تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک

انتظامیہ ایک مخصوص جماعت کی ہدایت پر کام کر رہی ہے :منجیت سنگھ 

جموں//اپنی پارٹی صوبائی صدرمنجیت سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ عام آدمی کو بھول چکی ہے اور ایک خاص سیاسی جماعت کی ہدایات پر کام کر رہی ہے۔ پرکھو اور دمانہ میں تعمیر وترقی کا فقدان ہے اور سڑک رابطہ ناقص ہے۔انہوں نے کہاکہ تعمیروقی طرقی میں پسماندہ یہ علاقہ جات سرکاری لاپرواہی کی واضح مثال ہیں، جنہیں اللہ کے رحم وکرم پرچھوڑ دیاگیاہے۔نالیوں اور راستوں کی حالت خستہ ہے۔ منجیت سنگھ کو ضلع جموں کے پرکھو اور ملحقہ علاقہ جات میں بنیادی سہولیات کے فقدان متعلق مقامی افراد اور پنچایت ممبران نے بتایا۔لوگوں نے الزام لگایاکہ انتظامیہ اُن کی بات نہیں سکتی اور صرف ایک خاص جماعت سے منسلک لوگوں کے کاموں کو ترجیحی دی جارہی ہے۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ بلا امتیاز زمینی سطح پر لوگوں کا کام کیاجائے۔ انہوں نے کہا’’ہم انتظامیہ کے اِس رویہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل ہے کہ وہ اس میں مداخلت کریں، لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے اور اُن علاقوں کو نظر انداز کیاجارہاہے جہاں پر ایک مخصوص جماعت کے ورکرز موجود نہیں‘‘۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ بہتر سڑک رابطہ، بجلی اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
 
 
 
 

عوام نے مقبول رہنما کھو دیا:سجاد کچلو | بھلیسہ میں نیاز کے گھر جاکر کی تعزیت پیش 

ڈوڈہ //سابق وزیر و نیشنل کانفرنس لیڈر سجاد احمد کچلو نے اتوارکے روز بھلیسہ کا دورہ کرکے سابق وزیر مرحوم محمد شریف نیاز کے گھر جاکر اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی۔ان کے ہمراہ بلاک صدر نیشنل کانفرنس ٹھاٹھری شمیم احمد بٹ بھی تھے۔اس دوران انہوں نے سابق وزیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا شمار مقبول عوامی و سیاسی رہنماؤں میں کیا جاتا تھا۔کچلو نے کہا کہ نیاز کی موت سے جہاں جموں و کشمیر ایک عوامی قائد سے محروم ہو گئی وہیں خطہ چناب نے بھی عظیم رہبر و رہنما کھو دیا۔انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ غمزدہ خاندان کے ساتھ بربر شریک ہیں۔کچلو نے نیاز کے دور اقتدار میں ہوئی تعمیری و ترقی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی، مذہبی و لسانی بنیادوں سے بالا تر ہو کر کام کرتے تھے۔
 
 

