ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 76لاکھ کے قریب

اب تک 1لاکھ 15ہزار اموات ریکارڈ،66لاکھ شفایاب

تاریخ    20 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ کے ساتھ 75.50 لاکھ ، جبکہ فعال کیسزکی تعداد کم ہوکر 7.72 لاکھ رہ گئی ہے ۔مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پیر کے روز جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 55،722 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس سے یہ تعداد بڑھ کر 75،50،273 ہوگئی۔ اسی عرصہ کے دوران 66،399 مریضوں نے جان لیوا وبا کورونا کو شکست دی جس سے ملک میں شفایاب ہونے والے کورونا مریضوں کی تعداد 66.63 لاکھ ہوچکی ہے ۔ ایکٹیو کیسز 11،256 سے گھٹ کر 7،72،055 پر آگئے ، تاہم صحت مند افراد کی تعداد نئے کیسز کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ مرنے والوں کی تعداد میں ایک دن کے اضافے کے بعد اس میں ایک بار پھر کمی واقع ہوئی اور اتوار کے روز اس کی تعداد 104 کے مقابلے میں 454 کم ہوکر 579 ہوگئی ، جس کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 1،14،610 ہو چکی ہے ۔ملک میں شفایابی کی شرح 88 فیصد ،ایکٹیو کیسز کی شرح 10.23 فیصد جبکہ اموات کی شرح اب بھی 1.52 فیصد ہے ۔یواین آئی
 

ملک میں فروری تک کورونا کے ختم ہونے کے آثار

نئی دہلی//کورونا اور لاک ڈاؤن کیاثرات کا جائزہ لینے کے لئیحکومت نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی اس نے اتوار کو کہا ہے کہ کورونا وبا اپنی پیک یعنی اپنا شباب پار کر گیا ہے لیکن حفاظتی انتظامت اور احتیاط جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نیکہا ہے کہ اگر یہ انتظامات جاری رکھے گئے تو اس بات کے قوی امکان ہیں کہ فروری 2021 تک یہ وبا ہندوستان سے ختم ہو جائے گی۔ واضح رہے ابھی تک ہندوستان میں75 لاکھ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ میں لاک ڈاؤن کے فیصلہ پرمہر لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرلاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوتا تو ہندوستان میں اس سال اگست تک 25 لاکھ سے زیادہ اموات ہوسکتی تھیں۔ واضح رہے ہندوستان میں اموات کی تعداد ابھی تک ایک لاکھ چودہ ہزار ہے۔سرکار کی اس کمیٹی کا نام ’انڈین نیشنل سپر ماڈل‘ ہے اور اس کمیٹی سے کہا گیا تھا کہ وہ کووڈ- 19 کے لئے ایک میتھ میڈیکل ماڈل تیار کرے جو ہندوستان میں اس وبا کیتمام پہلوو?ں پر روشنی ڈالے۔ اس کمیٹی میں آئی آئی ٹی اور آئی سی ایم آر کے ارکان شامل ہیں ہیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تیوہار اور سردیوں کے موسم میں اس وبا کے بڑھنے کے امکانات ہیں اس لئے اس دوران احتیاط ضروری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو دوباہر شروع کرنے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

تازہ ترین