تازہ ترین

جموں صوبہ کے ہائراسکینڈری سکولوں میں نئے مضامین متعارف کرنے کا معاملہ | اردو اور کشمیری نظرانداز،دیگرکئی شعبہ جات کے تئیں فراخدلی کا مظاہرہ

تاریخ    17 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
 بانہال // جموں صوبہ کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں عوامی مانگ، ضرورت اور تجزیہ کی بنیاد پر نئے مضامین کو متعارف کرانے،نئے مضامین اور زبانوں کیلئے لیکچراروں کی تعیناتی عمل میں لانے اور موجودہ مضامین کے لیکچراروں میں اضافے کو لیکر ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی طرف سے 28 ستمبر 2020 کو 3348 اسامیوں کو پر کرنے کی ایک تجویز پرنسپل سیکریٹری ایجوکیشن کو بھیجی گئی ہے اور اس مجوزہ فہرست میں ضلع رام بن میں اردو کی 3خالی اسامیوں کے مقابلے میں کوئی بھی اسامی پُر نہ کرنے اور کشمیری زبان کے مضامین کو یکسر نظرا ندازکرنے کے خلاف وادی چناب کی کئی ادبی تنظیموں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس تجویز کے منظر عام پر انے اور متعلقین کے ردعمل کے بعد کشمیر عظمیٰ کی طرف سے تحقیق کے دوران حاصل کی گئی دستاویزات کے مطابق چیف ایجوکیشن افسر رام بن کی طرف سے 24 ستمبر 2020 کو ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کو ضلع را م بن کے 22ہائر سکینڈری سکولوں کے پرنسپلوں کی سفارشات اور مانگ پر مینی اپنی رپورٹ اور مضامین کے علاوہ اردو کی تین اسامیوں کو پر کرنے کی سفارشات کی گئی ہیں، لیکن ان سفارشات پر ناظم تعلیم جموں میں کوئی عمل نہیں کی گئی ہے بلکہ مبینہ طور پر منظور نظر افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے اُن مضامین کو تجویز میں رکھا گیا ہے جن کی مانگ ہی نہیں کی گئی ہے۔ ضلع رام بن سے ڈوگری مضمون کیلئے CEO رام بن اور پرنسپلوں نے ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کو کوئی سفارش نہیں بھیجی ہے لیکن ڈوگری کی 8اسامیوں نے تجویز میں جگہ بنائی ہے جبکہ صوبہ جموں کے کشمیری بولنے والے علاقوں میں کشمیری زبان کے مضامین اس تجویز میں کوئی جگہ نہیں بنا سکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع را م بن کے 22پرنسپلوں نے چیف ایجوکیشن افسر رام بن کے ذریعہ 104 اسامیوں کیلئے سفارشات ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کو بھیجی ہیں لیکن ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں نے 104 اسامیوں کے بدلے 186 اسامیاں تجویز میں رکھی ہیں جس میں سے 82 اسامیاں ان مضامین کی ہیں جن کی سفارش کی ہی نہیں گئی ہیں بلکہ یہ اسامیاں مبینہ طور پر منظور نظر افراد کیلئے تجویز کی گئی ہیں۔ ضلع رام بن میں صرف ہائر سیکنڈری سکول کھڑی کیلئے پولیٹیکل سائنس کی ایک پوسٹ سفارش کیلئے بھیجی گئی تھی لیکن محکمہ تعلیم صوبہ جموں کی فراخدلی نے ضلع رام بن میں ایک کے مقابلے میں پولٹیکل سائنس کی 8 اسامیوں کو تجویز میں رکھا ہے، جبکہ محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور اپنے فرض سے غفلت کی وجہ سے ہائر سیکنڈری سکول رام بن میں ایجوکیشن مضمون، گاندھری اور ہائر سیکنڈری سکول گرلز بانہال میں فزیکل ایجوکیشن اسامیوں کی سفارشات بھی ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی مجوزہ تجویز میں جگہ نہیں بنا سکی ہیں۔ اسکے علاوہ ضلع رام بن میں پبلک ایڈمنسٹریشن کیلئے صرف 7 اسامیوں کی مانگ کی گئی ہے لیکن ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن نے 20 اسامیوں کو تجویز میں رکھ دیا ہے، جبکہ چیف ایجوکیشن افسر رام بن اور تعلیمی اداروں کی طرف سے مانگے بغیر ہی مائیکرو کیمسٹری کی 8،ماس کمیونیکیشن کی 4، فائین آرٹ پرنٹنگ اینڈ میوزک میں 2، فوڈ ٹیکنالوجی میں1، بپلک ایڈمنسٹریشن میں 20، مائیکرو بیالوجی میں 10، ای سی سی ای میں 18، ویدک سٹیڈیذ میں4،بزنس ایڈمنسٹر کی 8، فلاسفی کی3 پوسٹ تجویز کی گئی ہیں۔ ضلع رام بن میں ہائر سیکنڈری سکول مہومنگت کا قیام 2005 میں لایا گیا ہے لیکن یہاں اردو کی اسامی ازل سے ہی منظور نہیں کی گئی ہے جبکہ مبینہ طور پر منظور نظر ہندی لیکچراروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہاں ہندی لیکچرار کی اسامی کو منظور کیا گیا ہے جبکہ سب ڈویژن بانہال کے مہو منگت علاقے کی سو فیصدی آبادی اردو پڑھنے اور جاننے والی ہے۔ یہاں دیگر اساتذہ سے اردو پڑھایا جارہا ہے لیکن اردو لیکچرار کی اسامی پر نہ کئے جانے کی وجہ سے یہاں زیر تعلیم گیارہویں اور بارہویں جماعت کے بچے زبردستی کے دیگر مضامین اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ہائر سیکنڈری سکول گاندھری رام بن کا قیام سنہ 2007  میں عمل میں لایا گیا ہے مگر یہاں بھی اردو لیکچرار کی اسامی پہلے سے ہی منظور نہیں کی گئی ہے جبکہ یہاں ہندی کی اسامی منظور کی گئی ہے اور اردو پڑھنے والے بچوں کی تعداد قریب پچانوے فیصدی ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں زیر تعلیم قریب 200 بچوں میں سے سرکاری زبان اردو پڑھنے والا کوئی بچہ سرکاری طور موجود ہی نہیں ہے جبکہ ہندی میں صرف پانچ بچے ہی زیر تعلیم ہیں۔ کئی مقامی لوگوں نے رابطہ کرنے پر کشمیر عظمیٰ سے کو بتایا کہ یہاں کے بچوں کے ساتھ سالہاسال سے چل رہی نا انصافی اور محکمہ تعلیم صوبہ جموں کی مبینہ اردو بیزاری کی وجہ سے ہائر سیکنڈری سکول گاندھری رام بن میں اردو لیکچرار تعینات نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے زیر تعلیم بچوں کو اردو کی تعلیم کیلئے دیگر ہائر سیکنڈری سکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے یا تعلیم جاری رکھنے کیلئے دیگرمضامین کا سہارہ لینا پڑ رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں بیک ٹو ولیج تیسرے مرحلے کے دوران ڈپٹی کمشنر رام بن کے دورے کے دوران لوگوں نے یہ معاملہ زور شور سے اٹھایا اور بدلے میں لوگوں کو یہ معاملہ سنجیدگی سے لینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ہائر سیکنڈری سکول کینٹھی رام بن کیلئے متعلقہ پرنسپل اور چیف ایجوکیشن افسر رام بن نے اردو کی اسامی کو منظور کرنے کی تجویز ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کو دی ہے لیکن اسے بھی مہو منگت اور گاندھری ہائرسیکنڈری سکولوں کی طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ ادبی تنظیموں کے علاوہ والدین نے ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مجوزہ فہرست پر نظر ثانی کریں اور ساز وسامان اور سکول عمارتوں کے بغیر ہی ہائر سیکنڈری سکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں غریب بچوں کی ضروت کے مطابق ہی فیصلہ لیں۔