 شرما نے جموں میں زرعی سرگرمیوں کا جائزہ لیا

جموں//لیفٹیننٹ گورنرکے مشیرکے کے شرمانے آج ایگریکلچر کمپلیکس تالاب تلو جموں کا دور ہ کر کے وہاں جموںپراونس   ایگر یکلچر ایکس پرمنٹل فارم میں جاری سرگرمیوں کا معائینہ کیا۔دورے کے دوران کے کے شرمانے قدرتی طور ہوا دار پالی گرین ہاوس ، ڈھانچوں کو معائینہ کیا جہاں منفرد سبزیاں ، فصلیں ، محفوظ ماحول میں اگائی جارہی ہے ۔انہوں نے ہائی ٹیک پولی گرین ہاوسز میں سبزیوں کی پنیری کی پیداوار کا بھی معائینہ کیا۔مشیر موصوف نے آرائشی پودوں کی پیداوار اور جڑی بوٹیوں کے باغ کا معائینہ کیا جو فلوری ڈیولپمنٹ نرسری کی جانب سے قائم کئے گئے ہیں۔اس موقعہ پر انہیں بتایا گیا کہ جموںمیں سبزیوں کی کاشت کے لئے اراضی کو ائیر یا ایکس پنشن پروگرام کے تحت توسیع دینے کے لئے سبزیوں کی پنیری قدرتی ہوادار پالی گرین ہاوسزمیں اُگائی جارہی ہے جو مرکزی معاونت سکیم تحت قائم کئے گئے ہیں۔افسران نے کے ساتھ تبادلہ کرتے ہوئے مشیر نے روایتی کاشتکاری کو جدید ترین اوراعلیٰ پیداوار اور آمدن بخش فصلوں کو اُگانے سے متعلق مختلف معاملات پر غور و خوض کیا ۔انہوں نے جموں خطے میں زراعت میں مشینوں کے استعمال پر زور دیا او رہاروسٹروں ، ٹریکٹروں اور روٹیویٹروں ، ملٹی سیڈ ڈرلوں ، ٹرانسپلانٹروں جیسے زرعی مشینوں کو کسانوں کے لئے رعایتی داموں پر دستیاب رکھنے کو کہا۔مشیر نے بورویلوں کی تعمیر پر سبسڈی فراہم کرنے اور چھوٹے پیمانے کے آبپاشی نظام جیسے سپرنکلس ڈرپ  اری گیشن کو بھی متعار ف کرنے پر زور دیا ۔انہوں نے بیجوں کی پیداوار اور ان کی پروسسنگ صلاحیت میں اضافہ  کرنے پر زور دیا۔اس موقعہ پرجوائنٹ ڈائریکٹر زراعت (ایکسٹنشن) جموں ، چیف زراعت آفیسر جموں ، زرعی ماہر سبزیاں جموں اور محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔
 
 
 

رام بن میں نوراترا تقریبات شروع 

ایم ایم پرویز

رام بن //ہفتہ کی صبح اور شام سے ضلع کے تمام قصبوں کے مندروں میں خصوصی دعا ئیں کی گئیں اورضلع بھر میں نوراتروں کی تقریبات کا آغاز ہوگیا۔عقیدت مندوں نے رگوناتھ مندر، شیو مندر جیسے مندروں میں حاضری دی اور جموں کشمیر میں امن، ترقی اور خوشحالی کی دعا کی۔عقیدت مندانہ جذبے سے پوجا کی گئی ۔تہوار کے سیزن کے دوران کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے ضلع بھر میں نوراترا کے دوران عقیدت مندوں کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کررکھے ہیں۔
 
 
 
 
 

ڈوڈہ میں معمر شخص کی موت 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع سے کووڈ 19 کے 12 نئے مثبت کیس سامنے آئے جبکہ ایک معمر شخص کی موت ہوگئی ۔اتوار کے روز ڈوڈہ ضلع سے 12افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جبکہ بھدرواہ سے تعلق رکھنے والے ایک 75 سالہ بزرگ کی موت ہوئی ہے۔ضلع میں کوؤڈ 19 سے کل42 اموات ہوئی ہیں۔اس دوران ہوم قرنطینہ میں رکھے گئے 47 مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور اسطرح سے ضلع میں صحت یاب ہوئے مریضوں کی تعداد 2207 پہنچ گئی ہے جبکہ فعال کیسوں کی تعداد 253 رہ گئی ہے۔
 
 
 

خیام چوک میں فائرنگ افواہ بے بنیاد: ایس ایس پی 

ارشاد احمد

گاندربل // پولیس نے کہا کہ شہر کے خیام چوک میں فائرنگ کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیاہے جبکہ ان نیوز گروپوں کے خلاف کیس درج کیا جائے گا جنہوں نے اس غلط خبرکی تشہیر کی ہے۔ ایس ایس پی سرینگر ڈاکٹر حسیب مغل نے خیام چوک میں فائرئنگ کے کسی بھی واقع کے رونما ہونے کی رپورٹوں کو سختی کے ساتھ مسترد کیاہے۔ انہوں نے کہا’’ یہ غلط اور بے بنیاد خبر ہے اور اس طرح کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوںنے کہاکہ ’ہم ان نیوز گروپوں اور خبر رساں اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے جا رہے ہیں جنہوں نے اس غلط خبر کی تشہیر کی‘‘۔  انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی جو شہر میں فائرنگ کے واقعہ اور علاقے کے محاصرے سے متعلق غلط خبروں کی تشہیر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غلط خبروں کی تشہیر کرنے اور لوگوں میں بے چینی پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کاروائی کی جائے گی۔
 
