کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    16 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ساس بہو کا رشتہ :

محبت پانے کیلئے محبت کا روّیہ اپنانے کی ضرورت

سوال:۱-بہو اور ساس کے درمیان کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو ساس کی خدمت نہ کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی ۔ شریعت کی رو سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
بہو اور سسر میں کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو سسر کی خدمت نہ کرے تو کیا گنہگار ہوگی او راگر ساس اور سسر بہوکوہروقت کام کے لئے ڈانٹیں او ربُرا بھلا کہیں کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا نہیں ؟
ساس بہو کو طعنے دے ،بُرابھلا کہے۔ لوگوں میں اسے ذلیل کرے جبکہ اپنی بیٹی ، جب وہ سسرال آئے ،کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جب بہو اپنے باپ کے گھرجائے تو اس کو اچھی طرح رخصت نہ دے اور نہ ہی اس سے خندہ پیشانی سے بات کرے۔
قرآن وحدیث کی رو سے اس دہرے معیار کے لئے ایسی عورت کیا واقعی اللہ کے حضورجوابدہ ہے ۔
جواب:۲-اسلام میں کنبے کا تصور کیا ہے ۔ قرآن وسنت کی روشنی سے تفصیلی روشنی فرمائیں ۔
شبیراحمد ڈار
جواب:۱-ساس اور کا رشتہ نازک بھی ہے اور ہمیشہ کا ہے ۔ اگر ساس بہو پر ظلم وزیاتی کرتی ہے تو بلاشبہ وہ اپنے بیٹے کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کا جرم کرتی ہے۔ جب بہو کا انتخاب کرتے وقت ساس اچھے سے اچھے اخلاق او رحسن سلوک ونرم مزاجی کا مظاہرہ کرتی ہے تو بعد میں اس کا اپنی بہو کوستانا انتہائی سنگین غلطی ہے۔
ہمارے گھریلو اور خاندانی نزاعات کا زیادہ تر حصہ اس ساس بہو کی لڑائی کا شاخسانہ ہوتاہے ۔ 
اگر ساس بہو کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کرتی ہے اور بہو اپنی ساس کے ساتھ وہی روّیہ اپنائے جو وہ اپنی ماں کے ساتھ اپناتی ہے تو تمام جھگڑے ختم ہوجائیں گے مگر دونوں دوپیمانے لئے ہوئے رہتی ہیں۔ ساس کا سلوک اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ اور عام طور پر بہو کے ساتھ کچھ اور ہوتاہے ۔ حالانکہ اُس کو زندگی کا بیشتر حصہ بہو کے ساتھ گزارنا ہوتاہے اور بیٹی اپنی ماں کے ساتھ جیسا شفقت خدمت او رہمدردی کا سلوک کرتی ہے ویسا سلوک وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں کرتی۔ حالانکہ اُس کو اپنی زندگی کا زیادہ تر زمانہ ساس کے ساتھ ہی گزارنا ہوتاہے ۔
ساس بہو کو ستائے یا بہو ساس کی ناقدری کرے اس کا بالواسطہ اثر مرد پر پڑتاہے جو ایک کا بیٹا اور دوسری کا شوہرہے اور اس مرد کی ضرورت دونوں کو یکساں درجہ کی ہے ۔ ان دوقریب ترین عورتوں کی آپسی جنگ میں مرد دونوں طرف سے پستا جاتاہے ۔ اگر وہ ماں کا ساتھ دے تو زوجہ پرظلم ،اور اگر زوجہ کا ساتھ دے تو ماں کی حق تلفی اور پھر اُس کی بددعا ئیں اُس کے حصے میں آتی ہیں اور دونوں صورتوں میں وہ تباہ ہوتاہے ۔ بہو کواخلاقی طور پر اپنی ساس کی خدمت کرنی چاہئے تاکہ وہ جب آئندہ ساس بنے گی تو اُس کو بھی وہی روّیہ اُس کی بہو سے مل سکے ۔ ساس سسر کی خدمت کرنے کا حکم تو بہو کو نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے یہ اُس پر کوئی لازمی حق اور ناگزیر فریضہ نہیں ہے مگر بہو اگر ساس سسرکی خدمت سے مکمل دوری اختیار کرے تو اس کی وجہ سے خوداُس کے شوہر کے لئے مسائل پیدا ہوں گے اور نتیجے میں اس کے اپنے رشتہ پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے ۔ دنیا میں انسان کی کامیابی حسن اخلاق او راچھے رویہ کے ساتھ خادمانہ سلوک پر مبنی ہے ۔ نہ کہ ہٹ دھرمی، انانیت ، اکڑبازی اورضدونفرت پر ۔
دوسرے سے محبت کا سلوک پانے کے لئے یہاں سے محبت کا روّیہ برتنا ضروری ہے جو شخص دوسرے کوستائے اور اس سے محبت کی توقع رکھے وہ نادان ہے۔ جو دوسرے پر ظلم کرے او راُس سے حسن سلوک کی آس لگائے وہ احمق ہے ۔ چاہے وہ تعلیم یافتہ ہویا اَن پڑھ، مالدار ہویا غریب ،اونچے خاندان کا ہو یا پسماندہ طبقے سے ۔
انسان اپنے آپ کو محبوب بناناچاہے تو خودمحبت کا مظاہرہ کرے اور دوسروں سے خدمت لیناچاہے تو پہلے یہاں سے خدمت کرے ۔کامیاب زندگی کے لئے یہی زریں اصول ہیں ۔ ادائیگی ٔ فریضہ زیادہ اہم ہے مطالبۂ حقوق کے مقابلے میں ۔اگر ہم اپنے فرائض ادا کریں تو دوسرے کے حقوق ادا ہوجاتے ہیں او ردوسرا جب اپنے فرائض انجام دے گا تو ہمارے حقوق ادا ہوجائیں گے۔ آج کے عہد میں حقوق کی حصولیابی کی مہم ہرطرف ہے مگر ادائیگی فرائض کی فکر کم ہی ہے ۔ظلم زبان سے ہو یا ہاتھ سے ، بُرا طرزِ عمل او رغلط رویہ جیسے بھی اپنایا جائے وہ بہرحال گناہ ہے ۔ حضرت بنی علیہ السلام نے فرمایا کامل مسلمان وہ ہے جو اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے ۔ 
اس لئے ساس اپنی بہو کے ساتھ وہی سلوک کرے جیسا وہ اپنی بیٹی کی ساس سے چاہتی ہے او ربہو اپنی ساس کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنی ماں کی بہو سے اُمید کرتی ہے بلکہ مطالبہ کرتی ہے ۔
جواب:۲-اسلام نے نہ تو مشرکہ خاندان کا حکم دیاہے اور نہ ہی الگ الگ ہونے کا حکم دیاہے ۔ ہاں اسلام نے والدین ،اولاد اور بہن بھائیوں کے حقوق ہرحال میں لازم کئے ہیں ۔ ان حقوق کی ادائیگی چاہے مشترکہ خاندا ن میں رہ کر کی جائے یا الگ الگ ہوکر کی جائے ۔ درست ہے لیکن اگر حق تلفی ہو ،والدین اور بہن بھائیوں پر ظلم کیا جائے اور اولاد کو ستایا جائے تو یہ جرم بھی ہے او راس سے زندگی تلخیوں بلکہ مصیبتوں کی آماجگاہ بن جاتی ہے چاہے خاندان مشترکہ ہویا الگ الگ ہوں ۔ اس لئے اصل حکم ادائیگی حقوق اور اجتناب ظلم ہے ۔
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے یہ نہیں کہاہے کہ کون سا ذریعہ معاشی اختیار کیا جائے ۔ ملازمت ، تجارت ، زراعت ، صنعت ،  مزدوری جوچاہیں اختیار کریں مگر جوبھی ذریعہ آمدنی ہو وہ حلال ہو، لوٹ کھسوٹ اور حرام سے محفوظ ہو چاہے وہ ملازمت ہو یا تجارت ، زراعت ہو یا مزدوری۔
اسی طرح اسلام نے یہ نہیں کہاکہ خاندان مشرکہ رکھو یا الگ الگ رہو۔
ہاں یہ حکم دیا ہے کہ ہرحال میں حقوق اداکرو ۔ظلم وناانصافی سے پرہیز کرو۔ والدین کے حقوق خدمت ،راحت رسانی ،ضروریات کی کفالت اور مشکلات میں تعاون اور شفقت وہمدردی بھی لازم ہیں اور بیوی بچوں بہن بھائیوں کے تمام حقوق ، تعلیم، پرورش ، تربیت ،ضروریات کا انتظام اور شفقت ومحبت کے ہرقسم کے جذبات ومظاہرے پیش کرنا ضروری ہے۔
چاہے ایک ساتھ ہوں تو بھی یہ سب لازم ہے اور الگ الگ ہوں تو بھی یہ بہرحال لازم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجسّموں سے دوکانوں آرائش حرام 

