تازہ ترین

کیاپولی سسٹک اُووری بیماری (پی سی او ڈی ) لاعلاج ہے؟

فکرِ صحت

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


ڈاکٹر بشریٰ اشرف
کیا بیضہ دانی میں سسٹوں کے اجتماع کی بیماری ،جسے عرف عام میں پی سی او ڈیPCOD(Polycystic Ovary Diseases)یا پھرPCOS(Polycystic Ovary Syndrome) کہتے ہیں،لاعلاج ہے؟ یہ سوال اس مرض میں مبتلا لاتعدادنوجوان مریضوں کے لئے انتہائی پریشانی اور تفکر کا باعث بن چکا ہے اور بن رہا ہے کیونکہ اپنی زندگی کا نوجوانی کا خوبصورت دور شروع ہوتے ہی انہیں جب اس طرح کے مایوس کن امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں واقعی ایک نفسیاتی دبائو اورناامیدی سے بھی گزرنا پڑتا ہے جو ان کے مستقبل کی امیدوں اور خوشیوں کو معدوم کر دیتا ہے۔
 بہت سارے عوامل کو اس کا باعث بتایا جارہا ہے۔سب سے پہلے اس بیماری کے متعلق سرسری طور پر ہی سہی جانکاری اور آگاہی حاصل کر نا بہت ضروری اور اہم ہے وہ اسلئے بھی کہ اکثر بیماریوں کے متعلق عام لوگوں کے اذہان میں لاتعداد غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں جو ان کی لاعلمی،جہالت اورکم تعلیمی قابلیت کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ اسلئے کسی بھی بیماری کے متعلق اہم جانکاری رکھنا بہت ضروری ہے خاص طور پر آج کے اس الیکٹرانک دور میں ،جبکہ ہر چیز کے بارے میں مکمل جانکاری ہر گھر میں نٹ کے توسل سے میسر و دستیاب ہے کسی بہت زیادہ پریشانی اورخرچے وغیرہ کے بغیر ہی۔جس کے لئے پڑھا لکھا ہونا بہت ضروری ہے۔
چند غلط فہمیاں:۔ 
۱۔PCODکا مطلب خالصتاً یا صرف بیضہ دانی(Ovaries)میںCystsکی موجودگی نہیں۔الٹراساونڈ میں دکھائی دینے والی سسٹس دراصل ناپختہ اور نامکمل انڈے ہوتے ہیں Cystsنہیں۔
۲۔صرف ڈاکٹری (Allopathic)علاج میں لمبے عرصے تک کھلائی جانے والی مانع حمل دوائی(Birth Control Pills) ہی ماہواری میں باقاعدگی لانے کے لئے ضروری نہیں ہے نہ وہ اس کا مستقل علاج ہی ہے۔
۳۔PCODمیں مبتلا خواتین مکمل طور پر بانجھ نہیں ہوتیںہاں البتہ ان کا امید سے رہنا مشکل ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا حمل ٹھہر جائے اور وہ بچیں بھی جنیں۔
۴۔وزن کم کرنا جو بہت ضروری ہے مشکل نہیں ہے اپنے ناموافق عادات پر قابو پانا،کھانے پینے میں احتیاط،ورزش کی باقاعدگی،اور مناسب ادویات کے استعمال سے وزن کم کرنا ممکن ہے اور اگر 3%تک وزن کم ہو جائے تو PCOSکی علامات میں بہت حد تک تخفیف ممکن ہے۔PCOSکے 70%مریضوں کو 40سال کی عمر تک ذیابیطس شکری کا بہت زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔اسلئے ذیابیطس شکری میں معاون جسمانی اور خوردنی چیزوں اور تدابیر سے احتیاط لازمی اور ضروری ہے ۔ان سے دانستہ طور پرتغافل سے برے اور خراب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہاں یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ جن لوگوں کی وراثت میں PCODکابگاڑ موجود ہے ان کے آنے والی نسلوں میںموٹاپا اس مرض کو سیٹ فراہم کرتا ہے۔ 