 
 

فورسزاہلکاروں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

18روز کے دوران 5اہلکاروں نے اپنا کام تمام کیا،ذہنی تنائو بنیادی وجہ 
 سرینگر//وادی میں فورسز اہلکاروں کی طرف سے خود کشی کے واقعات میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے ۔گزشتہ18روز میں5اہلکاروں نے  خود کشی کرکے اپنا کام تمام کیا ۔اس دوران غیر سرکاری ذرائع کے مطابق خود کشیوں کی واقعات میں اضافے کی وجہ ذہنی تناو بتایا گیا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر میں ماہ رواں کے18روز کے دوران فوج اورنیم فوجی دستوںکے5اہلکاروں نے خود کشی کر کے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امسال20سے زائد نیم فوجی دستوں کے اہلکار برادر کشی یا خود کشی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے 2019 تک بھارت میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے مشتبہ واقعات درج کئے  گئے۔ 26جولائی کوسرینگر کے رام باغ فورسز کیمپ میںسی آر پی ایف اہلکار نے  اپنی ہی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔مہلوک اہلکار کی شناخت پنٹو منڈال ساکن مغربی بنگال کے بطور ہوئی۔ اس سے قبل ایک سی آر پی ایف اہلکار نے 19جولائی کو پانتھ چوک میں خود کشی کی تھی۔17 جولائی کو سرینگر کے علاقے ڈلگیٹ میں نیم فوجی دستے کے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے پروین منڈا نے مبینہ طور پر اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار دی۔6 جولائی کو ، جنوبی ضلع کولگام کی عدالت کے کمپلیکس میں ایس ایس بی اہلکاروں نے ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں2اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ 18 جون کوسینٹرل ریزرو پولیس فورس کے  178 بٹالین سے وابستہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر موتی رام نے جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں خودکشی کرلی۔ 12مئی کو ، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دو مختلف واقعات میں سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔اسی دن ، سی آر پی ایف کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر بنگالی بابو نے سری نگر میں واقع 49 ویں بٹالین کیمپ میںخودکشی کرلی۔ 21 مارچ کو سول سیکرٹریٹ سری نگر کے باہر تعینات سی آر پی ایف اہلکار نے اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔ایک واقعہ میںخود کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سی آر پی ایف میں سے ایک اہلکار نے خودکشی نوٹ میں کہا تھا’’مجھے ڈر ہے ، میں کرونا مثبت ہو سکتا ہوںبہتر ہے مرنا۔ ‘‘سی آر پی ایف کے ایک افسر نے بتایا کہ ہر واقعے کی داخلی تفتیش ہوتی ہے لیکن ’’جوان انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں‘‘،اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ چھٹی پر نہیں جاسکتے ہیں اور اپنے اہل خانہ سے مل نہیں سکتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ بھی پریشان ہیں ، جس کی وجہ سے کشمیر میں ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے ذہنی دبائومیں اضافہ ہوتاہے۔
 
 

پنچایتی راج قانون میں ترمیم استبدادی:مونگا

سرینگر//مرکزی حکومت کے جموں کشمیر پنچایت راج ایکٹ1989میں ترمیم کرکے ضلع ترقیاتی کونسلوں کے قیام کیلئے راہ ہموار کرنے کوجموں کشمیرپردیش کانگریس کے نائب صدر غلام نبی مونگا نے استبدادی حکم قراردیتے ہوئے ان کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کومنتخب حکومت کیلئے چھوڑا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے بھاجپا حکومت ایک بعدایک ایسے حکم جاری کرتی ہیں جن کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں.۔انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے مزیدکنفیوژن پیدا ہوگا اور کوئی ترقی نہیں ہوگی۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ ترمیم کئے گئے قانون میں ممبران اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو ووٹنگ کا کوئی حق نہیں دیاگیا ہے ۔
 