س:۱-کئی دوکانوں پر مال واسباب کی تزئین وآرائش اور گراہکوں کوراغب کرنے کے لئے انسانی مجسّموں کا سہار الیا جاتاہے ۔ کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟
س:۲-کئی جگہوں پر جب دُلہن سسرال پہنچتی ہے تو اس کے قدموں میں بھیڑ ذبح کی جاتی ہے ۔ اس کا کھانا اور ایسا عمل کرنا کیسا ہے ؟
س:۳-نقلی دانت لگوانے ،دانتوں میں فیلنگ کرنا،اس طرح کے دوسرے طبی ضابطوں کا شریعت کی رو سے کیا حکم ہے ؟
س:۴-بالوں اور داڑھی میں کون سا خضاب استعمال کرسکتے ہیں ۔ ہربل ، کالی مہندی ،حنا ہیر کلر وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں کیا ؟
حبیب اللہ ماترگامی
جواب:۱-فیشنوں کی ترغیب دینے والے اور بے حیائی کی کھلی دعوت دینے والے یہ مجسّمے متعدد اعتبار سے حرام ہیں ۔اولاً مجسمہ بنانا ،اپنی دوکانوں کے آگے لگانا ہی حدیث کی رو سے حرام ہے ۔ چنانچہ حدیث میں ہے جو شخص مجسمہ بنائے اُس کو قیامت میں کہاجائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالو ۔ جب وہ روح ڈال نہ سکے گا تو اس پر اُس کو عذاب ہوگا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ سب سے سخت عذاب مجسمہ بنانے والوں کو ہوگا ۔(بخاری مسلم)
اب اگر کوئی بنے بنائے مجسمہ کو اپنے کپڑوں کی دُکان پرکھڑا کرے تو یہ بھی حرام ہے ۔ اس میں فیشن کی دعوت بھی ہے اور ننگے پن کی ترغیب بھی ۔ یہ دراصل اسلامی تہذیب کو مٹانے کی خاموش تلقین بھی ہے اور یہ غیر اسلامی لباس پہننے کی ذہنیت پیدا کرنے کا عمل بھی ہے اور غیر شرعی طریقہ اپنا کر اپنا بزنس چلانے کا فعل بھی ہے ۔یہ تمام وجوہات اس کے عدم جواز کے اسباب ہیں ۔
جواب:۲-دُلہن کے سامنے بھیڑ بکری ذبح کرنا سخت حرام ہے اور جو جانور ذبح کیا گیا وہ مُردار ہوگیا اُس کا کھانا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے ۔ یہ سراسر غیر شرعی عمل ہے ۔ اس کو سختی سے روکنا لازم ہے اور جو اس سے پرہیز نہ کرے اُن کی شادی میں شریک ہونا بھی دُرست نہیں ہے ۔ 
جواب:۳- دانتوں میں ہرقسم کی فیلنگ کرنا دُرست ہے ۔مصنوعی دانت لگانابھی درست ہے ۔ ایک صحابی نے پہلے چاندی کی ناک پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے سونے کی ناک لگوائی تھی ۔اس کا واقعہ ترمذی میں موجودہے اُس صحابی کا نام حضرت عُرفطہ تھا ۔
جواب:۴- داڑھی او ربالوں میں مہندی یا زعفران کاخطاب درست ہے ۔کالی مہندی لگانا جائز نہیں ہے۔اس سے عمر چھپانے کا کام کیا جاتاہے اس لئے حدیث میں اس کی ممانعت ہے ۔
 

