تازہ ترین

جموں کشمیر میں اردو طالبانِ تحقیق کے مسائل

تعلیم و تحقیق

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


محمد یونس ٹھوکر
روزِ اول سے ہی انسانی سرشت میں چیزوں کو جاننے اور کائنات کو مسخر کرنے کی جستجو اور لگن ودعیت کی گئی ہے۔ ہبوط آدم سے لے کر آج تک انسان نت نئے تجربات اور مشاہدات سے انسانی علوم و فنون اور دانش میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ گویا تحقیق زندگی کی ہر سطح پر ایک زندہ معاشرے کی اہم اور بنیادی پہچان ہے۔ کسی معاشرے میں اگر تحقیقی عمل رک جائے تو اس معاشرے میں ہزاروں جھوٹ سچ کا لبادہ اختیار کرکے اسے دھیمک کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔ تحقیق غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے کسی امر کو اس کی اصل شکل میں منظر عام پر لا کر سماج و معاشرے سے ظلمت کی تلچھٹ دور کرکے روشنی بکھیر دیتا ہے۔ گویا تحقیق انسان کو ’’صداقتوں کا چراغ جلانے‘‘ کی دعوت عمل دیتا ہے   ؎
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے
جلا سکو تو جلاؤ صداقتوں کے چراغ
کھوجنے اور تحقیقی عمل سے انسانی ذہن ارتقائی مراحل طے کرتا رہتا ہے۔ایک عام سی کہاوت ہے کہ ’’بے کار آدمی کا ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔‘‘ دراصل یہ شیطان کی ایک خصلت ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو غور و فکر کرنے سے باز رکھتا ہے۔ ایسے میں جو انسان تحقیقی عمل میں جٹ جاتا ہے تو وہ شیطان کو مات دیتا ہے ۔تحقیق علم و ادب کے کسی بھی شعبے کا ہو، یہ جہاں بحر اوقیانوس جیسے عمیق اور گہرے مطالعے کا تقاضا کرتا ہے وہیں یہ سازگار ماحول ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف و متنوع سہولیتوں کا دستیاب ہونا بھی تقاضا کرتا ہے۔ محقق کسی بھی قوم و ملک سے تعلق رکھتا ہو، تحقیقی سفر کے دوران اسے مختلف مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ لیکن کشمیر میں تحقیق کرنے والوں کے مسائل کی نوعیت کچھ الگ قسم کی ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو کشمیر میں صلا حیتوں اور ہنر مندیوں کا فقدان نہیں ہے۔ کشمیر کی علمی ذرخیزیت اور ذہنی صلاحیتوں کا اعراف کرتے ہوئے آر۔ کے ۔ رائے نے کہا تھا:’’میں نے بارھویں جماعت کے طلبہ کے لیے جوmathamatics ترتیب دیا اس کو صرف دو ہی با آسانی حل کرسکتے ہیں یا تو یہودی jewsکے طلبہ یا کشمیر کے طلبہ۔ لیکن پھر بھی اتنی ذہنی و علمی صلاحیتوں کے باوجود یہاں تحقیق کے میدان میں سقم اور تشنگی کیوں محسوس ہوتی ہے؟تو اس کا سادہ سا جواب یہاں کے تحقیق کرنے والوں کے مسائل کا ہونا ہے۔ اور ان مسائل میں بھی سر فہرست یہاں کے ابتر سیاسی حالات ہیں۔
کشمیر گذشتہ چند دہائیوں سے جس درد و کرب اور کشت و خون کا بازار گرم ہونے کا منظر پیش کررہا ہے، ان حالات نے ہر ایک انسان کو بلا امتیاز جنس و عمر جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں جب ایک عام انسان ’’طائر منقار زیرِ پر‘‘ کی صورت اختیار کرکے محض سانس لینے کا رسم ادا کرنے پر مجبور ہو جائے تو بلا ان حالات میں ادیب ، قلمکار اور محقق حضرات ، جو کہ سماج و معاشرے کے سب سے زیادہ حساس افراد ہوتے ہیں، کس طرح قلم و قرطاس کی بزم آرائی کرکے علم و تحقیق کی آبیاری کرے۔ اس لیے کشمیر میں ایک محقق کو در پیش مسائل میں سب سے سر فہرست مسئلہ یہاں کے ناسازگار حالات ہیں۔ آئے روز سامنے آنے والے ظلم وبربریت اور خون خرابے کے واقعات ایک سادہ لوح انسان کے ساتھ ساتھ ایک محقق کو بھی جھنجھوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ ان واقعات کا مشاہدہ کرکے ایک محقق کا قلب وجگر مسموم ہو کے رہ جاتا ہے۔ اور ذہن و دل قلم و قرطاس سے رشتہ بنانے میں ناکام رہتا ہے۔ لہٰذا یہاں کے نامعقول حالات دیگر سارے علوم وفنون کے ساتھ ساتھ ایک اردو محقق کے لیے بھی تحقیقی راہ میں سد راہ بن کر نمودار ہوتے ہیں۔
