تازہ ترین

تاخیر سے شادی نوجوان نسل کی تباہی

مقدس بندھن کو خرافات سے پاک رکھیں

تاریخ    21 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے کئی رشتے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر شادی کو تمام انسانی رشتوں کی ماں کہا جائے تو نا مناسب نہ ہوگا۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر، افضل و خیر ہے اور تاخیر سے کی جائے تو کئی ایک مسائل کو اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ شادی اگر بر وقت ہو تو اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماج کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے۔ بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی تاکید اسلامی تعلیمات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔ 
سورۃ النور آیت نمبر 32 کے اندر سرپرستوں (Guardian) سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی کریں، رشتوں کی تلاش و جستجو میں لگے رہیں، شرعی طور پر قابل قبول رشتے کی فراہمی کے باوجود ان کی شادی میں تاخیر ہرگز نہ کریں اور اس سلسلے میں ہر ممکنہ معاونت ان کے لئے بہم رکھیں اور جب بھی ان کے زیر نگرانی لڑکے یا لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچیں تو غیر ضروری معاملات کو بنیاد بنا کر ان کے نکاح میں تاخیر نہ کریں کہ ان کی عمر ڈھلنے لگے۔ 
دورِ حاضر میں ثقافتی یلغار نے نوجوانوں کے طرزِ زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ثقافتی یلغار کے زیر اثر رہن سہن میں تبدیلی کا ایک راست نتیجہ یہ بھی نکلا کہ رشتہ ازدواج میں وہ جاذبیت بہت حد تک پھیکی پڑ گئی جو پہلے پہل زندگی میں حرارت کا ایک بہت بڑا منبع ہوا کرتی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جواں جوڑے شادی بیاہ کے لئے ترستے تھے لیکن آج کل معاملہ بالکل برعکس ہے۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے نکاح بیشتر جواں لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے ایک ناگزیر بلا ہے جو چاہتے نہ چاہتے ان کے گلے پڑ ہی جاتی ہے۔ 
والدین بھی اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہتر شریک حیات کی تلاش کرنے کی جستجو میں کئی معقول اور قابل قبول رشتے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جس سے بچیوں کی عمر بڑھتی چلی جاتی ہے لیکن ان کا کفو نہیں ملتا۔ والدین کو اپنی غلطی کا احساس تب ہوتا ہے جب موزوں رشتے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ جہیز اور بے جا اخراجات کے علاوہ ہماری نوجوان نسل شادی کو ایک بوجھ سمجھنے لگی ہے اس لئے وہ جتنا عرصہ اس کے لئے ممکن ہو خود کو اس سے دور ہی رکھنا چاہتی ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں پل رہی سوچ کے مطابق انہیں اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے جینے کی آزادی نہیں ملتی اور جب وہ شادی کرنے کو آمادہ بھی ہوتے ہیں تو شریک حیات کے انتخاب سے متعلق بھی ان کے بے جا مطالبات کی لمبی فہرست ہوتی ہے جن کو پورا کرنے کے لئے عمرِ خضر درکار ہے۔ والدین بھی اپنے لاڈلوں کی یہ بے جا فہرست لے کر جب ان کی پسند کا رشتہ ڈھونڈنے میں مصروف ہوجاتے ہیں تو انہیں تلاش بسیار کے باوجود کہیں سے بھی وہ شرطیں پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اس طرح زندگی کے کچھ اور بیش قیمتی سال رائیگاں ہو جاتے ہیں اور رشتہ ازدواج میں بندھنے کی بہترین عمر ڈھلنے لگتی ہے۔
آج کل نوجوانوں کے مابین اپنے جنس ِمخالف کے ساتھ ناجائز دوستیاں اور غیر مشروع تعلقات بھی نکاح سے کراہت کا ایک سبب ہے۔ اور اسی طرح غیر ضروری مشاغل میں اپنے بیش قیمتی وقت کی بربادی، تباہ کن گناہوں کا شکار ہونا، پڑھائی اورکام میں دل نہ لگنا اور پھر مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونا چند ایک ایسی وجوہات ہیں کہ جن سے اس کار سعید میں دیر ہو جاتی ہے۔ 
