عارضی ملازمین کی ہڑتال جاری | دربار مو کے بعد جموں میں سیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے پر آمادہ

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں// جموں و کشمیر کیجول لیبررز فرنٹ کے ذریعہ 9 نومبر کو جموں میں سیول سیکریٹریٹ کھلنے کے دن سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے کاپروگرام تیار کیاجارہاہے ۔عارضی ملازمین کی تنظیم کے صوبائی صدر عمران پرے نے بتایا’’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت نے ہماری باقاعدگی سے متعلق کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا، ہم 61ہزار سے زائد عارضی ملازمین مختلف محکمہ جات میں دن رات 25 سال سے زیادہ عرصہ سے کام کررہے ہیں‘‘۔پرے نے کشمیرعظمیٰ بتایا کہ انہوں نے 1995-96 سے کام کیا ہے اوروہ بھی اس وقت جب عسکریت پسندی عروج پر تھی اور کوئی دوسرا شخص محکموں کی خدمت کے لئے تیار نہ تھا۔عمران پرے نے کہا’’وادی کشمیر میں 10 سے زائد عارضی ملازمین نے خودکشی کرلی ہے اور بہت سے دوسرے فرائض کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر حکومت کی طرف سے کوئی مالی مدد یا نوکری نہیں دی گئی ‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہم کم سے کم اجرت والے محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ قلیل سی اجرت بھی وقت پر نہیں دی جاتی‘‘۔انہوں نے کہا کہ عارضی ملازمین اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر حکومتی اسکیمیں چلاتے ہیںمگر ان کے ساتھ ہر درجہ ناانصافی کی جارہی ہے۔ صوبائی صدر جموں تنویر حسین نے بتایا کہ 10000 سے زائدعارضی ملازمین نے مختلف مقامات پرسرکاری محکموں کو اپنی زمین کا عطیہ کیا ہے اوروہ اب بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔ان کاکہناتھا’’ہم عارضی ملازمین سے ملاقاتیں کررہے ہیں، 20 اکتوبر کو ہم مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے سرینگر اور 22 اکتوبر کو ضلع گاندربل میں ایک مظاہرہ کرنے جارہے ہیں‘‘۔انہوں نے بتایا کہ سرینگر میں وہ محکمہ سیاحت کے عارضی ملازمین کی حمایت میں مظاہرے کریں گے کیونکہ 2014 سے ان کی اجرت جاری نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس آر او 520 کے تحت اس وقت کی پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت نے 400 سے زائد ملازمین کو باقاعدہ بنایا مگر باقی ابھی تک دربدر ہیں۔
 

تازہ ترین