وادی میں ابھی کوئی کٹوتی شیڈول مرتب نہیں کیا گیا

امسال بجلی سپلائی میں250میگاواٹ کا اضافہ ہوا،پچھلے سال کی کوتاہیوں کا ازالہ ہوگا:چیف انجینئر

تاریخ    21 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے موسم سرما کے مقابلے میں رواںسال بجلی سپلائی پوزیشن میں 250میگاواٹ کا اضافہ ہو گا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ فی الوقت درختوں کی شاخ تراشی اور سرما کے پیش نظر لائنوں کی مرمت کے سبب بجلی  اعلانیہ طور پر کچھ گھنٹوں کیلئے بند رکھی جاتی ہے اور محکمہ نے اس سال ابھی تک بجلی کا کوئی بھی کٹوتی شیڈول جاری نہیں کیا ہے۔پچھلے کئی ہفتوں سے شہر سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں تک برقی رو بند کی جارہی ہے اور کئی علاقوں میں 4یا 5گھنٹے کیلئے بجلی سپلائی کاٹ دی جاتی ہے۔کئی علاقوں سے لوگ شکایت کر رہے ہیں سرما شروع ہوتے ہی وادی میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اس صورتحال کا سامنا خاص طور پر دہی علاقے کررہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے آنے اور جانے کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور اکتوبر سے ہی جنوری کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔قاضی گنڈ سے کرناہ تک وادی کے شمال و جنوب میں بجلی کی غیر معقولیت کے بارے میں شکایت کے انبار لگنے لگے ہیں۔تاہم محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سرما کی تیاریوں کے پیش نظر شاخ تراشی اور لائنوں کی مرمت کے سبب بجلی سپلائی کو اعلانیہ طور پر بند رکھا جاتا ہے اور اس سلسلے میں اخبارات اور ٹی وی و ریڈیو کے ذریعے بھی لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے ۔ چیف انجینئر اعجاز احمد ڈارنے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک وادی کیلئے کوئی بجلی کٹوتی شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ سال 10اکتوبر سے ہی بجلی کٹوتی شیڈول بنایا گیا تھا اور لوگوں کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جاتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت وادی کو 1350میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے ،اور امیدہے کہ پچھلے سرما کے مقابلے میں اس سال وادی میں اڑھائی سو میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو گا ،کیونکہ آلسٹینگ گرڈ کی تعمیر سے  250میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا ’’ گذشتہ سال موسم سرما میں وادی کو 1200میگاواٹ بجلی دستیاب رہتی تھی لیکن اس سال1450میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے جس سے بجلی سپلائی میں کچھ حد تک بہتری آئے گی ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ محکمہ کے ساتھ تعاون کریں۔اعجاز احمد ڈارنے کہا کہ جب ایک گھر میں ہیٹر، بوئلر اور گیزر ایک ساتھ چلتے ہیں، تو سسٹم لوڈ برداشت نہیں کر تا، بجلی ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں، بار بار فالٹ آجاتے ہیں اور بجلی کی سپلائی متاثر ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا’’ ندی نالوں میں پانی کم ہونے کے سبب شمالی کشمیر کے گرڈ سٹیشنوں پر فرق پڑ سکتا ہے ،لیکن ابھی تک اس کا کوئی اثر نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرما کے دوران لوگوں کو معقول طریقہ پر بجلی سپلائی فراہم کرنے کی خاطر تیاریاں زوروں پر ہے اور اس سال لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت کے مطابق اورلوڈ کی وجہ سے جل جانے والے بجلی ٹرانسفامروں کی مرمت کا کام بھی زوروں پر ہو گا ۔اعجاز احمد ڈار نے کہا کہ پچھلے سال جو کوتاہی ہوئی ، اس سال اس کو دور کیا جائے گا ۔فی الوقت وادی میں 18سو سے19سو میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے تاہم وادی میں بجلی سپلائی کرنے کیلئے یہاں معقول  بنیادی ڈھانچہ ہی موجودہ نہیں ہے ۔ 
 

تازہ ترین