تازہ ترین

کورونا معاملات میں آئی کمی لاپرواہی کی وجہ نہ بنے :ڈبلیو ایچ او

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نئی دہلی//عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے آج جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس ‘کووڈ 19’ کے نئے کیسز میں آئی کمی کودیکھ کرلاپرواہی برتنے سے اس تہواروں کے موسم میں صورتحال سنگین ہو سکتی ہے ۔ روز ڈبلیو ایچ او کی جنوب مشرقی ایشیائی خطے کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر پونم کھیترپال سنگھ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس خطے میں کورونا انفیکشن کے حالیہ کیسز میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے ، لیکن اس سے لاپروا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس خطے میں ابھی بھی کورونا انفیکشن کے بہت زائد کیسز ہیں۔ کورونا وبا کا قہر اب ابھی جاری ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مسلسل احتیاط ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تہواروں کے موسم اور سردیوں کے موسم میں لاپرواہی برتنے سے کورونا انفیکشن کی صورتحال زیادہ سنگین ہوسکتی ہے ۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مسلسل کوشش ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ‘‘ تہواروں کے موسم میں ہمیں ایک فرد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے کہ ہم سماجی فاصلے پر عمل کریں گے اور ہاتھوں کی صاف صفائی کا بھی خیال رکھیں گے ’’۔ہم ماسک پہنیں گے اور چھینکنے اور کھانسی کرنے کے دوران کووڈ 19 کے متعلق مناسب عمل کریں گے ۔ لوگوں کو ہجوم والے مقامات کو نظر انداز کرنا چاہئے اور ایسی جگہ پر نہیں رہنا چاہئے جہاں ہوا ٹھیک نہ ہو یا وہ جگہ کھلی نہ ہو اور تازہ ہوا نہ آپائے ۔ وہاں نہیں رہنا چاہئے ۔ ڈاکٹر کھیترپال نے کہا کہ رکن ممالک کورونا ٹیسٹ کی صلاحت بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کا جلد سے جلد پتہ لگایا جاسکے اوران کے رابطے میں آئے لوگوں کی ٹریکنگ ہو پائے اور متاثرہ فرد کا مناسب علاج شروع کیا جائے ۔ اسی جذبے کے ساتھ ہمیں کوششیں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ڈاکٹر کھیترپال نے کہا کہ موسم سرماں میں موسمی انفلوئنزہ کے ساتھ ساتھ کووڈ-19 انفیکشن کے پھیلاو کا خطرہ بہت بڑا چیلنج ہے ۔ یہ صحت خدمات فراہم کرنے والوں اور ہیلتھ سسٹم دونوں کے لیے چیلنجنگ ہے کیونکہ دونوں کی کئی علامات ایک طرح کی ہیں۔کورونا انفیکشن سے بچاو کے کئی طریقے انفلوئنزہ سے بچاو میں بھی موثرہیں، جیسے جسمانی دوری، ہاتھوں کی صفائی، چھینکتے یاکھانستے وقت منھ پر ہاتھ رکھنا اورچہرے پرماسک لگانا۔ڈبلیو ایچ اوانفلوئنزہ اور کووڈ -19 سمیت تمام سانس کی بیماریوں کی روک تھام، کنٹرول اورعلاج کے لیے ممبرممالک کے ساتھ ایک جامع نقطہ نظر سے کام کررہے ہیں۔ادارہ صحت کنٹینمنٹ حکمت عملی کو نافذ کرنے میں ممبر ممالک کو ٹکنالوجی کی ہدایت دے رہا ہے اورپیداری پھیلانے کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کے تئیں آگاہ کررہا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ یہ مسلسل تیسرا ہفتہ ہے ، جب جنوب مشرق ایشیائی علاقوں میں کورونا انفیکشن کے معاملات میں چھ سے آٹھ فیصد کی کمی آئی ہے ۔ہندوستان اور بنگلہ دیش میں انفیکشن کے نئے معاملات میں آئی کمی کے سبب اس علاقہ میں انفیکشن کے معاملات میں یہ کمی دیکھی جارہی ہے ۔یواین آئی