حالات سے جڑے ہوئے ایک، دو اور مسئلے جو یہاں کے ایک عام محقق کے ساتھ ساتھ اردو محقق کو بھی درپیش آتے ہیں وہ ہے ہرتال اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی۔ ہڑتال کے دن یہاں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ ہڑتال کے روز یہاں ایک انسان طائر قفس کی صورت اختیات کرکے گھروں میں بند پڑا رہتا ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے میں کافی ساری صعوبتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ہڑتال کے روز ٹریفک سروس کی عدم دستیابی کی وجہ سے بہت سارے تحقیقی کام مؤخر کرنے پڑتے ہیں۔ کسی ادبی شخصیت سے اگر انٹریو لینا مقصود ہو تو اگر اس نے مشکل کے ساتھ محقق کے لیے کوئی تاریخ نکالی ہو، پھر اس روز اگر ہڑتال ہو تو دوبارہ اسے تاریخ لینے میں کافی سارا وقت ضائع ہوجاتا ہے۔
ہڑتال کے ساتھ ساتھ یہاں انٹرنیٹ سروس کی معطلی بھی ایک محقق کے لیے درد سر سے کم نہیں۔ پورے دن ایک معمولی سی معلومات حاصل کرنے میں ایک محقق اٹک جاتا ہے۔ اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی تک سوائے وقت ضائع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ آج اصناف ادب میں شاید ہی کوئی صنف ہو جس کے متعلق انٹرنیٹ پر مواد اور معلومات دستیاب نہ ہوں۔ لہٰذا ایک اردو محقق کو جس بھی موضوع پر کام کرنا مطلوب ہو اس کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ایک مستحکم رشتہ قائم کرنا نہایت ہی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اردو رسائل و جرائد، اخبارات، روزنامے، ہفت نامے اور ماہنامے بھی انٹرنیٹ پر کافی تعداد میں موجود ہیں۔ اردو دنیا، آج کل، اردو اسکالرس کی دنیا، ترسیل وغیرہ جیسے اہم اور معتبر رسالے آج انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہیں۔ ان رسالوں میں بعض نے اردو کے مشہور شعرا اور ادیبوں کے مخصوص نمبر بھی شائع کیے ہیں جن سے تحقیقی کام میں کافی کچھ مدد لی جاسکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ پر ایک اردو محقق کو ضرور بزم قلم، قلم قافلہ، گزرگاہ خیال، ادب ڈاٹ کام وغیرہ جیسی اہم پورٹلیں دیدنی ہوتی ہیں جن پر مفاد عامہ کے لیے اپنے مضامین و مقالات پیش کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان پورٹلوں پر پہلے سے ہی مختلف قلمکاروں اور مفکروں کے مقالات و مضامین بھی دستیاب ہیں جن سے استفادہ حاصل کرکے تحقیق میں مدد لی جاسکتی ہے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی بدولت ہم انٹرنیٹ پر مختلف آن لائن کتب خانوں سے مطلوبہ مواد حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاََ اردو کتابوں کا ایک بہت بڑا زخیرہ ریختہ کی ویب سائٹ http:/rekhta.org/books پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس معلوماتی سائٹ پر شاعری، نثر، لسانیات، تاریخ، تحقیق و تنقید، ترجمہ، عروض وبلاغت وغیرہ کی اہم اور نادر کتابوں کے ساتھ ساتھ نئی اور کلاسیکی کتابیں اور مخطوطے بھی محفوظ ہیں۔ یہ سائٹ اردو محقق کے لیے نہایت ہی کار آمد ہے۔ لیکن ان تما م سہولیات سے ایک قاری اس وقت مستفید ہوسکتا ہے جب اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولیت دستیاب ہو۔ یہاں اکثر اوقات اخباروں میں یہ خبر دیدنی ہوتی ہے کہ ’’وادی میں تین روز کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال‘‘۔ کشمیر میں ایک اردو محقق کو کبھی کبھار تین دن چار دن بلکہ کبھی پورا ہفتہ اسی انتظار میں بیت جاتا ہے کہ مواصلاتی نظام بحال ہوجائے تو کچھ کام شروع کریں۔
اقتصادی و معاشی مسائل، جہاں تک کشمیر میں اردو طالبان تحقیق کی بات ہے تو وہ عموماََ متوسط طبقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اقتصادی اور معاشی طور پر اتنے مستحکم اور خود کفیل نہیں ہوتے ہیں کہ وہ تحقیقی اخراجات خود اُٹھا سکیں، بلکہ یہاں کے اکثر طالبان تحقیق معاشی طور پر گھر والوں پر ہی منحصر ہوتے ہیں۔ پھر باہر کی طرح یہاں صنعتی اداروں اور دیگر پرائیوٹ اداروں کی فراوانی بھی نہیں ہے کہ جہاں ایک تحقیقی طالب علم جُز وقتی part time کام کرکے اپنے اخراجات پوری کر سکے۔ کشمیر سے باہر اردو کے تعلق سے بہت سارے ادارے اور انجمنیں ایسی ہیں جو اردو کے تحقیق طالبان کو تحقیق کرنے کے لیے باضابطہ طو ر پر ایک اچھی خاصی ماہانہ رقم فراہم کرتے ہیں لیکن کشمیر کے ایک اردو محقق کے لیے یہ چیز بھی ناپید ہے۔
اردو کے ایک محقق کو کشمیر میں جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ہے ذرخیز کتب خانوں کی کمی کا مسئلہ ہے۔ اردو کے تعلق سے یہاں اگر اکے دکے کتاب خانے اور لائبریری بھی نظر آتی ہے تو وہاں مواد کے اعتبار سے حد درجہ مایوسی ہوتی ہے۔ موضوع کے تعلق سے شاذ ہی کوئی کتاب دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لیے مطلوبہ موضوع پر کتابیں تلاش کرنے کے لیے اکثر اوقات باہر ہی کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ جس سے تحقیق کی سرعت رفتاری میں اڑچن پیدا ہوتی ہے۔ اب اگر خط و کتابت کے توسط سے ڈاک خانے کے ذریعے باہر سے کتابیں منگوائی جائے تو اس میں بھی کافی سارا وقت اور پیشہ صرف ہوتا ہے۔یہاں ضلعی سطح پر تو ہر ضلع میں اچھی خاصی لائبرئری قائم کی گئی ہے ۔ شاندار عمارت اور کتابوں سے لیس، لیکن اُن میں صرف انگریزی، سائنسی، سماجیاتی، قانونی، حیاتیاتی، کیمیائی وغیرہ کُتب کی فراونی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اردو کے تعلق سے اُن میں بھی کشمیر کے ایک اردو محقق کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان تما مسائل سے پرے یہاں کے ایک مقامی اردو محقق کو جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے وہ کچھ یوں ہیں:
۱) اردو کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ سے ناواقفیت: اردو چونکہ کشمیریوں کی اپنی مادری زباں نہیں ہے ۔ یہ یہاں کی ایک ثانوی زباں ہے جو تین صعبوں کشمیر، جموں اور لداخ میں رابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ کشمیری تحقیقی طالبان اردو کے رسم الخط اور اس کی باریکیوں سے تو کسی حد تک پوری طرح واقف ہیں لیکن اس کی ثقافتی باریکیوں سے کسی حد تک بے بہرہ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ادیبوں کی بعض تحریریں کشمیری طلبہ کے درک میں نہیں آتی کیوں کہ وہ کسی مخصوص ثقافت کے پس منظر میں لکھی گئی ہوتی ہیں، جس سے یہاں کا طالب علم پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔
