تازہ ترین

محکمہ مال پر ایک نظر

پٹواری کی داداگیری کب تک؟

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
فصلوں کی پیداوار اور اراضی کی ملکیت کی تفصیل سرکاری طور جمع کرنے کا نظام ہندوستان میں شیرشاہ سْوری نے متعارف کرایا تھا، لیکن انگریزوں نے باقاعدہ محکمہ مال کی بنیاد ڈال کر آباد اور غیر آباد زمینوں کا شمار کرنے اور اراضی کے ریکارڈ رکھنے کو ایک منضبط عمل میں تبدیل کردیا۔
اس نظام میں تحصیل دار کی ماتحتی میں نائب تحصیل دار ، گرداوار اور پٹواری ہوتے ہیں، جو زمینوں کی خریدوفروخت کے وقت اس کا اندراج محکمہ مال کے ریکارڈ میں کرتے ہیں۔ تاہم پٹواری اس نظام کی مرکزی کڑی ہوتا ہے۔ سادہ لفظون میں سمجھیں تو پٹواری محض ایک ریکارڈ کیپر ہوتا ہے، جسکے ذمے یہ ہوتا ہے کہ زمینوں کی ملکیت باقاعدہ مندرج ہو، اور کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ لیکن ایک معلوم حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے کشمیر میں پٹواری سب سے زیادہ طاقت ور شخص کے طور اْبھرا ہے، اور پٹواری کا نام سْنتے ہی لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ 
اکثر لوگ تو اس حقیقت سے بھی نابلد ہیں کہ پٹواری محکمہ مال کا فیلڈ ورکر ہوتا ہے جسکی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکیتی اراضی کی خریدوفروخت کے وقت مناسب اور آباد آسان اندراج میں لوگوں کی مدد کرے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ پٹواریوں نے ایک ایسی غیررسمی سلطنت قائم کی ہے جس میں ہر پٹواری اپنے اپنے حلقے کا بادشاہ ہوتا ہے۔ پٹواری کو اول تو تلاش کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔ معلوم نہیں کہ پٹواری کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ اپنا دفتر اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی جما دے، اور اْس دفتر میں جب چاہے موجود ہوسکتا ہے۔تلاش بسیار کے بعد کسی شاپنگ مال یا پرانی عمارت کے ایک کمرے میں اگر پٹواری صاحب مل بھی گئے، تو اْن کی باتوں سے انسان کے ہوش اْڑ جاتے ہیں۔ ’’دیکھو جناب ، اپ کے کاغذات میں بڑے نقص ہیں، لیکن اب میں دیکھ لوگوں کا مگر اس میں پیسہ زیادہ لگے گا۔‘‘ یہ ایک عمومی عذر ہوتا ہے جو پٹواری صاحب کو ہر شخص اور ہر سائل کے کاغذات میں نظرآتا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ پٹواری کا جورِس ڈِکشن نہ صرف اراضی کی خریدوفروخت ہے بلکہ اب تو حکومت نے باشندگی کی سند، آمدنی کی سند  وغیرہ کو بھی پٹواری کی مہر کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ اوسط درجے کی عقل کا حامل انسان بھی یہ سوچتا ہے کہ اگر پیدائش اور موت کے اسناد میونسپلٹی کے وارڈ افسر کی ذمہ داری ہے تو باشندگی اور آمدنی کے اسناد کے وقت پٹواری کی ضرورت کیوں؟ اور اگر حکومت کو یہ ثابت کرنا ہے کہ فلاں شخص کہاں پر رہتا ہے، اس کے لئے میونسپلٹی کے متعلقہ وارڈ افسر کی تصدیق یا بجلی محکمہ کا تازہ بل کافی ہوسکتے ہیں۔ لیکن پٹواری کو اس سب میں گھسیٹ کر گویا ایک لائسنس راج قائم کیا گیا ہے۔ 
