بھدرواہ ہسپتال میں بیداری کیمپ منعقد | بیٹیوں کے حقوق ، جائیداد میں حصہ داری اور گھر یلو تشد پر روشنی ڈالی گئی

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
بھدرواہ// ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کی جانب سے بھدرواہ ہسپتال میں حمل گرانے کی برائی اور بیٹیوں کی اہمیت کے موضو ع پر ایک روزہ بیداری کیمپ منعقد کیا گیا جس میں بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر عبدا لحمید زرگر مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈاکٹر ورشا کوتوال ، ڈاکٹر ورشا شرما ، ڈاکٹر مونیز ، ڈاکٹر سندیپ شرما نے بھی اس موقعہ پر شرکت کی ۔اس دوران ایڈووکیٹ محمد ماجد ملک ریسورس پرسن تھے جنہوں نے موضوع پر قانونی لحاظ سے تفصیلی روشنی ڈالی ۔ اپنے خطاب میں ایڈووکیٹ محمد ماجد ملک نے کہا کہ 1961میں ہی بیٹیوں کی حفاظت کے لئے سخت قانون  تشکیل دیئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں لڑکوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور لڑکیوں کو بوجھ مانا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں کسی سے کم نہ ہیں اور جہاں بیٹیوں نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آزادی کے بعد بیٹیاں اور لڑکیاں زندگی کے ہر ایک شعبے میں پیش پیش ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فرائض انجام دے رہی ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کر رہی ہیں ۔ایڈووکیٹ محمد ماجد ملک نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے بھی کچھ لوگ پیٹ میں ہی بچی کا پتہ لگا لیتے ہیں اور اس سلسلہ میں سخت قانون بھی تشکیل گیا ہے جبکہ سیکشن 312 سے سیکشن 316انڈین پینل کوڈ میں سخت سزا بھی ہے جس کے تحت سات سال کی سزا سے لے کر عمر قید کی سزا ہے، اگر کسی نے بھی جان بوج کر بیٹی کو پیٹ میں ہی قتل کیا یا کروایا ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں آئین کے دفعہ 21کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کا حق آئینی ہے اور کوئی بھی اس کو چھین نہیں سکتا اور جب بچہ ابھی پیٹ میں ہی ہوتا ہے تو کئی آئینی حقوق اس کو مل جاتے ہیں ۔انہوں نے میڈیکل ٹرمی نیشن پرگ نینسی ایکٹ   1971پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ایڈووکیٹ محمد ماجد ملک نے بیٹیوں کی جائیداد میں حصہ داری اور گھریلو تشد ایکٹ کے موضوع پر بھی خطاب کیا اور تفصیل سے بیٹیوں کے حقوق بتائے ۔
 

تازہ ترین