 

آنگن واڑی ورکر وں سے بغیراُجرت کام لیا جارہا ہے:تاریگامی | کوروناکے خلاف صف اول پر کام کرنے والوں کومشکلات کاسامنا

سری نگر// سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور سابق ممبر اسمبلی کولگام نے اتوار کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں آنگن واڑی کارکنان اور مدد گار ، جو انتھک محنت کر رہے ہیں اور کووِڈ - 19 وبائی مرض کا مقابلہ کرنے میں صف اول پرکام کررہے ہیں، بدقسمتی سے ایک سال سے انہیں اُجرت ہی نہیں دی گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ سراسر توہین آمیز سلوک کیا گیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2018 میں ان کارکنوں، مددگاروں کے لئے اعزازی مشاہیرہ میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم  دو سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ، ان کارکنوں کے اعزازی مشاہیرے میں 500 روپے اضافے کا اعلان تاحال پورا نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری اسکیمیں آنگن واڑی کارکنوں اور مددگاروں کے ذریعے ہی نافذ کی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی معمولی اجرت بھی انہیں ادانہیں کی جارہی ہے۔  سپروائزرز کے مددگار ، جن کی تعداد 700 سے زیادہ ہے ، پچھلے تین برسوں سے اُجرت کے بغیر ہیں۔ سال 2019 کے لئے ان کی اجرت کا مرکزی حصہ جاری کردیا گیا ہے لیکن ان کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حصہ جاری ہونا باقی ہے۔ انھیں معاشرتی تحفظ سے متعلق فوائد سے محروم رکھا جارہا ہے جن میں گریجوئٹی ، پنشن ، پروویڈنٹ فنڈ ، طبی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت پیکیجز اور یوجناوں کا اعلان کرتی رہی ہے جو حقیقت میں پرانے پیکیجوں اور یوجناوں کی دوبارہ پیکنگ ہیں۔  بی جے پی حکومت  کارکنوں سے کئی فوائد چھین رہی ہے جو اس وقت تک کارکنوں کو دستیاب تھے۔ متعدد سماجی بہبود کی اسکیموں کی الاٹمنٹ میں سخت کٹوتی کردی گئی ہے جس سے بنیادی طور پر غیر منظم شعبے کے کارکنوں خصوصا بچوں اور ان کے کنبے میں خواتین کو فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈویلپمنٹ سروسز (آئی سی ڈی ایس) اسکیم کے لئے مختص فنڈز قلت کا شکار ہے۔وزارت برائے خواتین و بچوں کی ترقی ، وزارت صحت اور خاندانی بہبود اور تعلیم کے لئے مختص رقم میں بہت کمی کردی گئی ہے۔ اسی طرح قومی صحت مشن کے لئے مرکز اور ریاستوں کے مابین اشتراک کے انداز کو تبدیل کردیا گیا ہے اور اس میں مختص رقم کم کردی گئی ہے۔45 ویں ہندوستانی لیبر کانفرنس نے تقریبا متفقہ طور پر سفارش کی تھی کہ ان تمام اسکیموں کے کارکنوں کو کارکن سمجھا جائے اور انہیں کم سے کم اجرت دی جائے اور معاشرتی تحفظ کے فوائد فراہم کیے جائیں۔ اس کے باوجود حکومت نے ان سفارشات پر عمل درآمد کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس سے ان کے معمولی معاوضے میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔
 
 

 درماندہ 6,33,239 شہریوںکی واپسی

جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے6,33,239شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا  رہ کر یوٹی واپس لایا۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے937مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 155کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 6,33,239شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر پرعمل کرتے ہوئے واپس لایا۔تفصیلات کے مطابق 17 اکتوبرسے18 اکتوبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے   8395درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے۔اَب تک 134ریل گاڑیوںمیںیوٹی کے مختلف اَضلاع سے تعلق رکھنے والے 124,596درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 
 

مابعد حالیہ روشنی اسکیم فیصلہ | کسانوں کے مفادات کوتحفظ فراہم کیا جائے:اپنی پارٹی

سرینگر//جموں کشمیرمیں کسانوں کے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے پرزوردیتے ہوئے اپنی پارٹی کے نائب صدر سابق وزیراعجازاحمدخان نے کہاکہ روشنی اسکیم سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعدکسانوں اورسماج کے غریب طبقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا، ’’ مالی طور کمزور کسان جن کی تحویل میں سال 1947سے قبل کاشتکاری اراضی ہے ، اُنہیں اراضی کے حقوق سے محروم نہ کیاجائے جس پر اُن کے آبا واجداد کاشت کیاکرتے تھے اور اُن کے اہل خانہ کا انحصار ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ روشنی اسکیم سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد متعدد وفود نے اُن سے رجوع کیا ، جن کے اذہان میں کئی حدشات ہیں۔اعجازاحمدمیرنے کہا کہ اِن غریب کسانوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے اور وہ دہائیوں سے زمین پر ہی منحصر ہیں ۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ کسانوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کیاجائے اور اُن کی تشویش کو دور کیاجائے۔ انہوں نے واضح کیاکہ وہ روشنی اسکیم کے تحت ہوئے غلط کی کبھی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ رہائشی اور تجارتی اراضی کی لوٹ میں ملوث جوملزمین ہیں، اُن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ کسان جن کے پاس زمین نہیں یاجو سماج کے غریب لوگ ہیں، اُن کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے۔ کسانوں کی بھر پور وکالت کرتے ہوئے اعجاز خان نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ پہلے ہی تیس برسوں سے نامساعد حالات کا شکار رہے، ان کسانوں کو حکومت سے امید ہے کہ اُن کے مفادات کا تحفظ کیاجائے اور اُن سے زمین چھینی نہیں جائے گی، اِنہیں ناکردہ گناہوںکی سزانہیں دی جانی چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے کہاکہ کسانوں کی بہبودی کے لئے پالیسی بنائی جائے اور جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ لیکر انہیں آبا واَجداد کی زمین سے بے دخل نہ کیاجائے۔اپنی پارٹی لیڈر نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاسے معاملہ میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ 
 
 

اندروال میں131 سالہ خاتون کا انتقال  

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی سب ڈویژن چھاترو کے علاقہ کچھن سے تعلق رکھنے والی علاقہ کی سب سے عمر رسیدہ131 سالہ خاتون مہتابہ بیگم کا اتوار کی صبح قلیل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ مرحومہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ پچھلے2ماہ سے بیمار تھی اورصبح انتقال ہوا۔ وہ آخری وقت تک اپنے پیروں پر کھڑی رہی ۔مقامی لوگوں کے مطابق مرحومہ نیک سیرت اور پنچگانہ نماز کی پابند تھی۔ انکی ساتویں پیڑی چل رہی ہے۔مرحومہ کے خاوند کا کئی سال قبل انتقال ہوگیاتھا۔موصوفہ  کے انتقال پر سیاسی و سماجی تنظیموں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں کانگریس کے لیڈر و حلقہ اندروال کے سابقہ ایم ایل اے غلام محمد سروڑی نے انکے اہل خاندان کے ساتھ اظہار ہمدری کرتے ہوئے کہا کہ مہتابہ بیگم نیک سیرت خاتون تھیںاوروہ دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
 
 
 
 

لکھن پور میں انتظامات میں بہتری سے مسافروں کوراحت | مسافروں کا کووِڈ- 19ٹیسٹ کرنے کیلئے کائونٹروں میں اضافہ

