تازہ ترین

ساڑے پانچ ہیکٹراراضی پر ہانگل کنزرویشن سنٹر شکار گاہ 9سال سے تشنہ تکمیل

۔20کروڑ لاگت سے تعمیرہونے والے بریڈنگ سینٹر کا مقصد فوت،نسل ختم ہونے کے قریب

تاریخ    18 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سید اعجاز
ترال //جنوبی کشمیر کے مشہور صحت افزاء مقام شکار گاہ ترال میں20کروڑ روپے کی مالیت سے زیر تعمیر ہانگل کنزرویشن سنٹر 9سال گزر جانے کے باجود بھی تشنہ تکمیل ہے ،جس کے نتیجے میں وادی میں ہانگل کی نسل کی افزائش میں مزید کمی واقع ہورہی ہے ۔5.5 ہیکٹرکنال اراضی پر پھیلے اس سنٹر کو خصوصی طور پر ہانگل کی افزائش کیلئے بنانے کا مقصد تھا۔جسے’ جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ مزکورہ سنٹر کومرکزی محکمہ زو اتھارٹی آف انڈیا کی گائیڈ لائنز پر تعمیر کیا گیا، تاکہ سنٹر سے باہر کا کوئی بھی جانور اس کے اندر نہ جا سکے ۔ وائلڈ لائف وارڑن شوپیان پلوامہ انتسار سہیل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’سنٹر کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہے، اب افزائش کیلئے نر اور مادہ ہانگل کو پکڑ کر یہاں لانا ہے‘‘۔شکارگاہ‘‘ ترال میں زو اتھارٹی آف انڈیاکی معالی معاونت سے سال2011میں 5.5ہیکٹر اراضی پر پھیلی ا راضی پر دو خاص قسم کی تاربندی کر کے’’ ہانگل کنزرویشن سنٹر ‘‘تعمیر کرنے کی غرض سے کا م شروع کیاگیا، تاکہ ہانگل کی افزائش کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر انداز میں دیکھ ریکھ کی جا سکے ۔تاہم 9سال گزر جانے کے باوجود زیر تعمیر اس مرکز کا کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچاہے۔ انتسار سہیل نے بتایا کہ مزکورہ سنٹرکا کام تقریباً مکمل ہے ۔انہوں نے بتایا’ زو اتھارٹی آف انڈیا ‘کے ماہرین کی ٹیموں نے گزشتہ سال سے کئی بار زیر تعمیر سنٹر کا جائزہ لیا اور کچھ تبدیلیاں لانے کے لئے کہا ، جن پر کام آخری مرحلے میں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اب اس سنٹر کو شروع ہونے کیلئے بریڈنگ سٹاک کی ضرورت ہے۔وارڈن نے بتایا اس کیلئے 6مادہ اور3نر ہانگل کو یہاں لانا ہے، جو کئی سال تک بچے دینے کے لئے اہل ہوںتاکہ انکی افزائش بڑھانے کا مقصد پورا ہو سکے۔انہوں نے بتایا جو ہانگل یہاں لانے ہیں،انکی عمر کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ہانگل کے بستیوں کی طرف رخ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ شکار گاہ میں ہانگل کی اپنی ایک خاص تعداد ہے، جو شکار گاہ سے حاجن ترال تک یا کھریو تک گھومتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا ترال میں12سے14ہانگل موجود ہیں،جن کو سال رواں میں بھی دیکھا گیا ہے ۔افسر موصوف نے بتایا کہ اب جنگلات میں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے اور جانوروں میں خوف ختم ہوا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ وادی میں ہانگل کی تعداد میں کمی کے بعد ایک خاص مقصد کیلئے اس مرکز کو تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم 9 سال گزر جانے کے باوجودبھی کام مکمل نہیں کیا گیا ہے۔جس ہانگل کی نسل کو بڑھانے کیلئے اس بریڈنگ سینٹر کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسکی تعداد 5سال پہلے گھٹ کر 186رہ گئی ہے اور اسکی تعداد متواتر طور کم ہوتی جارہی ہے۔ فاریسٹ رینج آفیسر ترال اقبال خورشید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شکارگاہ ایک ایسی جگہ ہے ،جہاں ہانگل کی اپنی آبادی ہے۔ مذکورہ جنگلات سے ہانگلوں کا ایک جھنڈ بستیوں میں نمودار ہونے پر انہوں نے بتایا سال رواں میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مزکورہ جانور جنگلات کے دامن میں موجود باغات میںپانی پینے کی غرض سے نموادر ہوتے ہیں تاہم محکمہ کے ملازمین علاقے میں متحرک ہیں جو کسی بھی جنگلی جانور کو نموادر ہونے کے ساتھ ہی انہیں پکڑ کرواپس جنگل میں چھوڈ دیتے ہیں۔