’ریاست کا در جہ بحال کیا جائیگا، وقت مقرر نہیں‘ | 5یا 6ماہ بعد سب اچھا ہوگا،پہلی ترجیح تعمیر و ترقی:امت شاہ

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


مانٹیرنگ ڈیسک
نئی دہلی //مرکزی وزیر داخلہ ومت شاہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے مرکز کوئی مقررہ وقت نہیں دے سکتا کیونکہ پہلی ترجیح تعمیر و ترقی ہے۔نیوز 18کیساتھ ایک انٹر ویو میں امت شاہ نے کہا ’’ جموں کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال اب بہتر ہوگئی ہے،لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کام کی اچھی شروعات کی ہے اور 5یا 6مہینے کے بعد لوگ خود دیکھیں گے کہ اچھا کام ہوا ہے‘‘۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مرکز کی توجہ جموں کشمیر میں برسوں سے رکے پڑے ،منصوبوں کی تکمیل اور تعمیر و ترقی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے، اس میں تھوڑا وقت لگے گا، کیونکہ جموں کشمیر میں بھی کوویڈ ہے، اس لئے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ ،محبوبہ مفتی اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم کی جانب سے دفعہ 370کی بحالی کے مطالبے پر انہوں نے کہا ’’ خیر ڈاکٹر فاروق اور محبوبہ مفتی کر سکتے ہیں، لیکن پی چدمبرم کے بیان پر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اپنا رد عمل دے‘‘۔ امت شاہ نے کہا کہ کانگریس نے پارلیمنٹ میں بھی دفعہ 370ہٹانے کی مخالفت کی تھی، اور اسکی بحالی پر زور دیا ہے۔جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دینے کے بارے میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا’’میں وقت نہیں بتا سکتا کب تک، لیکن ریاست کا درجہ دیا جائیگا، البتہ میں نہیں مانتا کہ لمبا وقت لگے گا‘‘۔ انہوں نے کہا’’ ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں، ہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور میں نے خود بھی لوگون سے وعدہ کیا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائیگا‘‘۔ انکا کہنا تھا کہ ریاست کے درجے کی بحالی سے قبل اولین ترجیح تعمیر و ترقی ہے، لہٰذا اسی پر توہ مرکوز ہے‘‘۔