’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘

سیاسی دھماکہ یا جھوٹی تسلی

تاریخ    17 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
 گپکار ڈیکلریشن پر دستخط کرنے والی قومی دھارے کی تنظیمو ں نے پندرہ اکتوبر کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک میٹنگ میں ’’پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن ‘‘’’ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا ۔چھ تنظیموں پر مشتمل اس اتحاد میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی ، پیپلز کانفرنس ، جموں کشمیر پیپلز موومنٹ ، عوامی نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی ایم شامل ہے ۔کانگریس کے صدر جی ایم میر نے اس اجلاس میں شمولیت نہیں کی ۔ انہوں نے فون پر کسی مجبوری کی بناء پر شمولیت سے معذرت کی تھی تاہم کانگریس کے اندرونی ذرائع کے مطابق ایک قومی جماعت ہونے کی وجہ سے کانگریس کے لئے اس اتحاد میں شمولیت ممکن نہیں حالانکہ اس سے پہلے گپکار ڈیکلریشن پر پردیش کانگریس کے صدر نے دستخط کردئیے ہیں اور حال ہی میں کانگریس کی سینئر لیڈر رجنی پاٹل، جواس وقت جموں و کشمیرامور کی انچارج بھی ہیں، نے گزشتہ سال پانچ اگست کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا تھا لیکن کانگریس کے لئے مشکل یہ ہے کہ اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر کا حل بھی شامل ہے جو اس کے لئے ملکی سطح پر کئی گھمبیر مسائل پیدا کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے ۔
بہرحال اتحادی فورم کے قیام کا یہ واقعہ اس لحاظ سے ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے کہ مختلف الخیال اور ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت میں ہر حد عبور کرنے والی یہ جماعتیں سارے اختلافات بھلا کر ایک اعلانیہ پر متحدہ ہوگئیں ۔جیسا کہ جمعرات کو منعقدہ میٹنگ کے اختتام پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد پانچ اگست 2019ء سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کام کرنا ہے ۔اس سے پہلے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو جو ڈاکہ ڈالا گیا ہم اس غیر آئینی اقدام کیخلاف متحد ہوکر لڑیں گے ۔جمعرات کی میٹنگ کے بعد سجاد غنی لون ان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقی ہوئے اور موجودہ حالات پر ان کے ساتھ طویل گفتگو کی ۔اسی شام یہ خبر بھی آئی کہ اسٹیٹس محکمے کی طرف سے محبوبہ مفتی کوگپکار میں واقعہ سرکاری کوٹھی خالی کرنے کا نوٹس تھمایا گیا ہے ۔محبوبہ مفتی شاید اس کے لئے پہلے ہی سے تیار تھی اور اس سے آگے کیا ہوسکتا ہے اس کا اندازہ بھی انہیں ضرور ہوگا کیونکہ جہاں ان کے لئے پانچ اگست کے بعد کی پوزیشن ناقابل قبول ہے وہیں مرکزی حکومت کے لئے بھی پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن کا مطالبہ ناقابل قبول ہے لیکن اس کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات ایک کھلا اور بہت بڑا چیلنج ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے ملک کیخلاف ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی شہہ پر یہ سازش رچی جارہی ہے ۔اس طرح ایک نئے معرکے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ایک طرف سواکروڑ لوگوں کا ملک ہے اوردوسری طرف ایک چھوٹی سی ریاست کی پہلے ہی سے دبی ہوئی اور بکھری ہوئی مایوس سیاسی جماعتوں کا اتحاد جس کے پاس نہ حکومت کی طاقت نہ فوج کی قوت اور نہ ہی عوام کی حمایت ہے ۔صرف چند امیدیں اور دور کی کچھ کوڑیاں ہیں۔پھر بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ معرکہ کہاں پر اور کیسے اختتام پذیر ہوگا ۔یہ بحث بہت طویل ہے کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں ۔ دونوں کے پاس اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے ٹھوس اور جامع دلیلیں ہیں ۔ سیاست کی دنیا میں جو نظر آتا ہے اس کے پس پردہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے اور جو نظر نہیں آتا ہے وہی نتیجے پیدا کرتا ہے اس لئے ہر بڑے سیاسی واقعے کا صحیح صحیح تجزیہ فوری طور پر نہیں کیا جاسکتا۔
