مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کیا قرآن و سائنس متصادم ہے؟

(قسط ششم )

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


شہباز رشید بہورو
عام مفہوم میں سائنس جاننے کی جستجو کا نام ہے۔جستجو اس لئے کیونکہ یہ عمل نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں، اس کی کوئی منزل نہیں کہ جہاں پر پہنچ کے دم لیا جائے۔اسی لئے تو تخلیقِ آدم سے لیکر تاہنوز انسان دیوانہ وار اس عمل کی تعمیل کر رہا ہے اور نہ ہی اس عمل کے رکنے کا سوائے قیامِ قیامت کے کوئی امکان نظر آرہا ہے۔انسان علم کے معاملے میں اپنے پورے جسمانی و روحانی وجود کے اعتبار سے مافوق المخلوق ہے کیونکہ اس کے دونوں وجود بغیر تحصیلِ علم کے تسکین حاصل نہیں کر پاتے۔علم کی اسی چاشنی کے برسبیل اسے تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے۔علم کی تحصیل کے معاملے میں انسان ایک مقناطیسی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے بدن کے اندورن میں بھی علم کی طلب ہے اور بیرونی دنیا کے متعلق اکتسابِ علم کی چاہت ہے۔اس کے پورے جسم میں عصبی نظام اور احساس عضو (Sense organ) اس طلب و چاہت کی تکمیل کرتے ہیں۔یہ سینس آرگن باہر کی دنیا سے جملہ محرکات (Stumulus)وصول کرکے انسان کو ایک باحس مخلوق بناتے ہیں۔ احساس عضو کا کام ہی کچھ انفارمیشن حاصل کرنا ہے۔جو انفارمیشن پراسیس ہو کر انسانی دماغ میں جاکر ریفائنڈ ہیئت میں اصطلاحی طور پر علم کا مقام حاصل کرتی ہے۔انسان کے ڈی این اے کی بات کی جائے جس میں بے شمار کوڈڈ حصے ہیں جنہیں ہم جین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔وہ درحقیقت تو علم ہی ہے جس کا مظہر خود انسان کی شکل وصورت ہے۔اسی علم کی بنیاد پرانسان کی جملہ تنظیم وجودمیں آتی ہے۔ڈی این کو اگر ریزروئیر آف نولج کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔یہ علم منجمد برف کی طرح ہے جو زمین کی مجموعی صحت کے لئے ازحد ضروری تو ہے لیکن انسان کے لئے مفید ہے جب تپشِ آفتاب کا شکار ہو کر پگلنے لگے۔اب ڈی این اے کی انفارمیشن کو ڈی کوڈ کرنے کے لئے جینوم پروجیکٹس پر جو کام ہو رہا ہے یہ دراصل وہ تپش آفتاب ہے جو اسے پگلا کر قافلہ انسانیت کے لئے مفید بنا رہا ہے۔سائنس کا ذکر اگر اصطلاحی محدودیت کے ساتھ کیا جائے تو آفاق و انفس کی کائنات میں انسانی تخیل کا سفر کرنا ، تخیلاتی تجربہ کی بنا پر عملی نظام قائم کرنا اور پھر تجربے کو مقبول الفطرت اور طبیعی قوانین کے متبع بنانا ہی سائنس کا نام ہے۔سائنس کی جتنی بھی ایجادات ہیں وہ سب طبیعی قوانین کی پابند ہیں۔ نینو کمپیوٹر (Nano Computer) سے لیکر لارج ہاڈرن کولائڈر(Large Hadron Collider) جیسے سارے آلات و ایجادات طبیعی قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔جو بھی کوئی ایجادات طبیعی قوانین کی تابعداری نہیں کرتی اسے ٹرائل فہرست میں ڈال کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔المختصر سائنس کے جسد اعظم میں طبیعی قوانین کی روح دوڑتی ہے۔کسی بھی سائنس دان کا نظریہ سائنسی دنیا میں قبولیت تب حاصل کرتا ہے جب وہ تجربے سے مادی و عملی دنیا میں چلنے کے قابل ثابت کیا جائے۔