تازہ ترین

کپوارہ اور گاندربل اضلاع میں آبی اول پر بے ہنگم تعمیرات کا سلسلہ جاری

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


اشرف چراغ +ارشاد احمد
کپوارہ+گاندربل//شمالی ضلع کپوارہ کے مختلف علاقوںمیں لاک ڈائو ن کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آبی اول پربے ہنگم تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ضلع کے کرالہ پورہ ،ترہگام ،ہائن ،بمہامہ ،ہایہامہ ،ہندوارہ ،لولاب ،درگمولہ ،آرم پورہ ،برمری سمیت دیگر کئی علاقوںمیں یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہندوارہ قصبہ کے بائی پاس ،براری پورہ ،بھاگت پورہ میںبھی یہ سلسلہ جاری ہے۔چوگل گلورہ ،لنگیٹ ،قاضی آباد ،قلم آ باد ،تارت پورہ ،زچلڈارہ اور ویلگام سے بھی یہ شکایات ہیںکہ ان علاقوں میں اب زرعی اراضی بہت کم نظرآرہی ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ کی سرکاری رہائش گاہ کے متصل مغل پورہ میں بھی آبی اول پر تعمیرات کھڑا کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ کئی سال قبل ان علاقوں میں چارو ں طرف ہر یالی ہی ہر یالی تھی لیکن اب سینکڑ وں کنا ل اراضی ایک کنکریٹ جنگل میں تبدیل ہوچکی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے ان علاقوں میں لوگو ں کو کاشت کاری سے نہ صرف خود کے لئے غذائی اجناس میسر ہو تے تھے بلکہ اضافی چاول اور سبزیاں مختلف بازارو ں میں فرو خت کی جاتی تھیں ۔عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ کہ پورے ضلع میں لینڈ فافیا نے کا شت کاری کرنے والے زمین مالکان کو لا لچ دیکر زمین فرو خت کرائی اور جہا ں پر کا شت کاری کے لئے محکمہ اری گیشن نے نہریں بنائی تھیں ان کا وجود بھی خطرے میں ہے ۔لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے ضلع میں پابندی کے با وجود زرعی اراضی کو رہائشی کا لنیو ں میں تبدیل کرنے کا نہ تھمنے ولا سلسلہ جاری ہے کیونکہ زرعی زمین کے استعمال کے لئے بنائے گئے قوانین اور پالسیو ں کے با وجود بھی کپوارہ میں غیر قانونی طریقے سے زرعی اراضی پر مکانات اور دکانات تعمیر کئے گئے ہیںجس کی وجہ سے زرعی اراضی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور لینڈ فافیا کے سامنے انتظامیہ بے بس نظر آرہی ہے ۔اسسٹنٹ کمشنر ریونیو بشیر احمد بٹ نے اس ضمن میں کچھ کہنے سے معذرت کی۔ادھرضلع گاندربل کے مختلف علاقوں میں بھی آبی اول میں ناجائز تعمیرات کا سلسلہ شدومد سے جاری رہنے سے لوگوں کو تشویش لاحق ہے۔تحصیل گاندربل،واکورہ ،لار کنگن اور گنڈ میں شدومد سے کاروباری مراکز،مکانات اور گودام تعمیر کئے جارہے ہیں۔سمبل سے منیگام تک سال 2010 میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے بائی پاس روڈ عوام کے نام وقف کیا گیا جس کے ساتھ ہی گزرے دس سالوں میں بارسو،کرہامہ،کھرانہامہ،لار ،وتہ لار ،بنہ ہامہ اور منیگام میں آبی اول اراضی میں ریونیو ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے بڑے تجارتی مراکز،دوکانیں اور دیگر کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ 2010 سے لیکر آج تک دس سالوں میں بائی پاس روڈ کے دونوں اطراف میں دھان کی اراضی میں سینکڑوں تجارتی مراکز کھڑے کردئے گئے ہیں۔تحصیل کنگن کے وسن،کچ پارہ،پرنگ اور دیگر مقامات پر پر بڑے بڑے کاروباری مراکز تعمیر کئے جارہے ہیں اور یہ سب ضلع انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل شفقت اقبال نے اس ضمن میںکہا کہ آبی اول میں کسی بھی شخص کو ناجائز تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک دو روز میں کرہامہ اور بارسو کی مفصل رپورٹ طلب کی جائے گی اور اس کے بعد کارروائی کی جائے گی ۔