۵۔بلڈ شوگر کم کرنے والی دوائی Metforminاس کی مثالی دوائی نہیں ہے اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیںہے۔ یہ بات بالکل غلطاوربے بنیاد ہے اس کا استعمال آنکھ بند کرکے نہیں کیا جانا چاہئے اور لمبے وقفے تک بھی ہرگزنہیں۔
۶۔اس دوائی کا اثر Non-insulin resistantوالےPCOSکے مریضوں پر کچھ نہیں ہوتا البتہ یہ دوائی دوسرے مریضوں کے جسم میں موجود شوگر میں تخفیف کرسکتی ہے۔ 
PCOD کاتاریخی پس منظر:۔
 PCOD دراصل آج کی بیماری نہیں ہے بلکہ آج سے لگ بھگ اسی نوے سال قبل اسے یہ نام دیا گیا۔اس سے قبل اسے  Stein-Leventhal Syndrome کہتے تھے2سے40%تک 12سے45سال کی خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں۔ دنیا کے مختلف مملک میں مختلف جگہوں پر اس کا شرحِ تناسب مختلف ہے۔ اس وقت دنیا میں دیگر امراض کی طرح ہی یہ مرض بھی بہت تیز رفتاری کے ساتھ ہر خطے اور ہر ملک میں اپنے پر پھیلا رہا ہے اور سابقہ دو تین دہا ئیوں میں ذیابیطس شکری،امراض قلب و تنفس اورکینسر وغیرہ امراض کی طرح ہی اس مرض میں بھی بہت ترقی اور وسعت پیدا ہوگئی ہے اسباب و وجاہات بھی لاتعداد بتائے جارہے ہیں جن میں ڈبہ بند غذائوں کا کثرت سے استعمال،محنت و مشقت سے جی چراکر کاہلی اور سستی سے کام لینا ،اشیائے خورنی  میں مضر چیزوں کی ملاوٹ،ضرر رساں ادویات کا استعمال،موجودہ دور کے دیگر مسائل و معاملات وغیرہ۔ 
اس مرض کا مذہب وذات و رنگ و نسل یاپھر کسی خاص موسم و آب و ہوا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسی لئے اس کا پھیلائو ہر جگہ نظر آتا ہے کشمیر میں بھی یہ مرض تشویش ناک حد تک پھیل رہا ہے اور غیر شادی شدہ جوجوان لڑکیوں کو اس میں مبتلا دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 18سے20%تک بچوں کی پیدائش کے قابل خواتین بھی اس مرض میں مبتلا دیکھی جاسکتی ہیں۔کچھ ماہرین امراض نسواں کا خیال ہے کہ وہ لڑ کیاں بھی اس مرض میں مبتلا دیکھی جاسکتی ہیں جو ابھی سنِ بلوغت کو نہیں پہنچی ہوتی ہیں۔جو بہت ہی قابلِ تشویش اور فکر مندی کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ابھی تک اس کی کوئی خاص وجہ کا بھی پتہ نہیں چلا ہے اورنہ ہی اصل حقائق سامنے آئے ہیں۔البتہ صرف قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔
 عام بات یہ ہے کہ بیضہ دانی کی دیواروں پر چپکی یالٹکی ہوئی Cysts(پانی یا کسی دوسرے مٹیرئل وموادسے بھری ہوئی آبلہ نما چھوٹی چھوٹی تھیلیاں)ہوتی ہیں جو دراصل وہ بیضے یا انڈے ہوتے ہیں جو ابھی پکے یا اپنی مدتِ تکمیل کو نہیں پہنچے ہوتے ہیں تاکہ وہ کسی سہارے کے بغیر متحرک ہوکر وہاں سے خارج ہوکر اپنی اصلی منزل کی طرف جاسکیں۔