مسئلۂ عُشر۔ ایک ضروری تصحیح

کشمیر عظمیٰ کے اسی کالم میں پچھلے دو شماروں میں عُشر کا ایک مسئلہ غلطی کی اصلاح کے لئے دو مرتبہ شائع ہوا۔ لیکن سوئے اتفاق کہ دوسری مرتبہ تصحیح کے باوجود مسئلہ پھر غلط شائع ہوا۔ پہلی مرتبہ ایک طرح کی غلطی تھی۔ دوسری مرتبہ دوسری قسم کی غلطی ہوئی۔ دونوں مرتبہ کی غلطی کی درستگی کے لئے جن اہل علم حضرات نے توجہ دلائی اللہ جل شانہ ن کے علم و عمل و قبولیت میں مزید اضافہ فرمائے۔ ہماری طرف سے وہ مستحق دعا بھی ہیں اور مستحق تشکر بھی۔فجزاھم اللہ خیر الجزاء
اب صحیح مسئلہ یہ ہے:
باغ اگر پھل پیدا ہونے یا پھل پکنے سے پہلے فروخت کیا گیا۔ تو عشر خریدار پر لازم ہوگا۔ اور اگر پھل پکنے یاپکنا شروع ہو جائے (بدوصلاح) کے بعد باغ  کا میوہ فروخت کیا گیا تو عشر باغ کے مالک یعنی فروخت کرنے والے پر لازم ہوگا۔ 
دوسرا مسئلہ: عشر کی ادائیگی میں دوا پاشی اور میوہ کی اترائی کا خرچہ منہا نہیں ہوگا۔البتہ بھرائی کی مزدوری ، پیٹی خرچہ اور ڈھلائی تا فروختگی تک کے سارے خرچے وضع کئے جائیں اس کے بعد بقیہ رقوم کا عشر ادا کیا جائے۔
ادارہ معذرت کے ساتھ قارئین سے درخواست کرتا ہے کہ مسئلہ کی تصحیح فرما لیں اور جن ائمہ و خطباء حضرات کا معمول ہے کہ وہ اس کالم میں شائع شدہ مسائل خطبات جمعہ میں بیان کرتے ہیں وہ بھی خاص توجہ فرمائیں۔ اور اپنے عوامی بیان میں بھی تصحیح کا اعلان فرمائیں۔
 

تازہ ترین