تازہ ترین

نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا پریس کالونی میں احتجاج

ٹیوشن فیس میں 50 فیصد رعایت کا مطالبہ

تاریخ    16 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
 سرینگر//ٹیوشن فیس میں50 فیصد رعایت اور ٹرانسپورٹ فیس کلی طور معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے والد ین نے جمعرات کو پر یس کالونی میں احتجاج کیا ہے ۔نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے ’’پیرنٹس ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ اسکولز کشمیر‘‘کے بینر تلے اپنے مطالبات جس میں خاص کر ٹیوشن فیس میں 50 فیصد رعایت دینے کے حق میں احتجاج مظاہرے کئے ۔احتجاجی ’والدین کو ہراساں کرنا بند کرو، بند کرو، تانا شاہی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی، اصغر سامون ہوش میں آؤ، ہوش میں آؤ‘ وغیرہ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔احتجاج میں شامل والدین کا کہنا کہ پرائیویٹ اسکولوں میں ان سے مختلف ناموں پر فیس وصول کیاجا رہا ہے اور سرکار کی طرف سے پابندی لگانے کے باوجود بھی کئی نجی اسکول والدین سے لاکھوں روپے داخلہ فیس وصولتے ہیںجبکہ سرکاری حکم نامے کو کہیں پر خاطر میں نہیں لاتے ہیں ۔انہوں نے پر الزام عائد کیا ہے کہ سب کچھ پتہ ہونے کے باجودف مزکورہ محکمہ کوئی بھی کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا روال نبھا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر خورشید احمد نے اس موقع پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: 'اسکولوں میں سالانہ چارجز، اسٹیڈی میٹریل، امتحانی فیس وغیرہ کے نام پر ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے حکمنامے کہ اگر کوئی والد فیس ادا نہیں کر پائے گا تو اس کے بچے کو امتحان میں شریک ہونے سے روکا نہیں جائے گا، کے بالکل برعکس ہو رہا ہے'۔انہوں نے کہا کہ داخلہ فیس لینے پر پابندی لگ جانے کے باوجود بھی کئی اسکول والدین سے لاکھوں روپے داخلہ فیس وصولتے ہیں اور والدین کو اس کی رسید نہیں دی جاتی ہے۔موصوف نے کہا کہ اگر ہم متعلقہ محکمہ کے پاس شکایت لے کر جاتے ہیں تو وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہے بلکہ والدین کو ہی ہراساں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ کے پانچ اگست سے ہمارے بچوں نے کچھ بھی نہیں پڑھا لہٰذا ہماری مانگ ہے اس عرصے کی ٹیوشن فیس میں پچاس فیصد رعایت ملنی چاہئے۔خیال رہے سال رواں میں مہلک کورونا وائرس کے نتیجے میں ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے تمام سرکاری کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے ہیں جبکہ کئی ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہنے کے بعد آئن لائن تعلیم بھی فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس پر بیشتروالدین کی شکایت تھی کہ نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث ان کے بچے بہتر انداز میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