نستہ چھن گلی کرناہ ٹنل:مفصل پروجیکٹ رپورٹ کومرکز نے ان دیکھاکر دیا | وزارت دفاع کا گرین سگنل ملا نہ سفر ڈیڑھ گھنٹے کم ہو سکا اور نہ لوگوں کی امیدیں بھر آئیں

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //12ہزار فٹ کی بلندی پر واقع کرناہ کے نستہ چھن گلی مقام پر ٹنل کی تعمیر کیلئے یقین دہانیوں کے باوجود بھی بیکن کی جانب سے مرکزی سرکار کو فراہم کی گئی مفصل پروجیکٹ رپورٹ پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے جس کے سبب کرناہ علاقے کے مکینوں کو موسم سرما کے دوران نا قابل بیان مشکلات و سامنا کرنا پڑرہا ہے۔برفباری کا موسم شروع ہوتے ہی کرناہ اور کیرن کے علاقے وادی کیساتھ کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ درد زہ میں مبتلا خواتین کو کئی کئی کلو میٹر پرانے زمانے کی طرح چارپائیوں کے ذریعہ کپوارہ پہنچایا جاتا ہے۔حال ہی میں مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ اور ہائی ویزنے کہا تھا کہ بیکن حکام نے 
کرناہ کپوارہ شاہراہ پر 6.5کلو میٹر سرنگ کی تجویز پیش کی ہے جس سے کرناہ اور کپواڑہ کے درمیان سفر کو تین گھنٹے سے ڈیڑھ گھنٹہ تک کم کیا جائے گا اوروزارت دفاع کے گرین سگنل کے بعد تعمیرکرنے کا عمل شروع کیاجائے گا ۔معلوم ہوا ہے کہ محکمہ بیکن نے یہاں سرنگ کی تعمیر کیلئے جو ڈی پی آر اور فزیبلٹی رپورٹ مرکزی سرکار کو بھیجی تھی اس کو وزارت دفاع نے دیکھ کر ان دیکھا کر دیا ہے ۔بیکن حکام کا کہنا ہے کہ مرکز کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی اس پروجیکٹ پر تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا جا سکتا ہے ۔کرناہ کپوارہ شاہراہ پر واقع نستہ چھن گلی 12ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور سرما کے موسم میں اس درے پر 12سے15فٹ برف جمع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے لوگ سرما کے دوران پوری دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں، ایسے میں نہ صرف مریض طبی امداد نہ ملنے کے سبب ایڑیا ںرگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتے ہیں بلکہ علاقہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہو کر رہ جاتاہے ۔نستہ چھن گلی جسے سادھنا ٹاپ بھی کہا جاتا ہے ، کے خطرناک درے سے گذرنے کے دوران ابھی تک کرناہ کے قریب 200افراد برفانی تودوں کی زد میں آکر لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہر سال یہ شاہراہ کرناہ کے لوگوں سے قربانی مانگتی ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرناہ کے لوگوں کا یہ مطالبہ 20برسوں سے رہا ہے کہ شاہراہ پر ٹنل تعمیر کیا جائے کیونکہ اس کی تعمیر سے یہاں نہ صرف تعمیر وترقی ہو گی بلکہ پورے سال لوگوں کی آمد ورفت بھی آسان ہو گی ۔کرناہ ٹنل کوارڈی نیشن کمیٹی کے صدر ولی احمد قرشی کا کہنا ہے کہ سرکار کشمیر میں تعمیر وترقی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن تب تک اُن کے یہ دعویٰ سراب ثابت نہیں ہوں گے جب تک  یہاں سرنگ بنانے کا 30سالہ مطالبہ پورا کیا جائیگا۔سیول سوسائٹی کرناہ کے چیئرمین پیر زادہ سراج الدین قریشی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ70 سال میں کرناہ ایک ایسی مثال بن گیا ہے جہاںلوگوں کی زندگی سدھارنے کی کوئی خواہش سرکار کے پاس نہیںہے۔انکا کہنا تھا کہ یہ علاقہ دفاعی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناہ کے لوگوںکیلئے یہ سرنگ ایک لائف لائن ہوگی لیکن اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