تازہ ترین

سیاسی غیر یقینیت میں ٹھہرائو آنے کا امکان | اتحاد و اتفاق سے پہاڑ کو رائی بنانا نا ممکن نہیں

گفت و شنید

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


معراج مسکینؔ
کسی بھی قوم یا معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہوتی ہے کہ وہ جذبات کی رَو میں بہہ کر کسی بھی انسان کو دیوتا کا درجہ دے دیتی ہے یہ سمجھے بغیر کہ انسان بالآخر انسان ہی ہوتا ہے جو اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج ہوتا ہے جن کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی بھی وقت اپنے درجے سے انتہائی حد تک گِر بھی جاتا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ انسانی زندگی میں مشکلات زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوجانے اور اپنے طرزِ عمل کی پیدوار ہوتی ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ قومی مفاد یا عوامی خدمت کا نعرہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں بےدردی سے استعمال ہوا ہے اور اِس نعرے کے ذریعےدنیا بھر میں 90   فیصد سے زائد لوگوں کابدترین استحصال ہوا ہے۔ جو جتنا بڑامکار یا عیار ہوتا ہے،وہ اتنے ہی بلند بانگ نعرے لگاتا اورلچھے دار تقاریر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے مداری، ڈرامے باز کی اصلیت کو پہچاننا کوئی زیادہ مشکل تونہیں ہوتا۔ مگربدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ اس کی آگہی اپنے ہم نفسوں تک کیسے پہنچائی جائے، سب سے مشکل بات بن جاتی ہے۔ذرا غور کیجئے کہ ہٹلر جب اپنی قوم کو بےوقوف بنا رہا تھا تو جرمن قوم اُس کی اصلیت کو کیوں سمجھ یا پرکھ نہیں پا رہے تھے؟ وہ اُس کے دھوکے میں کیوں آ رہے تھے۔ صرف جرمنوں کو ہی مطعون کیوں کیا جائے۔ مسلمانانِ جنوبی ایشیا کے ساتھ جب جب نوسربازیاں ہوئی ہیں، اُن دردناک مواقع پر عوامی ہجوم کی اندھی جذباتیت کہاں سے کہاں تک پہنچائی جا تی تھی؟ بھارت کی بات کریں تو انگریزوں نے ہندوستان سے خلاصی سے قبل جس چالاکی کے ساتھ ہندو اور مسلمان کے درمیان کھانے ،پانی اور دیگر کئی معاملات کے نام پر دراڑیں ڈالنے کی مہم کے تحت منافرت کا جو بیج بونا شروع کیا تھا تو اُس وقت ہندوستان کے بہت بڑے سیاسی لیڈران کرم چند گاندھی، محمد علی جناح، موتی لال نہرو، اورمحمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ جیسے رہنمائوں نے ہندواور مسلمان کے درمیان اُس منافرت کو پھیلانے پر انگریز کی جامع مخالفت کی تھی؟جس منافرت کےبیج نے پھل پھول کرآج ایک خوفناک شکل اختیار کرلی ہے۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف سرحد کے دونوں طرف انتہا پسند سیاستدان نفرتوں کی آبیاری کر رہے ہیںبلکہ جموں و کشمیر کے معاملے میں بھی یہ زہر گھول رہے ہیں۔ذرا غور کیجئے کہ سات آٹھ سال قبل تک تو جمہوری کہلانے والا بھارت آج ہر سطح پر اور ہر معاملے میںپراگندگی ،بَد انتظامی،فرقہ پرستی ،معاشی بدحالی ،سیاسی خلفشار اور ملکی تحفظ کے تئیں ہنگامی صورت حال کا گہوارہ کیوں بن چکا ہے؟ظاہر ہےکہ جب ملک میںہندو تاکاڈول پیٹا جارہا ہے تب سیاست کاروں اورعام لوگوںکی عقل و دانش کے تمام لب و بول گھاس چرنے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اس کسوٹی پر پرکھنے کا ایک پیمانہ ضرور ہوتا ہےکہ جب بھی قیادت کا کوئی بھی دعویدار، جتنی لمبی لمبی چھوڑے، بڑھ چڑھ کر سبز باغ دکھائے،الف لیلےٰ کی دیو مالائی قصے کہانیوں کی دلیلیں سُنائیں تو افراد کا مجموعہ کہاں سمجھ پاتا ہے کہ یہ سچ اور درست نہیں ہوتا،محض قیادت کا بھوکا ہوتا ہے۔ مکاراور عیار ذہن کی ایک نشانی اور بھی ہے کہ ہر دھوکہ باز خود نمائی و خود ستائی کے تحت اپنی شخصیت کے خول میں بُری طرح گرفتار ہوتا ہے، اپنی ذات کے عشق میں مرا ہوا پارسائی و حب الوطنی کے دعوے کرتا قوم کو ہمیشہ یہ جتلا تا رہتا ہے کہ آپ کی تقدیر بدل دینے والا مسیحا آ گیا ہے، خود کو ایک ایسی ماورائی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہےکہ جس پر تنقیدی نظر ڈالنا گویا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں ہوتاہے۔