 شادیوں میں تاخیر اب آہستہ آہستہ ایک سماجی ناسور بن چکا ہے جس نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں دراڑ پیدا کرکے اسے زمین بوس کی راہ ہموار کی ہے۔ کبھی تو ہمارے اپنے تصورات ، کبھی ہماری بے جا خواہشات رکاوٹ بنتی ہیں، کبھی ہمارے رسم و رواج، کبھی ہمارے بے جا توقعات ہم کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں، کبھی یہ غلط تصور کہ جلدی شادی تعلیم میں اور آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ایک طرف جہاں شادی میں تاخیر کا مسئلہ قابل توجہ ہے تو دوسری طرف ہر طرح کی آزادی، مخلوط تعلیم، بے پردگی ، تعلقات و روابط میں کوئی رکاوٹ نہ ہونا، بڑھتی ہوئی عریانیت، موبائل کا بے جا استعمال ، سوشل میڈیا کا بغیر کسی اخلاقی ضابطہ کے استعمال بھی چند ایک ایسے مسائل ہیں کہ جو اس بنیادی مسئلہ کے ساتھ مربوط اور مرتبت ہیں۔ نتیجتاً بعض جوان گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ 
اس طرح کی صورت حال بدکاری اور فحاشی کو فروغ دینے میں جلتے پر تیل کا کام کرتی ہے جبکہ اسلام میں نہ صرف زنا سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے بلکہ اس کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ظاہر سی بات ہے خدا نے تزویج کی خواہش مرد و عورت دونوں کے وجود میں رکھی ہے اور جو شخص ازدواجی تعلق سے رغبت نہ رکھتا ہو تو وہ گویا اپنی فطرت سے ہی پنجہ آزمائی کر رہا ہے کیونکہ اس فطری خواہش کو پورا کرنے کے لئے صحیح و جائز راستہ صرف شادی کی شکل میں رکھا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق شادی سے دو شخص ہی گریز کرتے ہیں ایک نامرد تو دوسرا بدکار۔
والدین کی جانب سے اپنی اولاد کے تئیں بے جا لاڈ پیار، تعلیمی مصروفیات، مالی حالت، ثقافت، حسن اور دولت کی ترجیح، کم عمر کی ترغیب، وہم و خوف ،عریانیت جیسے اور بھی اسباب ہیں جن کی طرف اشارتاً ہی فی الوقت قارئین کی توجہ مبذول کی جا سکتی ہے۔ ان سب وجوہات سے ہمارے معاشرے میں آئے دن بڑھتی ہوئی عمر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے تعداد میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ نوجوان نسل تباہی کے دہانے کی جانب تیز رفتاری سے چلی جا رہی ہے۔ جس کے نتائج ہمارے سامنے آئے دن ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہمارا سماج روز بہ روز بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اور ہم بے حس اور بے روح دیکھتے جا رہے ہیں۔ 
 وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف متحرک ہو جائیں اور اس کے سدباب کی سعی کریں۔ علماء کرام، ائمہ مساجد، دانشوروں و مفکروں، مشہور و معروف قلم کاروں، تجزیہ نگاروں، صحافیوں، شاعروں و قانون دانوں ، سیول سوسائٹی، سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں، مدارس اسلامیہ، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی سطح کے معلمین اور طلباء، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد، زی عزت اشخاص، مختلف اداروں سے ریٹائرڈ سربراہاں اور دیگر مؤثرافراد کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس ناسور کے خلاف قوائد و ضوابط تیار کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی پھیلانے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے ۔
سماج میں برے رسومات کو پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ بچوں کی بلوغیت  کے فوراً بعد شادی کرنے کا رواج عام کیا جائے۔ غریب و یتیم بچوں کے لئے فوری و آسان شادیوں کا بندوبست کیا جائے۔ محلہ سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے کر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ نکاح کو مشکل اور کاروبار کے بجائے آسان اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے پر انجام دے دیا جائے۔ 
والدین اپنے بچوں کی عصری و دینی تعلیم و تربیت کا بھی خاص خیال رکھیں۔وہ اپنی حد درجہ ضد اور ہٹ دھرمی سے پرہیز کریں۔ قرآن و سنت کے مطابق شادیوں کو اصراف جیسی زحمت و بے حیائی کے اڈہ بننے کے بجائے حضرت زینب اور فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی طرح سادگی اور رحمت کا ذریعہ بنائیں۔ جہیز جیسی لعنت کے بجائے دین کی آگاہی کا مطالبہ کریں۔ الغرض جوان ہوتے ہی اپنے بچوں کی شادیوں کے اسباب مہیا کریں اور اس میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی اپنی سطح پر نمایاں کردار ادا کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو شادیوں کے سلسلے میں سنجیدہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔
رابطہ۔ہاری پاری گام، ترال
موبائل نمبر- 9858109109