تازہ ترین

این ای سی ٹی امتحانات اور کشمیر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی

تاریخ    21 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 طبی تعلیم کے حصول کیلئے قومی سطح پر لئے گئے داخلہ امتحان کے حالیہ نتائج جموںوکشمیر کے لئے حوصلہ افزاء ہیں کیونکہ ان امتحانات میں ایک دفعہ پھر جموں وکشمیر کے طلباء نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ یہ ثابت کردیا کہ نامساعد حالات کے باوجود یہاں کے طالب علم کیریئر کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں اور وہ کسی بھی طور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں پیچھے رہنے کیلئے تیار نہیںہیں۔NEETامتحان میں جن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ،ان کا خوش ہونا فطری ہے اور جو امیدوار اس بار یہ امتحان پاس نہ کرسکے ،اُن کی افسردگی بھی فطری ہے تاہم ایسے امیدواروں کیلئے یہ سنہری موقعہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ وہ کیوں کر پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ اگلے امتحان کیلئے وہ بھرپور تیاری کرسکیں اور اُن خامیوںکا ازالہ سکیں جن کی وجہ سے اُنہیں اس بار ناکامی کا سامنا رہا۔کسی بھی امتحان میں ناکامی کیریئر کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ہر ناکامی ایک کامیابی کا پہلا زینہ ہوتی ہے بشرطیکہ امیدوار ناکامی سے سیکھیں اور نئے چیلنج کیلئے خود کو تیار کریں۔
حالیہ NEETامتحان کے نتائج میں جس طرح پلوامہ کے ایک طالب علم نے 720 میں سے 695 نمبرات حاصل کرکے یوٹی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی ،وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کشمیر کی مٹی صلاحیتوں کے لحاظ سے ہنوز زر خیز ہے بس اسکے ذرا نم ہونے کی ضرورت ہے۔باسط بلال خان کو اس کامیابی پر لیفٹنٹ گورنر نے بھی ہدیہ تہنیت پیش کرنے کی غرض سے راج بھون بلایا تھا جہاں اُن کی عزت افزائی کی گئی۔چونکہ باسط بلال کے والد خود ایک ڈاکٹر ہیں تو اُن سے کسی حد تک اس بڑی کامیابی کی توقع کی جاسکتی تھی تاہم شمالی ضلع بارہمولہ کے کنزر علاقہ کے اُن جڑواں بھائیوں کی کامیابی یقینی طور پر اُن کے ہم عمر ساتھیوں کیلئے مشعل راہ ہوسکتی ہے جو غریبی کے اتھاہ سمندر میں ڈبکیاں ماررہے تھے ۔ان جڑواں بھائیوں کے والد پیشہ سے مزدور ہیں اور بڑی مشکل سے اہل خانہ کا پیٹ پالتے ہیں تاہم مالی تنگدستی کے باوجود اُنہوںنے جس طرح اپنے بچوں کو پڑھایا ،وہ دیگر والدین کیلئے ایک سبق ہے کہ مالی دشواریوں کو ہمیں اپنے بچوں کے تعلیمی سفر میں آڑے نہیں آنے دینا چاہئے ۔تاہم یہ جڑواں بھائی بھی قابل تحسین ہیں کہ انہوںنے اپنے غریب والد ین کی محنت رائیگاں نہیں ہونے دی اور غربت کو کامیابی کے سفر میں حائل نہ ہونے دیا بلکہ غربت کے تھپیڑوں کو برداشت کرتے ہوئے NEETکے امتحان میں پہلی کوشش میں ہی کامیابی حاصل کی ۔ان جڑواں بھائیوں کی یہ کامیابی اُن طالب علموں کیلئے باعث رہنمائی ہے جو غربت ،مالی تنگدستی اور دیگر وجوہات کی آڑ میں تعلیم سے آنکھیں چرارہے ہیں ۔ان بھائیوںنے یہ ثابت کردیا کہ اگر آپ میں چاہت ہے تو کوئی بھی مشکل آپ کو کامیابی سے نہیں روک سکتی ہے ۔
ان کامیابیوں پر جشن منانا درست ہے کیونکہ یہ قوم اب کافی عرصہ سے مسلسل مایوسیوں سے گزر رہی ہے اور ایسے میں راحت و فرحت کا کوئی موقعہ میسر آئے تو ان پر شادماں ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ ایسی کامیابیوں کو ہمیں بھرپور انداز میں سلیبریٹ کرنا چاہئے تاہم یہ جشن منانے کے دوران ہمیں اپنے تعلیمی منظر نامہ کا بھی جائزہ لینا چاہئے چونکہ یونین ٹریٹری بننے کے بعد تعلیمی نظام ،امتحانی طریقہ کار اور مقابلہ جاتی امتحانات کی سطح تبدیل ہورہی ہے تو ہمیں ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے طلباء کسی بھی طور باقی ملک کے ہم عمر ساتھیوںسے پیچھے نہ رہیں۔
وقت آچکا ہے کہ ہم عالمی سطح پر رائج رجحانات سے سیکھنے کا عمل شروع کریں۔چونکہ یہاں امکانات محدود ہیں اور سبھی نوجوانوں کیلئے بھرپور مواقع دستیاب نہیں ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم کشمیر کی وسعتوںسے باہر نکل کر دیکھیں اور عالمی سطح پر اپنے لئے مواقع تلاش کریں۔ہمارے تعلیمی اداروں اور وہاں پڑھارہے ہمارے مدرسین کے کاندھوںپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہمارے طلباء اور والدین کے نظریات میں وسعت پیدا کریں ۔ہم اپنے آپ کو جموںوکشمیر تک ہی محدود نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہم صرف NEETکے ایک امتحان پر اکتفا کرسکتے ہیں۔ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور نئی وسعتوں کو پانے کی جستجو کرنی ہے ۔ہمارے نوجوانوںکو معلوم ہونا چاہئے کہ NEETسے آگے بھی دنیا ہے جہاں مواقع کا ایک اتھاہ سمندر مئوجزن ہے تاہم اُن مواقع کو پانے کا ہنر پیدا کرنا ہے۔
کنویں کی مینڈک بننے کے بجائے ہمارے نوجوانوںکو چاہئے کہ وہ ملک اور دنیا کو ایکسپلور کریں ۔دنیا بہت بڑی ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت نہیں ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ کاحصہ ہے ۔ہمارا نوجوان خدا داد صلاحیتوں سے مالال مال ہے لیکن اس کو ذرا نکھارنے کی ضرورت ہے ،اس نوجوان کی ذہن سازی کرنی ہے تاکہ وہ عالمی مسابقت کا حصہ بن کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے ۔امید ہے کہ اکابرین اس پہلو پر بھی غور فرمائیں گے اور اس سمت میں عملی اقدامات کریںگے تاکہ ہمارے نوجوان مواقع کی کمی کا شکار ہوکر بیروزگاروں کی فوج میں مزید اضافہ کا باعث بننے کی بجائے روزگار کے حصول کے سفر میں رہنمائی کا باعث بنیں۔