کٹھوعہ// حکام کی طرف سے لکھن پور میں انتظامات میں بہتری لانے سے  مسافروں کے رکنے کے وقت میں دس سے پندرہ منٹ تک کمی لائی گئی جس کے نتیجے میں اس بین یوٹی ریاستی سرحد کو چوبیس گھنٹے کے دوران 2500 چھوٹی گاڑیاں اور 2800 ٹرکیں پار کرتی ہیں۔مسافروں کے عبور و مرور کے عمل میں کووِڈ۔19ٹیسٹنگ سہولیت میں بہتری لانے سے مسافروں کو روکے رکھنے کے وقت میں دس سے پندرہ منٹ تک کی کمی لائی گئی ہے ۔بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے لئے کائونٹروں میں اضافہ کیا گیا ہے اور نمونے جمع کرنے کے کائونٹروں میں بھی اضافہ کر کے اُنہیں 6 سے 12  کیا گیا ہے ۔قواعد و ضوابط میں نرمی برتنے سے لوگوں کے عبورو مرور میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں جموں وکشمیر یوٹی میں براستہ لکھن پور یومیہ 6000 سے 7000 تک مسافر آتے جاتے ہیں۔ دریں اثنا  بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے لئے کٹھوعہ میں روزانہ مسافروں کے لئے علیحدہ گرین کائونٹر قائم کئے گئے ہیں۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے عملے کو ان نئے قائم کئے گئے کائونٹروں پر تعینات کیا گیا ہے ۔حکومت نے کمشنر سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم کو لکھن پور میں مسافروں کی آمد رفت پر نظر رکھنے کے لئے انچارچ مقرر کیا ہے ۔اُنہوںنے متعدد اِقدامات اُٹھائے ہیں جن میں بین ریاستی بسوں سے مسافروں اور مزدوروں کو لکھن پور میں اتارا جاتاہے ۔ ان مسافروں کاکووِڈ۔19 ٹیسٹ رپیڈانٹی جن کِٹس کو استعمال میں لا کر عمل میں لایا جاتا ہے  اور اس کے بعد ایس آر ٹی سی بسوں میں انہیںچڑھایا جاتاہے ۔منفی ٹیسٹ کے نتائج رکھنے والے مسافروں اورمزدورں کو اپنے منزلوں کو روانہ کیا جاتا ہے اور مثبت معاملات بشمول ڈرائیور وں کو کٹھوعہ ضلع میں قائم کئے گئے کووِڈ۔19 مراکز میںمنتقل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اپنی گاڑیوں میں سفرکرنے والے مسافروں کو لکھن پور میں خود ہی اعلان کرنا ہوتا ہے جسے وقت میں روکے رکھنے کے وقت میںکمی آئی ہے ۔ قریباً ایک سو ڈرائیوروں کا یومیہ لکھن پور سے جموں وکشمیر آنے پر کووِڈ ۔19 ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔ مثبت معاملات والے مسافروں کو کووِڈ۔19کیئرمراکزمیں داخل کیا جاتا ہے۔بیمار لوگوں اور ایمبولنسوں کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کیا جاتاہے لیکن انہیں لکھن پور میں اپنے منزل پر روانہ ہونے میںمدد کی جاتی ہے ۔
 
 

جمعیت ہمدانیہ کامیرواعظ کی رہائی کامطالبہ

سرینگر// جمعیت ہمدانیہ نے میر واعظ مولوی عمر فاروق کی خانہ نظر بندی کو ختم کرنے اور جیلوں میں نظربند کشمیری نوجوانوں کو رہا کرنے مطالبہ کرتے ہوئے مرکز سے سخت گیر پالیسی کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایک بیان میں جمعیت ہمدانیہ نے میرواعظ کی خانہ نظر بندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے دینی فرائض کو انجام دیں سکیں۔جمعیت ہمدانیہ کا کہنا تھا کہ خاندان میرواعظ کئی صدیوں سے کشمیر میں دینی فرائض،تبلیغ دین انجام دے رہا ہیں جبکہ اس خاندان نے کشمیر میں دانشگاہوں،اسکولوں اور درسگاہوں کا قیام عمل میں لایا جہاں لاکھوں طلاب علم کے نور سے منور ہوئے ۔
 
 
 
 