اگرچہ جدید سائنس کی ابتدائی مراحل میں ہر پیش کئے گئے نظریے کو سائنس کی عمارت میں بآسانی کمرہ مل جاتا تھا لیکن اب معروف اسکالر ملک صاحب کی زبانی "دنیامیں آج بھی ایسیلوگوں کی بڑی تعدادموجودہے جوکائناتی نظام کیبارے میں اپنے منفردافکارونظریات رکھتیہیں۔ایسے لوگ ہرجگہ پائیجاتے ہیں لیکن سنجیدہ علمی حلقوں میں ان کی گفتگوسنناتک گوارانہیں کیاجاتا۔ایساکیوں ہے ؟ اس کاسبب یہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اواخرسے علمی حلقوں میں کسی بھی مفروضہ یا تجربہ کے درست ہونے،نہ ہونیکیلئے ایک اصول تنقیع بربِنائے تغلیط متعین کردیاگیا۔اہلِ علم کے الفاظ میں وہ زریں اصول یہ ہے:اگرتمہارے پاس صرف کوئی تھیوری ہیتوبراہِ مہربانی اسے سمجھانے میں ہمارا وقت ضائع نہ کرو،البتہ اگرتمہارے پاس اس تھیوری کی صحت وعدمِ صحت کوثابت کرنے کاکوئی عملی طریقہ موجودہے توہم سننے کیلئے تیارہیں۔‘‘ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کئی نظریات کو سائنس میں اعلیٰ مقام حاصل ہے لیکن ان کی پذیرائی بھی طبیعی قوانین کی پابندی کے اصول پر مبنی بہترین لوجیکل وضاحت کی وجہ سے ممکن ہو سکی۔ظاہر سی بات ہے کہ علم فلکیات کے حوالے سے جو ناولج انسان کے پاس ہے اس کی صحت کو ثابت کرنے کے لئے چونکہ انسان بے بس ہے اس لئے زمین پر بیٹھ کے ہی معلوم اصول و ضوابط اور ثابت شدہ طبیعی قوانین کے مطابق وضاحت پیش کرتا ہے۔اپنے علم میں درستگی لانے کے لئے انسان ہمہ تن کوشاں رہتا ہے۔انسان نے جتنا بھی علم اپنے عقل و شعور اور منطق و تخیل سے حاصل کیا ہے وہ کامل قطعاً نہیں ہے جب کہ اکملیت علم قرآن میں موجود ہے۔اس لئے قرآن مجید کو سائنس کی روشنی میں سمجھنا صحیح اور درست طریقہ نہیں بلکہ قرآن کے میزان  عدل میں سائنس کا جائزہ لینا احسن ہے۔
جہاں تک قرآن مجید اور سائنس کی آپسی مطابقت کا تعلق ہے اس حوالے سے اینفارمیشن اور لٹریچر کی دنیا میں ایک کھچڑی سے پک رہی ہے جس کی وجہ سے عام قاری کے ساتھ ساتھ علم و فن میں مہارت رکھنے والے قاری بھی شش و پنج میں مبتلا ہے۔اس افراتفری کی وجہ یہ ہے کہ ایک گروہ قرآن کو سائنس کی کتاب ثابت کرنے کے لئے پرزور استدلال پیش کرتا ہے اور دوسرا گروہ قرآن مجید کا دامن سائنس کے ہر قطرے سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں ایک غلط طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں۔کیونکہ نہ تو قرآن مجید کوئی سائنس کی کتاب ہے اور نہ ہی قرآن مجید سائنسی حقائق سے خالی ہے۔بلکہ قرآن مجید تو سائنسی تحقیق و ترقی کے اعتبار سے انسانوں کے لئے ایک منزل مقرر کئے ہوئے ہے جس کو پانے کے لئے انسان رواں دواں ہے۔صدیوں کی تحقیق و تفتیش اور مشاہدات و تجربات کے بعد جو کوئی اصول انسان نے قائم کیا ہے اس تک پہنچنے کے لئے قرآن مجید کی واضح راہنمائی موجود تھی۔درحقیقت قرآن مجید نے انسانی حیات، انسانی تقدیر، انسانی فطرت، آفاق و انفس کا گہرا معائنہ کر کے ان کی حقیقتوں کو عیاں کیاہے۔