 9 کورونا ویکسینز پر کام جاری ہے اور رواں برس کے آخر میں ویکیسن آنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

تازہ ترین