اپنی اس ریاستِ جموں و کشمیر کی طرف نظر ڈالیئے۔ یہاں کیا کچھ نہیں ہوچکا ہےاور کیا کیا نہیںہوتا چلا آرہاہے۔ یہاں کی بڑے بزرگوں،جن کی نسل اب عدم موجود ہوتی جارہی ہے،نےہندوستان کا بٹوارہ اور بٹوارے کے بعد بر صغیر کو فسادات کی آگ میں جھلستے ہوئے دیکھا ہے،ہولناک فسادات،قتل و غارت گری اور انسانیت کی پامالی بھی دیکھی ہے،جموں میں مسلمانوںکو نیست و نابود کرنے والی وحشت ناک تباہ کاریاں بھی دیکھی ہیںمگر اس کے باوجود وادیٔ کشمیرجہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے نے دوسرے عقیدوں کے لوگوں کوہمیشہ اپنے گلے سے لگا کے رکھا۔کشمیری مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی ایک دوسرے کے لئے بھائی بھائی ہی رہے تھے، ایک دوسرے سے لڑتے نہ نفرت کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی عبادتگاہوں کی قدر کرتے تھے۔ایک دوسرے کے عقیدے، تہذیب، تمدن، ثقافت اور زبان کا احترام کرتے تھے اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شامل ہوتے تھے۔کیونکہ ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ دنیا کا بلکہ قدرت کا کاروبار کسی ایک عقیدے ،زبان،تہذیب ، رنگ ،نسل اور قوم سے نہیں چلتا ہے۔خیر۔۔۔!
 ہندوستان سے انگریزوں کی خلاصی ،بھارت کی آزادی ، پاکستان کے قیام اور ریاست ِجموں وکشمیر میں مہاراجہ دور کی منسوخی کے ساتھ ہی ریاستِ جموں و کشمیر،جوکہ اب یونین ٹریٹریز میں بانٹ دی گئی ہے،ان دونوں ملکوں (ہندوستان اور پاکستان) کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ کی حیثیت میں اُلجھ کر رہ گئی ہے اورگذشتہ 74برسوں سے اس صورتِ حال میں کوئی سُلجھائو نہیں آرہا ہے۔خاص طور پچھلے تین دہائیوں سے وادیٔ کشمیر جس نامساعد صورت حال سے گذر رہی ہے وہ بھی تاحال جاری ہے،اور پھر گذشتہ سال بھارتی حکومت کی طرف سے اس کی خصوصی حیثیت مٹاکر یونین ٹریٹری بنانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی رونماں نہیں ہورہی ہے اورسیاسی غیر یقینیت تواتر کے ساتھ بڑھ کرکہیں پر بھی اپنا پڑائو نہیں ڈال رہی ہے ،گویا کشمیری ہند نواز سیاسی تنظیموں کے لیڈروں کی گذشتہ سال گرفتاری اور رواں سال میں رہائی کے دوران بھی جہاں کشمیری قوم مسائل در مسائل کے گھیرائو میں مزید اُلجھتی جارہی ہے وہیں رہا شدہ سیاسی لیڈر کی بیان بازی بھی اُسے مخمصے میں ڈال رہی ہے۔اب جبکہ محبوبہ مفتی کی رہائی کے بعد ہند نواز کشمیری لیڈر شپ نے چھ سیاسی تنظیموں پر مشتمل ’عوامی اتحاد برائے گُپکار اعلامیہ ‘نامی’’ ایک اتحادی فورم‘‘ تشکیل دیاہے،جس میں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی،پیپلز کانفرنس ،عوامی نیشنل کانفرنس ،سی پی ایم اور پیپلز مومنٹ شامل ہیں، نے اعلان کردیا ہے کہ اس اتحادی فورم کے تحت یہ سیاسی جماعتیں متحدہ اور متفقہ طریقے پر جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کام کرنے کا عہد کیا ہے تو کافی حد تک عوام بھی مخمصے سے باہر آرہی ہےجبکہ بھارت کانگریس پارٹی نے بھی اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔چنانچہ نعروں کی فہرست میں اب کشمیر میں اس نعرے کے سوا اور کوئی نعرہ باقی نہیں رہا ہے ،اس لئے سیاسی تنظیموں نے بھی اسی نعرے پر لبیک کردیا ہے۔ اس کام میں یہ سیاسی تنظیمیں کب تک متحد و متفق رہتی ہیں اور کہاں تک کامیاب ثابت ہوسکتی ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم اتنا کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس فورم کے قیام سے جہاں کسی حد تک جموں وکشمیر سیاسی غیر یقینیت کو ایک نیا پڑائو مل جانےکا امکان ہے وہیں کافی حد تک بانت بانت کی بولیوں کا بھی خاتمہ ہوجانا ناگزیر ہے،اگرچہ یہ کام آسان نہیں انتہائی پیچیدہ ہے مگر بہتر نتائج بھی بہر حال ناممکن نہیں۔کیونکہ یہ ہند نواز سیاسی جماعتیں بخوبی اس بات سے عبرت حاصل کرچکی ہیں کہ جس قوم یا معاشرے کی سیاسی یا مذہبی قیادت میں نفاق رہتا ہے اُس قوم یا معاشرے کی کیا حالت ہوجاتی ہے۔ظاہر ہے کہ نفاق و تفریق ایک ایسی خباثت ہے جس سے نہ صرف کسی بھی قوم کے افراد کی اجتماعی طاقت ،حمیت اور عزت بُرباد ہوتی ہے بلکہ قوم کی قیادت میں عوام کے اجتماعی مفادات کے تئیں ایثار و قربانی اور اخلاص و محبت کا جذبہ بھی برقرار نہیں رہتا ۔جس کے نتیجے میں قوم بکھر جاتی ہے اور ہر معاملے میں پچھڑ کر مشکلات ،ذلت ، مظلومی اور غلامی اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔کشمیر میںعرصۂ دراز سے چلی آرہی سیاسی غیر یقینی اور موجودہ تکلیف دہ و کرب ناک صورتِ حال ہمارے یہاں کے باہمی نفاق سے پیدا ہوچکی خباثت کی ہی دلیل ہے۔اتحاد و اتفاق کے فقدان ،نظریات کے ٹکرائو ،خیالات کی جنگ اور بالا دستی کے جنون میں کشمیری قوم آج تک ایک مکمل سیاسی قیادت سے محروم ہے۔سیاسی عدم استحکام  سے یہاں کے افراد کا مجموعہ بکھر چکا ہےاور کشمیر کی بکھری ہوئی سیاسی قیادت عوامی مفادات کے پیش نظرآج تک کوئی موثر رول ادا نہیں کر پائی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی بکھری ہوئی قوم کے لئے کسی پیچیدہ اور حساس مسئلے کو طے کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے تو اُسے اپنی منزلِ مقصود کی طرف موثر انداز میں پیش قدمی کرنے کے لئے باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے ساتھ صدق دلی اور ایمانداری لازمی اور ضروری بن جاتی ہے کیونکہ کسی بھی معاملے میں کامیابی کا واحد ذریعہ اتحاد ہوتا ہے اور اتحاد ہی وہ ہتھیار ہے جس میں کامیابی یقینی ہے۔ ہند نواز سیاست دان ہی نہیں بلکہ ساری کشمیری قوم اس بات سے بھی واقف ہے کہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران وادی میں حریت کانفرنس ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر اُبھر آئی تھی جس کی قوت کا نہ صرف ہندوستان اور پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ہوئی تھی لیکن بعض امور پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد اس سیاسی قوت کا نہ صرف بھاری نقصان ہوا بلکہ اس میں شامل سیاسی لیڈروں کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ یہی صورت حالت یہاں کے ہند نواز سیاسی لیڈروں کی بھی ہوچکی ہے۔اس لئے اتحادی فورم کے لئےیہ جاننا ضروری ہے کہ پہاڑ سے ٹکراکر راستہ ضروربنایا جاسکتا ہےکیونکہ یہ امکانات کی دنیا ہے ،یہاں ناممکن کچھ بھی نہیں۔ہاں!جو لوگ روایتی سیاست گری سے توبہ کر کے ایک مضبوط ویژن کے ساتھ صدق دلی سے عوام کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں انہوں نےپہاڑوں کو رائی بناکر ہی دَم لیا ہےلیکن سوال یہ ہے کہ کیا اِس ہند نواز سیاسی قیادت میں اتنا دم خم ہے کہ عوام کی دکھتی رَگ پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں اپنے ساتھ آگے تک لے جاسکیںاور قدرت اُس پر مہربان ہونے کا فیصلہ کرلے؟۔