حقانی ٹرسٹ کی ربیع الاوّل پر مبارکباد

سرینگر// حقانی میموریل ٹرسٹ نے ربیع الاوّل کی آمد پرعوام کو مبارک باد پیش کی ہے۔ ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ربیع الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے حضورؐکی روشن تعلیمات اور نورانی اخلاق کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر و شرک اور جہالت کی تاریکیوں کو دور کردیا بلکہ بدعات اور رسومات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق و شرافت اور سنت و شریعت کے زیور سے آراستہ کردیا۔ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈارنے بھی ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خدائے بزرگ وبرتر نے روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں پر اپنے بے حساب انعامات و احسانات فرمائے۔ حقانی ٹرسٹ سے وابستہ اداروں، تحریک اسلامی جموں و کشمیر، ابن حقانی یوتھ فاونڈیشن ،دارلعلوم حقانیہ سویہ بگ ، دارلعلوم قریشیہ شیری بارہمولہ دارلعلوم سلطان العارفین ترچھل پلوامہ ، دارلعلوم شاہ ولی اللہ ست بونن کپوارہ اور دارالعلوم لبیک یا رسول اللہؐ سوپور کے منتظمین ، اساتذہ اور طلبا نے بھی  اس عظیم ماہ کی آمد پر مبارکباد پیش کی ہے۔
 
 
 

الطاف بخاری کی عثمان مجید سے تعزیت

سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے پارٹی کے نائب صدر عثمان مجید کے بہنوئی غلام محی الدین وانی کی وفات پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی پیغام میں بخاری نے کہاکہ مرحوم نامور سیاسی وسماجی قرار تھے جنہوں نے بانڈی کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں جس کے لئے انہیں ہرکوئی یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ’’دکھ اور صدمے کی اس گھڑی میں ، میں اپنے پارٹی ساتھی اور دوست عثمان مجید، اُن کے اہل خانہ، رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ کھڑا ہوں اورا للہ سے دعاگو ہیں کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت ہو اور غمزدہ کنبہ کو یہ ناقابل ِ تلافی نقصان بردداشت کرنے کی ہمت عطا ہو‘‘۔پار ٹی کے دیگر لیڈران نے بھی غمزدہ کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ 
 
 

آرینز کالج کو تعلیم کے شعبہ میں |  بہتر کارکردگی کیلئے ایوارڈ

سرینگر//آرینزگروپ آف کالجز کو شعبہ تعلیم میں بہتر کارکردگی کیلئے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ فیڈریشن آف انڈین چیمرس کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے کالج کے چیئرمین ڈاکٹر انشو کٹاریہکو پیش کیا گیا۔FICCIکی چیئرپرسن منت کوٹھہاری اس موقع پر موجود تھیں۔FICCI کی سوشل ویلفیئر ونگ سربراہ امن سندھو بھی اس موقع پر موجود تھیں ۔انہوں نے ڈاکٹر کٹاریہ کو یہ ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرینز تعلیم کے میدان میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر کتاریہ کو مومنٹو پیش کرنے کے بجائے ایک پیڑ لگایا گیا۔
]
 
 
 

پلوامہ میںمزاحیہ مشاعرے کا اہتمام

 سرینگر// ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے زیر اہتمام آن لائن مزاحیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے  شعراء نے شرکت کی اوراپنا مزاحیہ کلام پیش کیا۔یہ مشاعرہ اتوار رات دیر گئے ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے وٹس اپ گروپ پر منعقد ہوا جس میں سرینگر ،پلوامہ ، کپوارہ، ہندوارہ، شوپیان، اننت ناگ اور جموں کے شعراء نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے صدر غلام رسول مشکور نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا ۔ مشاعرے میں ایوب صابر،پریم ناتھ شاد،غلام رسول مشکور،ڈاکٹر شوکت شفا،جلال الدین دلنواز،مقبول فیروزی،شمس سلیم،سید جوہر،دلکش مظفر،شوکت ثاقب پوشپوری،گل شکیل ترالی،تاج النساء،شاکر فاروق،غمگین مجید،عبد الرحمٰن جنگل ناڑی،عبد الرشید پنجگامی،غلام محمد جنگل ناڑی،سید ممتاز قابلِ ذکر ہے۔