مرکزی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو جو قدم اٹھایا وہ عجلت میں اٹھایا گیا قدم نہیں تھا بلکہ اس کے لئے کافی عرصے سے پس پردہ تیاری بھی کی جارہی تھی اور موافق فضاء تیار کرنے کی کوشش بھی کی جارہی تھی ۔اسی لئے اسے کشمیر کے سلگتے ہوئے آتش فشاں کو سرد کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ حالانکہ ایسا کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا کیونکہ کشمیر میں ایک بھر پور بغاوت تھی اور اس کا ایک بیرونی یا یوں کہئے کہ بین الاقوامی پہلو بھی تھا ۔محبوبہ مفتی نے دفعہ تین سو ستر ہٹانے کا عندیہ پاکر کہا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیر میں بھارت کا جھنڈا تھامنے والابھی کوئی نہیں رہے گا ۔لیکن آج یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کا جھنڈا اٹھانے والے تو ہر جگہ پیدا ہورہے ہیں اور علیحدگی پسند سیاسی محاذ کا جھنڈا اٹھانے والا کوئی نہیں رہا ہے ۔بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسا صرف حکومت ، امن و قانون کی مشنری اور فورسز کی طاقت کے بے لگام استعمال کی وجہ سے ہوا ۔عوام کی بغاوت کو جبر سے دبادیا گیا ۔یہ بغاوت ایک خاموش انقلاب کو اپنے اندر چھپائے ہوئے موجود ہے اور کسی بھی وقت سر اٹھاسکتی ہے ۔لیکن اس کے برعکس ایک خیال یہ بھی ہے کہ بغاوت کی چنگاری قیادت کی بعض فاش غلطیوں اور تحریک کے اندر پنپنے والی علتوں کی وجہ سے سے بجھ گئی ۔سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے وقت ہی اس کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔
 اس وقت جو بات موضوع بحث ہے وہ یہ ہے کہ قومی دھارے کی چھ جماعتوں کا اتحاد گپکار ڈیکلریشن کے لائحہ عمل کے ساتھ کس رفتار کے ساتھ کتنا سفر طے کرسکتا ہے اورکیا نتائج برآمد کرسکتا ہے ۔یہ ایک بہت پیچیدہ سوال ہے ۔جس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی نیت کتنی صاف ہے اور یہ اتحاد کہاں تک قائم رہ سکتا ہے ۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں کبھی کوئی اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کی روایت موجود نہیں ۔قومی دھارے اور مذہبی جماعتیں اس وقت یکجا ہوئی تھیں جب شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کیخلاف جنتا پارٹی کے نام سے اتحاد قائم ہوا تھا ۔ انتخاب میں شکست کے ساتھ ہی یہ وسیع اتحاد جس میں جماعت اسلامی ، میرواعظ مولوی محمد فاروق کی عوامی مجلس عمل ، غلام محی الدین قرہ کی پولٹیکل کانفرنس ، کانگریس اور دیگر بہت ساری جماعتیں شامل تھیں پارہ پارہ ہوکر رہ گیا ۔علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس سے تحریک حریت اور مشترکہ مزاحمتی فورم تک تیس سال کے عرصے میں بار بار بنتے رہے اور ٹوٹتے رہے ۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ چھوٹے بڑے اتحاد بنے اور ٹوٹ گئے ۔اب تاریخ کے اس نازک موڑ پر بننے والا یہ اتحاد کہاں تک آگے بڑھے گا کچھ کہنا مشکل ہے ۔ دوسری اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس اتحاد کو عوام کی کتنی حمایت حاصل ہوسکے گی اسی پر اس بات کا دار و مدار ہوگا کہ یہ کہاں تک قائم رہ پائے گا اور کیا نتائج حاصل کرسکے گا ۔