حالانکہ پٹواری ایک سرکاری ملازم ہوتا ہے، لیکن پٹواری کے رعب داب اور اس کی سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ وہ پورے ضلعے کا ناظم ہے۔ پٹواریوں نے خود سے طے کیا ہے کہ وہ اپنے خودساختہ دفتر میں کب موجود ہونگے اور کب وہ فیلڈ میں ہونگے۔ اگر پٹواری سرکاری ملازم ہے، تو کیا اْس پر سروس رْولز کا اطلاق نہیں ہوتا ؟ کیا محکمہ مال نے پٹواریوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں کام کریں، جدھر چاہیں دفتر جمائیں اور سائلین سے جتنی فیس چاہیں اینٹھ لیں؟ جب ان سوالوں کا جواب متعلقہ تحصیل دار سے طلب کیا جاتا ہے تو لگتا ہے وہ بھی پٹواری سے ڈرتا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ داداگری ہے جو سرکاری کی ناک کے نیچے روا رکھی جارہی ہے اور عام لوگوں کو پٹواری کی من مانی اور رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 
قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے محکمہ مال کو ہدایات دی تھیں کہ سبھی ضلع صدر مقامات پر پٹواریوں کے لئے ایک بلاک دفتر ہوگا جہاں ہر حلقے کے پٹواری دفتری اوقات کے دوران موجود رہیں گے۔ لیکن یہ فیصلہ بھی حکمِ نواب تا درِ نواب ثابت ہوا۔ محکمہ مال یوں تو نظروں سے اوجھل ادارہ ہے، لیکن یہ نہایت اہم محکمہ ہے، جسکے کارندے نہایت نازک اور اہم کام  انجام دینے کے پابند ہیں۔ لیکن کیا یہ سب انصاف اور ضابطوں کی کسوٹی پر پورا اْترتے ہیں؟ محکمہ مال سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا پٹواری اتنا طاقت ور ہے کہ اسے عام ملازمین کی طرح جواب دہ نہیں بنایا جاسکتا ؟ کیا پٹواری کی من مانی یا ناقص کارکردگی اس کی سالانہ پرفارمنس رپورٹ یعنی اے پی آر میں درج نہیں ہوسکتی؟ کیا صبح ساڑھے نو بچے کی سائرن اور بیومیٹرک سسٹم بے چارے عام ملازمین کے لئے ہے؟
سرکاری ملازم کو پبلک سرونٹ یعنی عوامی خدمت گار کہا جاتا ہے، اسے عوامی بہبودی کو یقینی بنانے کے لئے تفویض شدہ کام نہایت پابندی اور دیانت داری کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن پٹواری پبلک سرونٹ نہیں بلکہ پبلک کا مالک بن بیٹھا ہے۔حالانکہ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے لوگوں کے کام مقررہ معیاد میں نمٹانے کے لئے پبلک سروس گارنٹی ایکٹ متعارف کرایا تھا، لیکن وہ ایکٹ بھی قصئہ پارینہ بن گیا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ محکمہ مال میں نقشہ انتخاب ہو ، زمین یا جائیداد کا انتقال ہو یا کوئی اور کاغذ، اس میں ہفتوں سے مہینوں لگ جاتے ہیں۔ کوئی بھی  افسر یا ملازم کسی دستاویز کی رسید تک نہیں دیتا۔ کیا پبلک سروس گارنٹی ایکٹ کا اطلاق محکمہ مال پر نہیں ہوگا۔
تعجب کی بات ہے کہ محکمہ نے خریدوفروخت ، باشندگی کی سند یا کسی اور دستاویز کے لئے فیس کے رسید کے جو فارمیٹ چھاپے ہیں، وہ محکمہ نے عام فوٹو سٹیٹ والوں کو فروخت کئے ہیں، جہاں سے سائل کو رسید کا فارم خریدنا پڑتا ہے۔ فیس ادا کرنا بجا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ محکمہ مال کے رسید بازار میں برائے فروخت کیوں ہیں؟ حالانکہ محکمہ مین جدید فوٹو کاپیئیر موجود ہیں اور ملازمین کو اس کام کی تنخواہیں دی جاتی ہیں، پھر بھی سائل کو بازار کیوں بھیجا جاتا ہے؟
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ کو غلام نبی آزاد اور عمرعبداللہ کے فیصلوں کی فائیلوں سے گردوغبار جھاڑ کر لوگوں کو پٹواری کے بلیک میل اور ظلم سے آزاد کرنا ہوگا اور محکمہ مال کو جدید خطوط پر اْستوار کرنا ہوگا۔ 
(کالم نگار معروف سماجی کارکن ہیں، رابطہ۔9469679449)
 

تازہ ترین