۲) لغات اور قواعد سے نا واقفیت: کشمیر کے طالبان تحقیق اردو کی لغات اور اس کے قواعدوں کی باریکیوں سے عموماََ اتنی واقفیت نہیں رکھتے جتنے کہ اردو کے اہل زباں۔ یہ چیز بھی تحقیق میں بسااوقات اڑچن پیدا کرتی ہے۔ تاہم اس مسئلے کی نوعیت باقی ماندہ مسائل کے مقابلے میں کم ہی ہے۔
۳) اردو کے علاوہ دیگر زبانوں سے نارسائی: اردوزبان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں وسعت ہے۔ یہ دوسری زبانوں کے الفاظوں کو اپنے اندر سمونے میں فراخ دل ثابت ہوئی ہے۔ یہاں دیکھا جائے تو عربی و فارسی الفاظ و تراکیب کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک محقق کو اُن زبانوں کی الف با سے کم از کم واقفیت ہونا لازمی بنتا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اردو کے اکثر طلاب عموماََ اور کشمیر کے خصوصاََ اردو کے سوا دوسرے زبانوں سے کم ہی واقفیت رکھتے ہیں۔ پھر اردو میں بہت سارے تنقیدی خیالات انگریزی سے ماخوذ ہیں۔ لہذا اس سلسلے میں بھی ایک محقق کا اس زبان سے واقف ہونا لازمی بنتا ہے۔ کشمیر کے اکثر اردو محققین اس چیز سے عاری ہیں۔
۴) طرزِ املا اور تاریخ خط سے ناواقفیت:اردو کا کافی سارا ذخیرہ پرانے مخطوطوں پر مشتمل ہے۔ ان مخطوطوں سے استفادہ کرکے نتائج اخذ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔اُن قدیم نسخوں کا مطالعہ کرنے سے عموماََ کشمیری محققین عاجز ہی ہیں کیوںکہ وہ اس زمانے کے طرزِ املا اور تاریخ خط سے واقف ہی نہیں۔لہذا تحقیقی سفر میں یہ ایک سد راہ ثابت ہوتی ہے۔
۵) قمری ماہ و سال کو شمسی ماہ و سال میں تبدیل کرنے میں دشواری:  اردو کے ساتھ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس میں دو طرح کی تاریخ اور سنہ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ قمری اور شمسی۔ اردو پر چونکہ عربی فارسی کا کافی اثر ہے لہذا اس کے زیر اثر یہاں بھی بہت ساری اردو کتب میں قمری تاریخ شامل ہوگئی ہے۔ہم چونکہ شمسی تاریخ سے زیادہ سروکار رکھتے ہیں۔ اس لیے تحقیق کرتے وقت قمری تاریخ کو شمسی تاریخ کے ساتھ مطابقت کرنے میں پریشانی آتی ہیں۔ یہ چیزیں تحقیقی رفتار کو سست کردیتی ہیں۔
۶) متن کی مکمل تفہیم کا مسئلہ: بسااوقات متن کسی مخصوص تہذیب و ثقافت کے پش منظر میں لکھا گیا ہوتا ہے۔ اس ثقافتی ورثے سے آشنا ہونا ضروری ہے تب جاکر متن کی مکمل تفہیم ہوجاتی ہے۔ کشمیری طالبان تحقیق کے لیے یہ مسئلہ درپیش آتا ہے کہ انہیں  جن فن پاروں پر تحقیقی کام انجام دینا ہوتا ہے وہ اکثر اس تہذیب و ثقافت کی آئینہ داری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کا مشاہدہ تو دور جس کے بارے میں اس نے سنا بھی نہیں ہوتا ہے۔ تبھی متن کی مکمل تفہیم کاری میں کشمیری طلبہ کو دقت پیش آتی ہے۔
۷) بعض اوقات موضوع سے عدم دلچسپی یا عدم مناسبت:  یہ مسئلہ صرف کشمیری طالبان تحقیق تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیر سے باہر بھی کئی ایسے طلاب دید نی ہوتے ہیں جن کا تحقیقی موضوع ان کی دلچسپی کا نہیں بلکہ نگران کی طرف سے جبراََ ان پر مسلط کیا گیا ہوتا ہے۔ موضوع میں جب عدم دلچسپی ہو تو تحقیقی کام میں سستی آنا کوئی دورائے نہیں۔ 
یہ ہیں چند ایک موٹے موٹے مسئلے جن سے ایک کشمیری طالب تحقیق کو ہوکے گزرنا پڑتا ہے تاہم اس کے باوجود تحقیق کے میدان میں اچھا کام ہورہا ہے جو قابل ستائش ہے۔
رابطہ۔ریسرچ اسکالر شعبۂ اُردو ،سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر