تازہ ترین

فلوویکسین کورونا سے نہیں بچاتا | جاڑے میں اسپتالوں کو دبائو سے بچانے کیلئے مفت ویکسین مہم لازمی: ماہرین

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر // کشمیر میں وبائی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی وبائی بیماری کورونا وائرس کی موجودگی کے درمیان  انفلنزا اور چھاتی کی دیگر بیماریوں میں متوقع اضافہ سے بچنے کیلئے عمر رسیدہ افراد اور مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو انفلنزا ویکسین لگانا لازمی بن گیا ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سردی کے ایام کے دوران انفلنزا اور چھاتی کے دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوتا ہے اورامسال کورونا وائرس کی موجودگی میں صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں وبائی بیماریوں کے ایک ماہر ڈاکٹر نے بتایا ،’’ موجودہ دور میں صرف ایک ایسی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلو ویکسین سے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے مدافعتی نظام میں مضبوطی آتی ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے کہا ’’ فلو ویکسین کشمیر میں سردی کے ایام کے دوران لوگوں کو انفلنزا سے بچاسکتا ہے لیکن کورونا وائرس سے بچانے کے شواہد ابھی سامنے نہیں آئے ہیں‘‘۔سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ کورونا وائرس کے روزانہ سینکروں کیس سامنے آرہے ہیں اورآنے والی سردیوں میں یہ صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرسکتی ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے کہا کہ یورپی ممالک میں سردیوں کے ایام کے دوران کورونا وائرس کیسوں میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ میں یہ صورتحال ہر آنے والے دن کے ساتھ ابتر ہورہی ہے‘‘۔سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ سردیوں کے دوران اسپتالوں کا رش کم کرنے کیلئے لوگوں کو انفلنزا ویکسن لگانا لازمی بن گیا ہے ۔‘‘۔مذکورہ سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’کینسر، گردوں، چھاتی ، شوگر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو ویکسین لگانے سے مریضوں کی متوقع تعداد پر قابو پایا جاسکتا ہے‘‘۔کشمیر میں ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن کہتے ہیں کہ ہم نے سرکار سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں، معمر اشخاص اور بچوں کو مفت ویکسین فراہم کریں ‘‘۔کشمیر میں وبائی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا ’’ سردی کے ایام کے دوران انفلنزا اور چھاتی کے دیگر امراض میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن عالمی وبائی بیماری کے دوران ہم سردیوں میں متوقع مریضوں کی تعداد کو ویکسین لگا کر کم کرسکتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ انفلنزا کیسوں میں اضافے سے صورتحال کافی سنگین رخ اختیار کرسکتی ہے‘‘۔ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ سردی کے ایام کے دوران کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے اور ایسی صورتحال میں سردیوں کے دوران انفلنزا اور چھاتی کے دیگر بیماریوں پر قابو پانا لازمی بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی موجود گی میں جموں وکشمیر سرکار کو مہلک بیماریوں میں مبتلا لوگوں اور عمر رسیدہ افراد کیلئے مفت ویکسین کا انتظام کرناچاہئے۔