قرآن مجید نے اجرام فلکی کے متعلق "کل فی فلک یسبحون"کا اشارہ کرکے اہل تدبر و تفکر کے لئے ایک میدانِ تحقیق پیش کیا تھا جس میں انسان اپنے علم کے زینے سجاتا چلے جاتا اور ہوا بھی ایسا ہی کہ انسان کو ایک عرصہ دراز کی تحقیق و تفتیش کے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ کائنات کی ہر شے حرکت میں ہے.کائنات کی حرکت کی حقیقت تو آج ایک سائنسی اصول ہے جو ناقابلِ تغیر معلوم ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے آدم علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ "ہم نے آدم کو ہر شئے کے ناموں کا علم دیا".اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہرشئے کے ناموں سے مراد کیا ہے۔یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی قدرت کاملہ سے مادی علوم کا بالقوۃ جاننے کا انسٹنکٹ ودیعت کیا۔یہ اسی اکتسابی علم کے ارتقاء کی تاہنوز تحریک جاری ہے جو شاید قیامت کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگی۔قرآن مجید چونکہ بنیادی طور ہداہت کی کتاب ہے اس لئے اس نے انسان کو افاق و انفس میں غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ یہ انسان فطرت سلیمہ کی تاثیر سے اپنے لئے متعین انجام کی فکر کرے،خدا کے وجود کا تعارف حاصل کرے۔قرآن مجید نے جس طرح سے انسان کو آفاق و انفس میں جھانک کر دیکھنے کی دعوت دی اسطرح اس نے سابق اقوام کی سرگذشست، اپنی سابقہ صورتوں، ماضی ،حال اور مستقبل اور بدکاروں اور نیکو کاروں کے انجام پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔یہ اس لئے تاکہ یہ غور وفکر انسان کی مادی اور روحانی باالفاظ دیگر سائنس اور مذہب کے مابین پر سکون مطابقت پیدا کرنے کی وجوہ بن سکے۔قرآن مجید نے انسان کو اپنی تخلیق سے لیکرمظاہر فطرت کی بدلتی ہیتوں پر غور کرنی کی تلقین کی ہے۔ 
 "جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں،رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں،ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ،بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں، اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں ، بے شمار نشانیاں ہیں ۔ "
سائنس کی عمارت میں دراصل انسانی مشاہدہ و غوروفکر ہی سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔سائنس کے میدان میں جتنے بڑے بڑے نام ہیں ان کی ناموری و کارناموں کا آغاز ہی مشاہدہ سے ہوا ہے۔نیؤٹن، گیلیلیو، آئنسٹین، ڈارون، کیپلر، لیونہویک، ارنسٹ ہیکل، گریگر مینڈل وغیرہ سب نے مشاہدہ و غوروفکر کی بنیاد پر قیمتی تصورات سے دنیا کو آگاہ کیا۔یہ بات اپنی جگہ ہے کہ ان تصورات سے ہو سکتا ہے قرآن کا اختلاف ہو لیکن بے شمار علوم کے شعبہ جات کا آغاز تو ان پیش کئے گئے تصورات سے ہی ہوتا ہے جو اگرچہ اپنی ابتدائی منازل پہ خام بھی ہوں لیکن بعد میں ان پر کئے جانے والا کام ان کو اکملیت کی طرف لے جاتا ہے جس کے بہت ساری مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔قرآن مجید نے انسانی پیدائش کے مختلف احوال و مراتب پر توجہ دلائی ہے۔ "ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ،پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا ، پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی ، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا ،پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ،پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ ،سب کاریگروں سے اچھا کاریگر‘‘۔قرآن مجید نے اس موضوع پر انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت برسبیل ایک علمی شاخ کے دی ہے۔ان آیات کی صحیح تفسیر کرنے سے قدیم مفسرین بالکل قاصر تھے حتی کہ جدید مفسرین نے بھی اپنی معاصر سائنسی معلومات کی بنیاد پر استدلال کرنے کی کوشش کی لیکن گہری ٹھوکریں کھانی پڑیں۔اس موضوع کے متعلق مفسرین کسی صحیح نقطہ پر نہیں پہنچ پارہے تھے تاآنکہ علم جنین(Embryology) بالکل واضح اور غیر مبہم ہو کر سامنے لایا گیا۔اس پورے معاملے میں سائنسی علوم کو اپنی جگہ سے ہلنا پڑالیکن قرآن اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔اب جنین کے ایڈوانس علم نے قرآن کی تصدیق کی۔علم الجنین کے متعلق ارسطو کی تحقیقات، نمو و بروز کانظریہ (theory  Preformation)،لیون ہاک کا نظریہ وغیرہ سب کے سب نظریات ناقابلِ قبول قرار دئے گئے  ہیں لیکن قرآن مجید کے بیان کی حقیقت وسط بام میں مانند آفتاب ہو کر عیاں ہوگئی۔مذکورہ تمام نظریات قرآن کے بیان سے مختلف تو ضرور ہیں لیکن قرآن کے اشارے تک رسائی حاصل کرنے کی منزلیں بلاشبہ ہیں۔قرآن مجید نے فلا اقسم بمواقع النجوم کا ذکر 1400سال پہلے کیا ہے۔بمواقع النجوم کو اکثرو بیشتر بلیک ہول سے تعبیر دی جاتی ہے۔تاہنوز سائنس بھی بلیک ہول کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکی ہے لیکن جو بلیک ہول کی معروف تعریف ہے وہ یہ ہے بلیک ہول' یا روزنِ سیاہ مادے کی ایک بے پناہ کثیف و مرتکز حالت ہے جس کی وجہ سے اس کی کشش ثقل اس قدر بلند ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی شے اس کے افق وقیعہ( Horizon  Event) سے فرار حاصل نہیں کرسکتی، ماسوائے اس کے کہ وہ کمیتی سرنگ گری ( Tunnelling  Quantum) کا رویہ اختیار کرے (اس رویہ کو Radiation  Hawking بھی کہا جاتا ہے)۔قرآن نے ستاروں کے ڈوبنے کی قسم کھائی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کائنات میں کون سی جگہ ہے جہاں ستارے غائب ہوتے ہیں۔1400سال سے مفسرین اس ایت کی تفسیر میں خاموش تھے کیونکہ کوئی معقول توجیہ بیان کرنے سے قاصر تھے لیکن اب جب کہ جدید سائنسی تحقیق نے بلیک ہول کی تصویر لے کے اس کی حقیقت کو عیاں کیا ہے تو قرآن مجید کی اس ایت کی تفسیری بیان ہو سکتی ہے۔فی الحال مواقع النجوم کو بلیک ہول کہا جارہا ہے ہو سکتا ہے مستقبل میں اس کی مزید اصلی ہیت دریافت ہو۔اس طرح سے اور بھی کئی آیاتِ متشابہات ہیں جن کا حقیقی فہم حاصل کرنے سے انسان قاصر ہے لیکن علم و کھوج کے روزبروز ارتقاء سے ان کا فہم حاصل ہونے کی توقع ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ سائنس اپنے اصلی معنی اور فہم میں قرآن سے متصادم نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ذہن ہے، انسانی تصورات ہیں جو قرآن کی آیات سے متصادم ہوتی ہیں۔
(مضمون جاری ہے ،اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی )
رابطہ۔7780910136
 
 
 

تازہ ترین