تازہ ترین

ریاستی درجہ کی بحالی خود حکمرانی کی ضامن

مقامی افسروں کا بیوروکریسی سے الگ کرنامایوس کن:الطاف بخاری

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر//اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ ریاستی درجہ کی بحالی میں مزید تاخیر کے متحمل نہیںہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ جلد ریاستی درجہ کی بحالی جموں وکشمیر کے شہریوں کو خود حکمرانی کے حق کی ضامن ہوسکتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان جس میں انہوں نے کہاتھاکہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ جلد ہی بحال ہو گا اور اب ہم اس کیلئے مزید انتظار نہیں کر سکتے ہیں، کا خیر مقدم کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ یہ فیصلہ کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کا نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے جمہوری حقوق اور اُن کے سیاسی خواہشات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا’’ میں وزیر داخلہ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انتظامیہ سطح پر مرکزی حکومت کو یاد دلانا چاہوں گا کہ اس حساس معاملہ کو جموں و کشمیر کے باشندوں کو درپیش مشکلات اور انتظامی سطح پر افراتفری کے پیش نظر طویل عرصے تک سیاسی معاملہ بناکر التوامیں نہ رکھیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ وقافی حکومت جتنا جلدی جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ پورا کرے گی ، اتنا ہی ملک کیلئے اِس خطہ میں امن وترقی کو یقینی بنانے کے لئے بہتر ہوگا۔بخاری نے مزید کہا’’ جموں وکشمیر کے لوگوں کو روزمرہ بنیادوں پر درپیش گوناگوں مسائل کا حل اور ہمہ جہت ترقی ریاستی درجہ کی بحالی اور جامع ڈومیسائل قوانین جس میں نوکریوں اور زمین کا مکمل تحفظ ہو، میں مضمرہے‘‘۔ بخاری نے مقامی افسران کو جموں وکشمیر بیروکریسی سے الگ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اِس کو ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔جموں وکشمیر انتظامیہ میں مقامی افسران کو الگ تھلگ کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔ اپنی پارٹی صدر نے مرکزی وزیر داخلہ سے اس سنگین معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی ہے کہ جس سے مقامی افسران میں کافی مایوسی پیدا ہوگئی ہے جوکہ لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں قابل ہیں اور اب تک انتظامیہ کے سبھی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