تازہ ترین

کشمیر یونیورسٹی میں شیخ العالمؒ اور مسائل و تناظر پر 2 سمینار

تاریخ    16 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر //کشمیر یونیورسٹی میں’’21ویں  صدی میں ترجمہ: مسائل اور تناظر‘‘پر 2روزہ قومی سطح کا ویبنار کل اختتام پذیر ہوا۔اس کے علاوہ یونیورسٹی میں ’شیخ العالم ؒکی نظموں کے تجزیاتی مطالعہ‘ کے عنوان سے ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا۔گارڈن اکیڈمک پورٹل (جی اے پی) کے تعاون سے یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کے اہتمام سے منعقدہ اس ویبنار میں ملک کے مختلف حصوں سے 100 سے زائد فیکلٹی ممبران اور اسکالروں نے شرکت کی۔افتتاحی سیشن میں یونیوسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر مہمان خصوصی تھے ۔پروفیسر اعجاز محمد شیخ ریجنل ڈائریکٹر ، جی اے پی نے شرکاء کو ویبنار کے مقاصد سے آگاہ کیا جبکہ شعبہ لسانیات کے سربراہ پروفیسر عادل امین کاک نے مطلوب ترجمہ کے مختلف پہلوؤں اور اس کی بین الاقوامی نوعیت کی وضاحت کی۔ ’شیخ العالم ؒکی نظموں کے تجزیاتی مطالعہ‘ کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ’موجودہ دور کے عالمی اور علاقائی منظر نامے میں شیخ العالم ؒ کی امیر وراثت کی تشہیر اور اس کی پاسداری کرنے کی بہت بڑی گنجائش موجود ہے ۔رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر جو تقریب میں مہمان زی وقار کی حیثت سے موجود تھے نے کہاکہ ’شیخ العالمؒکی وراثت کشمیر کے ورثہ اور ثقافت کے لئے ناگزیر ہے اور "ان کی تعلیمات کو نصاب میں شامل کرنے کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔پروفیسر بشیر نے کشمیر میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں شیخ العالم ؒؒکے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ ان کی نظموں کو سمجھنے اور نوجوان نسل تک ان کی رسائی بنانے کی ضرورت ہے۔اس سیمینار میں آف لائن اور آن لائن طریقوں سے اسکالروں ، ادیبوں ، شاعروں ، ماہرین تعلیم اور معروف شخصیات کی کہکشاں نے شرکت کی۔پہلے اور دوسرے تکنیکی سیشنوں کی صدارت بالترتیب پروفیسر مجروح رشید اور پروفیسر فاروق فیاض نے کی۔ تکنیکی سیشنوں کے دوران 15 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ 400 شرکاء آن لائن موڈکے ذریعے سیمینار میں شامل ہوئے۔