جسم میں اسطرح ہارمونز کی نارمل لیول میں اضافہ ہوجاتا ہے۔Hormoneٹیسٹ میں زیادہ ترAndrogen ،Estrogen ، Testosterone ،LH،FSHکئے جاتے ہیں۔ان کے علاوہ Serum Prolactinوغیرہ ٹیسٹ بھی کرائے جاتے ہیں۔
مارچ2018عیسوی میں ملک میں ہونے والے ایک ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہPCODمیں مبتلا خواتین کو اس بات کا بہت احتمال رہتا ہے کہ وہLiver Diseasesمیں مبتلا ہو جائیں ان کے جسم میں مردانہ ہارمونز کی وافر مقدار میں موجودگی سے موٹاپے کے احتمال کے ساتھ ساتھ Non-alcoholic fatty liver بگاڑ کا بھی احتمال رہتا ہے۔اسلئے انہیں اپنے جگر کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے خاص طور پر اگر وہ حاملہ رہ گئی ہوں۔PCODکے ضمن میں جن عوامل کو بہت زیادہ زمہ دار بتایا جاتا ہے ان میں خاندانی یا وراثتی وجوہات کی موجودگی ،رہن سہن اور کھانے پینے کے عادات وغیرہ ،موجودہ دور کے طرز زندگی یا Life Styleکو اس سلسلے میں کافی اہمیت دی گئی ہے جو دماغی تنائواور Stressسے بھرا ہوا ہے،کھانے پینے کے غلط عادات،آرام طلبی،نیند کی کمی،موٹاپا،مضر ِصحت ادویات کا بے جا استعمال وغیرہ۔
 وراثتی منتقلی کے بارے میں یہ مثال دی جارہی ہے کہ اگرایک خاتون کی وراثت میں PCODہے تو اس کی آنے والی نسل میں    اس بیماری کا50%خطرہ موجود ہے اور پھر یہ اسی طرح نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتی رھیگی،اور اگر آنے والی نسل موٹاپے کی شکار ہے تو یہ رسک بڑھ بھی سکتا ہے۔
 وراثتی منتقلی ،فشار الدم(Blood Pressure)کی زیادتی ،انسولین Resistanceجیسے وجوہات کو بھی PCODکے اسباب میں گنا جاتا ہے لیکن یہاں یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ خون میں شوگر کی مقدار کا توازن خون میں ہارمونز کی کمی بیشی سے کیسے انسولین کی مقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔
 عام علامات:۔
 عام طور پر ابتدا میں ہی کچھ عام علامات کی موجودگی سے ہی اس مرض کا شبہ ہونے لگتا ہے مثلاً ماہواری کی بے قاعدگیاں،ماہواری زیادہ ہو،لیکن اکثر مریضوں میں کم آئے،مہینوں کے وقفے سے آئے اور درد کے ساتھ آئے،PCODمیں مبتلا خواتین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سال میں صرف ماہواری کے آٹھ سائیکل ہی پوری کرتی ہیں کچھ اس سے بھی کم۔دیگر علامات میں چہرے پر مسلسل و متواتر مہانسوں کا نکلتے رہنا،غیر ضروری بالوں کا اگنا، خاص طور پر چہرے،بازئوں اور کمر وغیرہ پر،جلد پر داغ دھبے،دردِشکم،موٹاپا،شادی شدہ خواتین میں بانجھ پن،زیابیطسِ شکری،نیند نہ آنا،دل و دماغ کے بعض خاص امراض کا پیدا ہونا،اعصابی بگاڑ،بالوںکا نکلنا وغیرہ اس کی موٹی موٹی علامات ہیں۔
کیا PCOD لاعلاج ہے؟ 
ایلوپیتھی میں PCOD/PCOSکو لاعلاج بتایا جارہا ہے۔صرف احتیاطی تدابیر میں لائف اسٹائل تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے۔
