کووڈ19منفی رپورٹ کاتقاضابدستور جاری | شیطان نالہ کا چیک پوسٹ مسافروں کے لئے باعث پریشانی

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


محمد تسکین
بانہال // عالمی وبا کورونا وائرس کے پھوٹ پڑنے اور جموں وکشمیر میں لاک ڈائون کے نفاذ کے ساتھ ہی جموں سرینگر شاہراہ پر بانہال کے شیطان نالہ علاقے میں مسافروں کی چیکنگ کیلئے ضلع انتظامیہ رام بن کی طرف سے ایک انتظامی چیک پوسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھاجواحتیاطی تدابیر کے ساتھ سفری اجازت کے باوجود مسافروں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے اور حکام اسے جواہر ٹنل کے دونوں اطراف مسلسل ریڈ زون کے زمرے میں ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔شاہراہ پر سفر کرنے والے کئی مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مرحلہ وار طریقے سے لاک ڈائون ہٹائے جانے اور شاہراہ پر کووڈ شرائط کے مطابق سفر کرنے کی سرکاری اجازت کے باوجود شیطان نالہ پر چیکنگ کے جاری سلسلے سے عام مسافر تنگ آئے ہیں اور یہاں ابھی بھی کووڈ منفی رپورٹ کا تقاضا کیا جاتا ہے اور وادی کشمیر سے جموں جانے والے مسافروں کو واپس بھی لوٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے مرکزی وزیر اور صوبائی انتظامیہ شاہراہ پر بغیر کسی پابندی یا پاس کے سفر کرنے کا اعلان کرتے ہیں ،وہیں دوسری طرف پہلے جواہر ٹنل پر اور اب شیطانی نالہ کے مقام انتظامی چیک پوسٹ بدستور متحرک ہیں اور یہاں وادی کشمیر سے جموں آنے والی تمام مسافر گاڑیوں کو روکا جاتا ہے اور کووڈ رپورٹ طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیطان نالہ کے مقام پر مسافر گاڑیوں کوروک کرمسافروں سے کووڈ منفی رپورٹ طلب کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو واپس جانے یا آگے بڑھنے میں مزید کئی گھنٹوں کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں سرینگر شاہراہ پر کسی بھی دوسری جگہ پر کورونا سے متعلق کوئی چیکنگ نہیں کی جاتی ہے تاہم بانہال سے 12کلومیٹر دور شیطانی نالہ کے مقام پر قائم چیک پوسٹ پر مسافروں سے کووڈ منفی رپورٹ اور پاس طلب کئے جاتے ہیں اور زور زبردستی کرکے مجبور مسافروں کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شیطان نالہ پر تعینات کئی سرکاری ملازمین جو بطور مجسٹریٹ کام کرتے ہیں ،نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ ضلع انتظامیہ رام بن کے احکامات کی عمل آوری کر رہے ہیں اور کسی بھی مسافر کو آگے کا سفر جاری رکھنے کیلئے ضروری کاغذی دستاویزات پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے بغیر جموں کی طرف مسافروں کو نہیں چھوڑا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران مسافروں کے ساتھ بحث و تکرار ہونا روز کی بات ہوتی ہے اور کئی بار مسافروں کے ساتھ گرم گرفتاری بھی ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسافر سفر جاری رکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کے کووڈ نمونہ موقعہ پر ہی محکمہ صحت کے ملازمین کی طرف سے لئے جاتے  ہیں اور ان کے نتائج بھی جلد ہی دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسافروں کو ان کی منزل پر پہنچ کر ہی ٹیسٹ وغیرہ لئے جاتے ہیں اور اس کیلئے وہاں کے متعلقہ مجسٹریٹ، ایس ڈی ایم یا تحصیلدار کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسافر سفر کیلئے ضروری دستاویزات کیساتھ نہیں ہوتے ہیں انہیں واپس وادی کشمیر کی طرف بھیجا جاتا ہے اور بعض معاملات ضلع انتظامیہ اور سب ضلع انتظامیہ بانہال کی نوٹس میں بھی لائے جاتے ہیں جہاں کووڈ رپورٹ کے بغیر مسافروں کو چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ لیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ضلع مجسٹریٹ رام بن ناظم زئی خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جواہر ٹنل کے دونوں اطراف مسلسل ریڈ زون کے زمرے میں آتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں کووڈ چیک پوسٹ ابھی بھی قائم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل کے علاقے میں چیکنگ کا یہ سلسلہ اگلے احکامات تک جاری رہے گا اور اس کیلئے مسافروں کو تعاون کرنا چاہئے۔
 

تازہ ترین