پونچھ کے کیرنی مندھار کی محصور بستی | جہاں شام 5بجے سے صبح 8 بجے تک زندگی کا پہیہ ٹھپ ہوجاتاہے

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


عشرت حسین بٹ
پونچھ//حدِ متارکہ کے آس پاس کے گائوں کے لوگوں کی زندگیاں ویسے بھی آئے دن کی گولہ باری سے اجیرن رہتی ہیں لیکن کچھ بستیاں ایسی بھی ہیں جو ایک طرح کی کھلی جیلیں ہیں جہاں کے لوگ اپنی مرضی سے نہ تو اپنے گھر جا سکتے ہیں اور نہ ہی وہاں سے نکل سکتے ہیں۔ایسی ہی کہانی سرحدی ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ کیرنی مندھار علاقہ کے ایک ہزار سے زائد لوگوں کی ہے جو حدِ متارکہ پر بچھائی گئی تار کے اس پار رہتے ہیں جنہیں فوج کی جانب سے فینس کارڈ دستیاب کیا گیا ہے جو صبح 8بجے اپنے گھروں سے اپنے کام کاج کے لئے نکل تے ہیں اور ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شام کو ٹھیک 5بجے اپنے گھر کو واپس پہنچ جائیں۔اس دوران اگر کوئی بھی شخص  شام 5بجے کے بعد پہنچے تواسے اپنے ہی گھر جانے کی فوج کی جانب سے اجازت نہیں دی جاتی ۔ علاقہ میں سرکار کی جانب سے طبی خدمات کاکوئی بھی بندوبست نہیں اور اگر رات کے وقت کوئی بیمار ہوجائے تو اسے ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ۔ یہ علاقہ ہندو پاک سرحد کا عین قریب واقع ہے جس میں صبح 8 بجے سے قبل اور شام 5 بجے کے بعد انسان تو انسان چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی ۔ علاقہ میں فوج کی جانب سے ایک گیٹ لگایاگیا ہے جو صبح 8بجے کھلتا ہے اور شام 5بجے بند ہو جاتا ہے ۔ اس علاقہ میں رہنے والے لوگوں کو فوج کی طرف سے فینس کارڈ دیا گیا ہے جس کے حوالے سے ہی ان کو اس علاقہ میں آنے جانے کی اجازت وقتِ مقرہ پر دی جاتی ہے۔ مقامی سرپنچ سعید احمد حبیب نے لوگوں کی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مندھار کیرنی پنچایت کے پانچ ایسے وارڈ ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد آبادی آباد ہے جو گزشتہ کافی عرصہ سے شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک اپنے ہی گھروں میں محصور ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے اس علاقہ میں بس رہے لوگوں کے لئے فینس کارڈ دیا گیا ہے جس کی بدولت وہ اپنے گھروں میں آجا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس علاقہ میں کوئی شادی کی تقریب ہو یا کوئی موت ہوجائے تو اس میں شرکت کیلئے باہر سے آنے والوں کو متعلقہ حکام سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔
 

تازہ ترین