یہ بات خود نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی بڑے جماعتوں کے رہنما جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اس وقت عوام مایوسی اور بیزاری کی کس نفسیات کے شکار ہیں ۔عوام کی یاداشت بھی کمزور نہیں اور پھر آج انٹرنیٹ کے دور میں اسے یہ یاد دلانے ولے سرگرم ہوچکے ہیں کہ قطبین کے اتحاد سے محبوبہ مفتی کا یہ یقین کہ مسئلہ کشمیر اگر کوئی حل کرسکتا ہے تو وہ موجودہ وزیر اعظم نر یندر مودی ہی ہے اور میں جب بھی مایوس ہوتی ہوں اسی کی طرف رجوع کرتی ہوں ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے بیانات بھی موجود ہیں جن میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک بھولی بسری کہانی قرار دیا تھا ۔عوام کی یاداشت میں یہ واقعہ بھی موجود ہے کہ 1987ء میں مسلم متحدہ محاذ کو شکست کیسے دی گئی ۔اس محاذ کے قیام کی وجہ کیا تھا اور اس کی شکست کے بطن سے سید صلاح الدین کیسے پیدا ہوا ۔محمد یاسین ملک کے ہاتھوں میں بندوق کیسے آئی ۔ یہ سب تو اس انتخاب کا حصہ تھے ۔تاریخ کبھی مرتی نہیں اور مقامی سیاسی جماعتوں کی تاریخ ایسی ہی پینترے بازیوں کی داستاں ہے ۔ اس داستاں کے فریبوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کالائحہ عمل لیکر جب یہ جماعتیں عوام کے پاس آئیں گی تو کیا وہ انہیںوہی اعتماد دے پائیں گی جو انہیں کبھی حاصل تھا ۔ کیا وہ ان کی رہنمائی میں اسی طرح سے سڑکوں پر نکل آئیں گے جس طرح وہ گزشتہ تیس سال سے نکلتے آرہے تھے ۔ اس کے بہت کم امکانات نظر آتے ہیں ۔عوام پوری طرح سے بد اعتمادی کے شکار ہیں۔ انہیں کسی پر بھی کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے کیونکہ ستر سال سے وہ سیاسی دھوکے بازیوں اور فریبوں کے جال میں تڑپتے رہے ہیں۔
اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ دفعہ تین سو ستر کی تنسیخ عوام کی روحوں پر ایک کاری ضرب کی طرح موجود ہے حالانکہ یہ دفعہ کانگریس اور مقامی سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت سے اتنا کھوکھلا ہوگیا تھا کہ اب یہ محض ایک تسلی کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔صر ف 35الف ایک امید اورایک سہارا تھا ۔ اس کے خاتمے سے جن خدشات نے ذہنوں اور دلوں کو گھیر لیا ہے وہ کسی حد تک اس اتحاد کے سہارے کا باعث ہوسکتے ہیں تاہم وہ طاقت انہیںحاصل ہونا اس کے باوجود بھی مشکل ہے جو کسی کامیابی کے لئے لازم ہے ۔تجزیہ نگار یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ جن جماعتوں کا اتحاد قائم ہوا ہے ان میں سے دو بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس سیاسی وجودباقی رکھنے کے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔اس لئے بادل ناخواستہ انہوں نے یہ راستہ اختیار کرلیا ۔ انہیں چین سے بھی کچھ امیدیں ہیں ، پاکستان سے بھی اور بدلتے ہوئے حالات سے بھی تاکہ مرکز دبائو میں آکر ان کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہو۔ اس صورت میں وہ اپنے راستے کو کوئی بھی موڑ دے سکتے ہیں اگر اس وقت تک ان کا اتحاد باقی رہا ۔
مجموعی طورپر یہ اتحاد کو ئی ایسی دھماکے دار پہل نہیں کہ عوام اس کے ساتھ بڑی امید یں باندھ سکیں ۔عوام خود بڑے پریشان کن حالات سے دوچار ہیں۔ گزشتہ سال کے پانچ اگست کے بعد کے حالات اور پھر کووڈ 19سے پیدا ہونے والے حالات نے ان کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے ۔ وہ ذرا سنبھل جائیں تو اس کے بعد ہی سیاسی خواہشات کے بارے میں ان کاموقف سامنے آسکے گا ۔ وہ ابھی صبروضبط کے ساتھ حالات کو دیکھ رہے ہیں ۔انہیں معلوم ہے کہ کوئی کامیاب نہیں ہے ۔ نہ کشمیر میں امن آیا ہے اورنہ ہی ترقی کی معراج کی پہلی سیڑھی بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔کسی کے دعوے پورے نہیں ہوئے ہیں ۔اس امید کے ساتھ وہ نئے مرحلوں کی نئی تصویریں دیکھنا چاہتے ہیں ۔
 

تازہ ترین