تازہ ترین

سرسیدؔ ۔گوہر نایاب

علمی و ادبی خدمات مشعل راہ

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


منظور احمد گنائی
ہر سال 17 اکتوبر کو یوم سرسید کے بطور منایا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رواں سال میں بھی اس تاریخ کو سرسید کی یاد تازہ کرنے کے لئے ادبی محفلوں اور سمیناروں کا ملک بھر میں جوش وخروش کے ساتھ انعقاد کیا گیا لیکن اس سال کچھ الگ ہی اس کو اہمیت وافادیت بخشی گئی ہے کیوں کہ سال 2020ء کو سرسید کے ہاتھوں لگایا گیا تعلیمی پودا جو آج بھی گل سرسیدکے مانند ہے ،اس کی صد سالہ جشن میں سرسید کی یاد کچھ زیادہ ہی اہل ادب کے دلوں کو لبھا کر مسرت وانبساط کی لامتناہی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ سرسید احمد خان اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ادبی دنیا میں انہیں ہمیشہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے اردو ادب میں وہ کارہائے انجام دئیے جن کے عوض اردو ادب کے اوراق میںانکا نام ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
 سرسید بیک وقت مفسر قرآن،ماہر تعلیم،انشاپرداز،جاں باز سپاہی،دانشور،مفکر،قوم کے ہمدرد،وطن پرست اور بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وغیرہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ادبی دنیا میں جس لیاقت اور قابلیت کی وجہ سے جس لامتناہی شخصیت کے مالک ہیں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور جس صنف ادب سے انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی انفرادیت قائم کرنے میں یدطولا حاصل کیا وہ ہے ان کی انشاپردازی۔اگرچہ انہیں شاعری کا بھی اچھا خاصا شوق تھا لیکن اردو نثر نگاری کی وجہ سے وہ کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ اردو نثر میں ان کے کارناموں کو ایسا شرف عام حاصل ہوا جو شاید ہی کسی دوسرے نثر نگار کو حاصل ہوا۔ ہندوستان کی تاریخ میں 1857ء کی ناکام بغاوت کو سرسید احمد خان نے بہت قریب سے دیکھا۔ وہ ہمیشہ اس بات کے قائل تھے کہ ہندوستانیوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنا اور طاقت کا مظاہرہ کرنا عشر عشیر کے برابر بھی نہیں ہے اور ایسا کرنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔لہٰذا ان کا اگر کسی طریقے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو وہ ہے جدید تعلیم سے آراستگی اور معاشی طور پر اپنے آپ کو اس قابل بنانا کہ سمندروں کی ناگہانی موجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
 سرسید احمد خان انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہنما تھے۔انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جنجوڑ نے اور انہیں باعزت قوم بنانے کے لئے سخت جدوجہد کی۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اگر کسی طریقے سے ذلت اور رسوائی سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو وہ ہے تعلیم ۔مسلمانوں کے لئے اس ذلت سے نکالنے کے لئے انہوں نے وقتا فوقتا مختلف انجمنوں اور تحریکوں کو شروع کرکے اس بات کا بین ثبوت پیش کیا کہ تعلیم کے بغیر کوئی اور راستہ اپنایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے 1864ء میں غازی پور میں سائنٹیفک سوسائٹی کی جو بنیاد ڈالی جہاں ایسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا جو انگریزی میں میسر تھیں۔ سرسید اس بات سے بہ خوبی واقف تھے کہ ہندوستانی مسلمان انگریزی تعلیم سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتے ہیں۔مسلمانوں کے اندر علمی اور معاشی پسماندگی کو دیکھ کر انہوں نے 1869ء میں یورپ کا سفر کیا اور وہاں جاکر آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کا جائیزہ لیکر ہندوستان میں اسی طرز پر ایک تعلیمی مرکز قائم کرنے کا من بنالیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ تہیہ بھی کیا تھا کہ ہندوستان واپس جاکر ایک ایسے رسالے کا افتتاح کیا جا ئے جس میں خود اور اپنے رفقاء سے مضامین لکھواکر ادبی اور معاشی وثقافتی تنزل سے فراریت حاصل ہو سکے۔بالآخر1870ء میں ہندوستان واپس آنے کے بعد علی گڑھ سے ماہ نامہ رسالہ"تہذیب الاخلاق"جاری کیا۔ جس میں ایسے مضامین کی اشاعت پذیری عمل میں لائی گئی جو موقع و محل کے حساب سے خواب غفلت میں پڑی قوم کے لئے راہ نجات ثابت ہوئے۔ اس کے علاوہ 1873ء میں یونیورسٹی کے قیام کے لئے ایک جامع اور وسیع منصوبہ تیار کیا۔ لیکن ان کا وہ دیرینہ خواب ان کی زندگی میں شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔اسی کاوش کو مد نظر رکھ کر 1875ء میں انہوں نے علی گڑھ میں ایک مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام"مدرستہ العلوم"رکھا گیا۔ اس کے محض دو سال بعد اسی اسکول کو 1877ء میں کالج کا درجہ دے کر "محمڈن اینگلو اورینٹل کالج" نام رکھا۔ سرسید اسی کالج کو یونیورسٹی میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن یہ خواب وہ پورا نہ کر سکے اور آخر کار ان کی زندگی کے تقریبا بیس بائیس سال بعد یہی کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔
 موجودہ حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سرسید احمد خان کا جو تعلیمی ومذہبی فارمولہ تھا، قومی ترقی کے لئے وہ آج بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ غرض تاریخ میں محسن ملت سرسید احمد خان ایک گوہر نایاب ہیں اور ان کی وجہ سے مسلم جدید علم کی تلاش کے سفر کا مسافر بنا اور مسلم مشاعرہ پسماندگی سے نکل کر اجالے کی طرف آگیا جس کیلئے ہندوستانی مسلمان آج بھی ان کے مرہون منت ہیں۔
 رابطہ ۔حسن پورہ باغ بجبہاڑہ کشمیر
موبائل نمبر۔ 6005903959
 

تازہ ترین