بوسیدہ کھمبے اور ڈھیلی ترسیلی لائنیں لٹکتی تلوار کی مانند | رواں برس بھی حالت نہیں بدلی، صارفین کا محکمہ بجلی پر لیت و لعل کاالزام

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // شہر میں بجلی ڈھانچہ کو مزید بہتر بنانے کیلئے متعدد سکیموں کے تحت ایک بڑی رقم خرچ کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی شہر میں عارضی کھمبوں کے ساتھ لٹکتی بجلی کی تاریں نہ صرف مکینوں اور راہگیروں کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہیں،وہیں سرما میں برف باری کے دوران پھر سے بجلی گل رہنے کا احتمال ہے ۔شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کے بوسیدہ کھمبوں اور تاروں کو نہیں بدلا گیا ہے ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار ترسیلی لائنوں اور کھمبوں کو بدلنے کیلئے متعلقہ محکمہ سے رابطہ قائم کیا تاہم اس جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جاتا ہے۔شہر کے گرین کالونی لاوے پورہ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہاں بجلی کی تاریں ڈھیلی ہوگئی ہیں اور خدانخواستہ حادثہ ہو سکتا ہے۔مقامی لوگوں کے ایک وفد نے بتایا کہ کئی بار انہوں نے محکمہ کے متعلقہ حکام سے رجو ع کیا لیکن اس جانب کوئی بھی دھیان نہیں دیا گیا ۔شہر کے کرسو راج باغ بنڈ پر معمولی ہوا چلنے سے بھی بجلی گل ہو جاتی ہے ،اگرچہ علاقے میں بجلی کے کچھ ایک نئے کھمبے نصب ہیں البتہ بنڈ پر سڑک کے کنارے کئی ایک پرانے بجلی کے کھمبے نصب ہیں ۔ ادھر ہمدانیہ کالونی بمنہ اور شہر حاص کے اکثر علاقوں میں بھی بجلی کی ترسیلی لائنیں بوسیدہ کھمبوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں اور اْن کو بدلنے کا کام بھی امسال مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ہمدانیہ کالونی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں اگرچہ کچھ ایک جگہوں پر بجلی کے کھمبے نصب ہیں تاہم کچھ علاقوں میں بوسیدہ کھمبوں کو نہیں بدلا گیا ہے جبکہ ترسیلی لائنیں بھی ڈھیلی پڑ گئی ہیں اور اس سے کس بھی وقت کوئی بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ادھر شہر خاص کے اکثر علاقوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔لوگوں کے مطابق معمولی بارش اور برفباری کے باعث یہ کھمبے زمین بوس ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو بجلی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ ادھر شہر کے نواحی علاقے بٹوارہ کے لوگوں کے مطابق وہاں گذشتہ کئی برسوں سے خستہ ترسیلی لائنیںجیسے لٹکی تلوار ہے اور حادثہ کا موجب بن سکتی ہیں۔مقامی آبادی کے مطابق علاقے میں تاریں ڈھیلی ہوگئی ہیں اور معمولی ہوا سے آپس میں ٹکرانے سے حادثہ کا احتمال ہے۔واضح رہے کہ شہر میں بجلی کے بوسیدہ نظام کو بدلنے کیلئے کروڑ وںروپے کی لاگت سے کئی ایک سکیمیں چل رہی ہیں مگر بجلی کے ترسلی نظام میں کوئی سدھار نہیں آتا ہے اور سرما آتے ہیں یہ علاقے گھپ اندھیرے میں رہتے ہیں۔لوگوں نے محکمہ کے متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ بوسیدہ کھمبوں اور ڈھیلی لائنوںکو بدل کر اْن کی جگہ نئے کھمبے اور لائنیں نصب کی جائیں تاکہ مستقبل میں لوگوں کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 

تازہ ترین