جسمیں وزن کم کرنا،مستقل روزانہ ورزش کی عادت ڈالنا،ماہواری کی باقاعدگی کے لئے مانع حملBirth Control Pillsکا لمبے وقفے تک استعمال کرنا،چہرے اور دیگر جگہوں پر اگے غیر ضروری بالوں،بڑھے ہوئے ہارمونز کو اعتدال پر لانے اورمہانسوں کے لئے الگ الگ طور طریقے تلاش کرناوغیرہ جیسے احتیاطی تدابیر سے کام لینا ہی اس کا علاج، اس وقت دستیاب ہے لیکن بدقسمتی سے ان تدابیر کو اصل  مرض کو ایڈرس کرنے میں کوئی اہمیت و افادیت نہیں ہے،
PCODاورہومیوپیتھی:۔ 
ہومیوپیتھک علاج جدید ترین علاج ہے۔جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ PCOD/PCOSکی ایک مستحکم وجہ اس کا وراثت کے زریعے نسل در نسل منتقل ہونا بھی مانا جاتاہے ہومیوپیتھی اس اور دیگر اس طرح کے مذمن بگاڑوں(Chronic Diseases) کے وراثت کے زریعے منتقل ہونے پر یقین رکھتی ہے اگر اس پر مفصل بحث کرنی ہو تو ہمیں موجد ہومیوپیتھی ڈاکٹر سموئیل ہنی من کی میازم(Miasm) تھیوری کو دیکھنا ہوگا  جس میں انہوں نے سورا ،سائیکوسس اور سفلینس جیسے، بقولِ ڈاکٹرمرزا انوربیگ کے تین شیاطین کو زمہ دار قرار دیا ہے۔کس مریض میں، ان میں سے ،کون شیطان متحرک ہے جو اس کی صحت یابی میں رکاوٹ بن رہاہے یہ دیکھنا بھی بہت اہم ہے۔ ہومیوپیتھی میںPCODکی علامات میں قابلِ قدر تخفیف کے لئے بہت اچھی اور زود اثر دوائیاں موجود ہیں جو لاتعداد مریضوں کو حیرت انگیز طور پر فائدہ پہنچارہی ہیں۔ایسے لاتعداد مریض ہیں جن کے دیگر ادویات کے مسلسل استعمال سے چہرے مہانسوں سے بگڑ گئے تھے اور ہومیوپیتھک ادویات سے ٹھیک ہوگئے اسی طرح ایسے بھی لاتعداد مریض ہیں جن کا وزن فوراً ہی کم ہونے لگا اور دوسرے متعلقہ علامات میں بھی ناقابلِ یقین حد تک تخفیف ہونے لگی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ دو چار کیس میرے پاس ایسے بھی ہیں جن کے الٹراسونوگرافک رپورٹس بالکل نارمل بھی آئے حالانکہ وہ وہیں سے کرائے گئے تھے جہاں سے اس سے قبل کئی بار کرائے تھے اور ان میں پرانی پرابلم کو بہت علاج کے باوجود بھی بدستور موجود دکھایا گیا تھا۔
ہومیوپیتھک ادویات کا انتخاب مرض کو نہیں مریض کو دیکھ کر کیا جاتا ہے اسی لئے بظاہر ایک ہی مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے جدا جدا اور منفرد علامات کی موجودگی اور خاندانی بیک گرائونڈ کے اختصاص کی بنیاد پرتجویز کردہ دوائیاں بھی الگ الگ اور جداگانہ ہو سکتی ہیں۔جب تک مریض کی پوری حالت و کیفیت کا بخوبی پتہ نہ چل جائے صحیح اور حسب حال دوائی کا انتخاب بھی ممکن نہیںاور پھر مزا یہ کہ دوائی اور علاج ہر ایک کی پہنچ کے اندر اندر ہے،سستا اور بالکل بلا ضرر بھی ہے۔
(مضمون نگار برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے بی ایچ ایم ایس سند یافتہ ہیں)
رابطہ۔ صدرہ بل،حضرت بل سری نگر،190006کشمیر
موبائل نمبر۔7780836240
 ای میل۔bushraashrafshah@gmail.com