تازہ ترین

کانگریس دفعہ370کوبحال نہیں کرسکتی:جاوڈیکر

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//دفعہ 370سے متعلق کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم کے بیان پر مرکزی وزیر پرکاش جاوڈ یکر نے شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس فیصلے پر بھارت کے لوگوںنے خوشی کااظہار کیا ہے، کانگریس صرف بیان بازی کرسکتی ہے اس کو پھر بحال نہیں کرسکتی۔ سی این آئی کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جموں وکشمیر میں پھر سے دفعہ 370 نافذ کرنے کی وکالت کے بعد مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکرنے اُنہیں نشانے پرلیا ۔ پرکاش جاوڈیکر نے پوچھا کہ کیا بہار اسمبلی انتخابات  کے لئے کانگریس پارٹی اپنے انتخابی منشور میں اس کا ذکر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا، کانگریس جانتی ہے کہ دفعہ 370 کے ہٹانے کے فیصلے کا ملک کے لوگوں نے خیرمقدم کیا تھا۔ اس لئے وہ ایسا صرف بول سکتی ہے، کرکے نہیں دکھا سکتی۔پی چدمبرم کے بہانے پرکاش جاوڈیکر نے راہل گاندھی کی بھی تنقید کی۔ پرکاش جاوڈیکر نے کہا، کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی اپنی تقریروں کی تعریف کرتے ہیں۔ چاہے موضوع کوئی بھی ہو۔ راہل گاندھی ہمیشہ ہی پاکستان اور چین کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی کا نظریہ ہے۔بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے بھی کانگریس کی تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کے پاس بہترانتظامیہ کے ایجنڈے پر بات کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے، اس لئے بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے وہ ’’ہندوستان کو تقسیم کرو، کے گندے ہتھکنڈے‘‘ پر واپس آگئی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا،’ ’چونکہ کانگریس کے پاس بہترانتظامیہ کے ایجنڈے پر بات کرنے کو کچھ نہیں ہے، وہ بہار الیکشن سے پہلے ’ہندوستان کو تقسیم کرو’ کے گندے ہتھکنڈے پر واپس آگئے ہیں‘‘۔ راہل گاندھی پاکستان کی تعریف کرتے ہیں اور پی چدمبرم کہتے ہیں کہ کانگریس دفعہ 370 کی واپسی چاہتی ہے۔
 
 

جموں کشمیرکی شناخت کو قائم رکھنے کا نیشنل کانفرنس کاعزم  | خصوصی پوزیشن بحالی کی جائے: کمال

سرینگر//جموں کشمیر کی شناخت، انفرادیت اور وحدت کے ایجنڈا کو قائم رکھنے کو نیشنل کانفرنس کا عزم قرار دیتے ہوئے پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے کہا کہ ان کی جماعت اس موقف پر ہمیشہ قائم رہے گی۔ پارٹی کارکنوں اور وفود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو جو خصوصی درجہ آج سے 80برس قبل آئین ہند کے تحت ملا،اس کو بدقسمتی سے دہلی کے سخت گیر اور تنگ نظریہ حکمرانوں نے طاقت کے بل پر منسوخ کیا۔ڈاکٹر کمال کا کہنا تھا کہ مرکز کے اس فیصلے پر انسانیت،جمہوریت اور امن پسند اقوام کے علاوہ بھارت کی سب  جمہوریت نواز جماعتیں نالاں و برہم ہے‘‘۔ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری نے کہا کہ بھارت کے بڑے قانون دانوں کے علاوہ کانگریس کے بڑے لیڈروں اور سیکولر طاقتوں نے واضح کیا ہے کہ کشمیر بھارت میں نہ ضم ہوا ہے اور نا ہی ہوگا،جبکہ اس کی اپنی علیحدہ انفرادیت اور آئینی حیثیت دفعہ 370اور35اے کے تحت ہے،جس کی تائید اولین صدر ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد،اولین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو،سرداد پٹیل،شیاما پرساد مکھرجی اور مولانا ابو الاکلام آزاد نے بھی کی،جبکہ آنجہانی ہری سنگھ جو ملک کشمیر کے خود مختار بادشاہ تھے، نے ہی35اے اور دفعہ370کے تحت ہندوستان سے رشتہ جوڑا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ دہلی معاہدے کے تحت بھی یہ پوزیشن جموں کشمیر کو ملی۔انہوں نے دہلی کے حکمرانوں کو کشمیری عوام کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیریوں کو خصوصی پوزیشن واپس دینے کا مطالبہ کیا۔اس دوران پارٹی کے رکن پارلیمان جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے مرکزی سرکار کو سخت گیر پالیسی ترک کرنے اور4اگست2019کی پوزیشن بحال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کے اس سے منکر ہونے سے ملک کی سالمیت اور آزادی کو نقصان پہنچے گا۔
 
 

ریاستی درجہ کی بحالی | وزیرداخلہ کابیان خوش آئند:حکیم

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے وزیرداخلہ امت شاہ کے اِس بیان کوحوصلہ افزاء اور خوش آئندقراردیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکاریاستی درجہ جلدبحال کیاجائے گا۔ایک بیان کے مطابق پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے وزیرداخلہ کے اِس بیان کو خوش آئندقراردیا۔حکیم یاسین نے مرکزی حکومت پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرکاریاستی درجہ بحال کئے جانے کے وعدے کومزیدکسی تاخیر کے پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ اس قدم سے گزشتہ سال5اگست کو لئے گئے فیصلوں سے پیداہوئی بدگمانیاں دورہوں گی۔حکیم یاسین نے دفعہ370اور35Aکوبھی بحال کئے جانے کا مطالبہ کیا۔