ہند۔امریکا تعلقات میں اچانک گرمجوشی کا سبب؟

ندائے حق

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


اسد مرزا
ایشیائی خطے میں ہندوستان کے رول کے متعلق امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ بعض تبصروں اور بیانات سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ہندوستان اور اس کی صلاحیتوں کے متعلق امریکا کے نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔امریکاکے نائب وزیر خارجہ اسٹیفن ای بیگن ، پچھلے ہفتے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹوکیو میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔یہ ملاقاتیں ،مذاکرات اور دورے امریکا کی جانب سے چین کے خلاف تقریباً ہر محا ذ پر بالواسطہ جنگ شروع کردینے کے بعد ہوئے ہیں اور اسے بیجنگ کے لیے ایک واضح اسٹریٹیجک اشارے کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس، تجارت، ٹکنالوجی، ہانگ کانگ، تائیوان اور حقوق انسانی کے معاملات پر بھی بیجنگ کی نکتہ چینی میں شدت آئی ہے۔چین ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور امریکا پر ساوتھ چائنا سمندر میں جارحیت کے الزامات عائد کرتا ہے۔ کورونا کے معاملے میں اس کا دعوی ہے کہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو تمام متعلقہ اعدادو شمار بروقت فراہم کیے ہیں۔ چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ غلط سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی تردید کرتا ہے اورمغربی ملکوں پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتا ہے۔
امریکی رہنما کا دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدوں پر فوجی تعطل چھٹے ماہ میں داخل ہوچکا ہے ۔ مسٹر بیگن کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کی سطح پر بات چیت بھی جاری تھی۔مسٹر بیگن نے اپنے دورے کے دوران ہند ۔امریکا تعلقات اوراس کا مستقبل نیز علاقائی سلامتی میں ہندوستان کے مستقبل کے رول کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بہت سی تمثیلوں او رصفتوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکا کو نیٹو جیسے سکیورٹی پارٹنر شپ کے ماڈل یا سرد جنگ کے بعد کے دور کے ماڈلوں پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یو ایس۔ انڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیگن نے ایک حقیقی اور مضبوط پارٹنرشپ کے لیے ابھرتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کیا۔انہوں نے ہندوستان او رامریکا کے درمیان مابعد جنگ اتحاد کے ماڈل کے بجائے ایک مشترکہ سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی اہداف ، مشترکہ مفادات اور مشترکہ قدروں کا ذکر کیا ۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین کے خطرے کے تئیں بھی متنبہ کیا۔مسٹر بیگن نے باہمی سکیورٹی پارٹنرشپ کی متعلق تبدیل شدہ خیالات پربھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں باہمی دفائی معاہدوں کے متعلق گزشتہ صد ی کے ماڈل پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس میں امریکی افواج کی کسی ملک میں موجودگی ضروری ہوتی تھی۔ آج ہم ہندوستان جیسے ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات سے مستفید ہورہے ہیں ،جو ایک آزاد اور کھلے ہند۔بحرالکاہل کے ہمارے نظریات سے متفق ہیں اور جو اسے اپنی دفاع کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کے بحرالکاہل اتحادسے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ہند ۔ بحرالکاہل خطے کی سلامتی اور خوشحالی میں مدد ملی ہے۔کواڈ پارٹنرشپ مسٹر بیگن کے مطابق ہندوستان اور امریکاکواڈری لیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ یا QUAD کے نام سے معروف جامع سکیورٹی مذاکرات کے سلسلے میں حد سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔
کواڈ ،امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان ایک غیر رسمی اسٹریٹیجک فورم ہے ، جس کا قیام 2007میں عمل میں آیا تھا۔ تاہم چین کے احتجاج اور 2008میں آسٹریلیا کے اس سے الگ ہوجانے کے بعد یہ اتحاد سر د مہری کا شکار ہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ جاپان اور ہندوستان میں چین سے دوستانہ تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے بھی یہ اتحاد اپنی معنویت تقریباً کھوچکا تھا۔ لیکن ساوتھ چائنا سمندر میں چین کی سرگرمیوں اور اس کے سیاسی عزائم کی وجہ سے جب حالات کشیدہ ہوئے تو2017میں اس فورم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسٹر بیگن ہند۔ بحرالکاہل خطہ اور دنیا بھر میں ہندوستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔ بیگن نے بھی کہا تھا کہ امریکا ، ہندوستان کو اپنا دفاع خو دکرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گا اورمستقل میںباہمی فوجی مشقوں اور تبادلوں، مشترکہ دفاعی شعبوں اور مشترک ترقی کے ذریعہ ایک دوسرے کی مدد کو فروغ دے گا۔
اس دورے کے دوران ہونے والے مذاکرات سے اس ماہ کے اواخر میںمجوزہ ہند ۔امریکا 2+2 وزارتی میٹنگ کے لیے اسٹیج بھی تیار ہوجائے گا ۔ گوکہ 2+2 میٹنگ کے 26-27اکتوبر کو ہونے کے امکانات ہیں تاہم یہ کورونا وائرس کی وبا سے پیدا شدہ صورت حال پر بھی منحصر کرے گا۔ دونو ں فریق پچھلے چار برس سے ہونے والی کوششوں کو مستحکم کرنے کے لیے اس میٹنگ کو 3نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل مکمل کرلینا چاہتے ہیں۔مسٹر بیگن کا کہنا تھا کہ’ ’وزیر خارجہ پومپیو اوربھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان مجوزہ 2+2 وزارتی میٹنگ ان امور میں سے بعض کے متعلق اگلے اقدامات کی نشاندہی کے لیے ایک شاندار موقع فراہم کرے گا۔‘‘دونوں ملکوں نے تقریباً ایک عشرے قبل 2010میں خارجہ اور دفاع کے وزیروں کی سطح پر 2+2 مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔  یہ مذاکرات دسمبر 2009میں دونوں ملکوں کے مابین ایڈوانس سکیورٹی کوآپریشن کے لیے لائحہ عمل کے طورپر شروع کیے گئے تھے۔اس کے تحت بحری، سائبر اور خلائی سکیورٹی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بات چیت وزارتی سطح پر ہوتی ہے اس لیے اس میکانزم کے تحت مزید امور کا احاطہ کیے جانے کی بھی توقع ہے۔
ہندوستان میں امریکی مفادات
امریکی انتظامیہ جس انداز میں ہندوستان پرخصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے اور اس نے دونوں ملکوں کے اعلی سطح کے وزراء اور حکام کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تیز کردیا ہے ، اس سے ہندوستان میں امریکا کی اچانک بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہونا لاحق ہے۔
پہلی بات تویہ سمجھ میں آتی ہے کہ امریکی انتظامیہ ہند ۔ بحرالکاہل خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ازسرنو اقدامات کررہا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا جیسے کواڈ ممالک، امریکہ کی کم مدد کے بغیر ہی اس خطے میں زیادہ سرگرم رول ادا کریں ۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ کواڈ اتحاد کو خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ امریکا دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان مجوزہ 2+2 مذاکرات کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ، ہوسکتاہے یہ محض صرف دکھاوا ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ صدارتی انتخابات میں ہندوستانی ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سخت محنت کررہی ہے۔ بعض امریکی ریاستو ں میں ہندوستانی ووٹروں کا رول کافی اہم ہے اور ٹرمپ انتظامیہ ہر حال میں ان ووٹوں کو اپنے حق میں یقینی بنانا چاہتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا میں بی جے پی کے دوست(Friends of BJP) جیسی تنظیمیں ، ٹرمپ کے حق میں کچھ ووٹ منتقل کرانے میں کامیاب ہوجائیںاور اسی چیز کو یقینی بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ امریکا اور ہندوستان دونو ں جگہ یہ ڈرامہ کررہی ہو۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگا ر ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز  دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل ۔  asad.mirza.nd@gmail.com